صنعا(العربیہ ڈاٹ نیٹ) یمن کے دارالحکومت صنعا میں آج نماز جمعہ کے بعد کم سے کم ایک لاکھ افراد نے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اورانھیں اقتدار سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
صنعا کے تبدیلی چوک میں حکومت مخالف مظاہرے میں شریک ہزاروں افراد نے صدر صالح کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ وہ مکمل اقتدار نائب صدر عبدالہادی منصور کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔عبدالہادی منصور اس وقت ملک کے قائم مقام صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ حزب اختلاف اور مظاہرین ایک نئی عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔
صنعا ہی کے ایک اور حصے میں صدر علی عبداللہ صالح کے محل کے باہر ان کے ہزاروں حامیوں نے بھی مظاہرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر بہت جلد صحت یاب ہوکر وطن لوٹیں گے۔متحارب دھڑوں کے درمیان فوری طورپر لڑائی کی کوئی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔
جمعہ 3جون کو یمنی صدرعلی عبداللہ صالح صنعا میں صدارتی محل کی مسجد میں بم حملے میں بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور اس وقت وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں زیرعلاج ہیں۔ان کے زخمی ہونے کے بعد آج ان کے خلاف یہ سب سے بڑا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
یمنی صدر کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انھیں اب ملک میں واپس نہیں آنا چاہیے۔ان کے حامی ان کی واپسی کے حق میں ہیں جبکہ امریکا اور سعودی عرب ان سے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے پیش کردہ انتقال اقتدار کے فارمولے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
صنعا میں گذشتہ ہفتے کے دوران حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے قبائلی سردار شیخ صادق الاحمر کے حامی جنگجوٶں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن اس وقت سعودی عرب کی ثالثی کے نتیجے میں فریقین کے درمیان جنگ بندی جاری ہے۔
یمن کے دوسرے بڑے شہر تعز میں بھی صدرصالح کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔حکومت مخالف مسلح افراد اور سرکاری فوج کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ اس شہر میں گذشتہ چارماہ کے دوران صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف مظاہروں میں ہزاروں افراد شرکت کرتے رہے ہیں اورانھوں نے یمنی صدر کی ایک حملے میں زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب منتقلی کے بعد بھی ان کے مخالفین نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہواہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر صالح کو ملک واپس نہیں آنا چاہیے۔
ادھر جنوبی یمن میں مشتبہ علاحدگی پسندوں کے ایک چیک پوائنٹ پر حملے کے بعد لڑائی میں پانچ فوجی اور ایک تین باغی مارے گئے ہیں۔ یمنی حکام کے مطابق اس علاقے میں گذشتہ تین ماہ کے بعد تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی یمن کے صوبے لہج کے شہر الحبلین کے نواح میں باغیوں نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کردیا جس کے بعد باغیوں اور فوجیوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔اس علاقے میں علاحدگی پسندی کی مسلح تحریک چل رہی ہے اور باغی جنوبی یمن کی آزادی یا اسے مزید علاقائی خودمختاری دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ صدر علی عبداللہ صالح کی قیادت میں شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان 1990ء کے عشرے میں اتحاد ہواتھا لیکن اس کے کے بعد جنوبی یمن میں 1994ء میں خانہ جنگی شروع ہوگئی تھی۔جنوبی یمنی عوام صنعا حکومت پر اپنے علاقے کو نظرانداز کرنے کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔
یمن کے ایک اور جنوبی شہر زنجبار میں بھی سکیورٹی فورسز اور القاعدہ کے جنگجووں کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی ہورہی ہے۔یمنی حزب اختلاف کا صدر علی عبداللہ صالح پر الزام ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر القاعدہ کو زنجبار پر قبضہ کرنے کا موقع فراہم کیا تھا اور وہاں سے سکیورٹی فورسز کو ہٹا لیا گیا تھا تاکہ وہ دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ اگر انھوں نے اقتدار چھوڑا توالقاعدہ ملک پر قبضہ کرلے گی اور ملک میں ایک سکیورٹی خلا پیدا ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب یمن سے تعلق رکھنے والی جزیرہ نما القاعدہ کی سرگرمیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔زنجبار کی آبادی پچاس ہزار سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے لیکن وہاں القاعدہ کے جنگجوٶں کے قبضے اور لڑائی کے بعد قریب قریب پورا قصبہ خالی ہوچکاہے اور اس قصبے میں پانی اور بجلی بھی منقطع ہے۔اس علاقے میں امریکا نے بھی القاعدہ کے جنگجووں کے خلاف اپنی کارروائیاں شروع کررکھی ہیں۔