دبئی(العربیہ ڈاٹ نیٹ)شام نے ملک کی موجودہ داخلی شورش کے بارے میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری عمرو موسیٰ کہ اس بیان پر کڑی تنقید کی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ شام میں حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ صدر بشار الاسد کو مظاہرین کے مطالبات تسلیم کر لینا چاہئیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عرب لیگ میں شام کے مستقل مندوب یوسف احمد نے لیگ کے جنرل سیکرٹری کے بیان پر نکتہ چینی اور ان کے بیان کو غیر متوازن قرار دیا۔
قاہرہ میں ایک بیان میں مسٹر یوسف احمد کا کہنا تھا کہ عمرو موسیٰ نے شام کی داخلی صورت حال بارے جو بیان دیا ہے وہ جانبداری کا عکاس ہے۔ اُنہیں شام کی صورت حال بارے بات کرنے سے قبل یہ دیکھ لینا چاہیے تھا کہ آیا وہ کون سے ہاتھ ہیں جو شام کا امن تاراج کر رہے ہیں اور وہ کس کے ایجنڈے پر چل کر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔
شامی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جمہوری اصلاحات کے مراحل سے گذر رہا ہے۔ عوام کے جمہوری مطالبات مانے جا رہے ہیں۔ ہماری افواج ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑکے عوام کو تحفظ دلانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے میں عمرو موسیٰ کی جانب سے یہ مطالبہ کرنا کہ شام مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرے تو یہ بات بے معنی معلوم ہوتی ہے۔
خیال رہے ایک روز قبل قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں عمرو موسیٰ نے کہا تھا کہ انہیں شام میں سرکاری فوج کے ہاتھوں سولین کی ہلاکتوں پر گہری تشویش ہے۔ شامی حکومت احتجاج کرنے والے عوام کے حقوق دلانے کے بجائے انہیں کچل کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے جس سے ملک کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
عمرو موسیٰ نے کہا کہ عرب لیگ شام کی داخلی شورش فرو کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے تاہم عرب لیگ میں شام کی صورت حال کے بارے میں ممبر ممالک میں اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شام میں سرکاری فوج کے ہاتھوں سولین کی ہلاکتوں کے بارے میں ہم جو کچھ سن رہے ہیں، وہ نہایت افسوسناک ہے۔ شام کو اسی حالت میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ شام میں قیام امن اور مظاہرین کے مطالبات کے بارے میں عرب لیگ کے رکن ممالک کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ تین ماہ قبل لیبیا میں عوامی بغاوت کے بعد جب سلامتی کونسل نے نیٹو کو کرنل قذافی کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دی تھی تو عرب لیگ نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ عرب لیگ کی جانب سے شام کے خلاف بھی سخت لہجہ ایسے وقت میں اختیار کیا گیا ہے جب یورپی ممالک سلامتی کونسل میں شام کے خلاف مذمتی قرارداد لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔