دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ) شام کے شمالی قصبے جسرالشغور میں سکیورٹی فورسز نے مزید اٹھائیس افراد کو ہلاک کردیا ہے جس کے بعد اس قصبے میں صدر بشارالاسد کے مخالفین کو کچلنے کے لیے گذشتہ دو روز سے جاری کریک ڈاٶن کارروائی میں مرنے والوں کی تعداد اڑتیس ہوگئی ہے جبکہ شام کی حزب اختلاف نے اسد حکومت کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ایسی کوئی بات چیت ایک مذاق ہوگا۔
لندن میں قائم شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ شمالی قصبے جسرالشغور میں سکیورٹی فورسز نے حکومت کے خلاف مظاہرے میں شریک افراد کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی ہے اوراس قصبے میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مکینوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔
رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ جسرالشغور میں مرنے والوں میں چھے پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔اس قصبے میں ہفتے کے روز مظاہرین کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی جو اتوار کو بھی جاری رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گذشتہ روز دس افراد مارے گئے تھے اور آج اٹھائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
شام کی سرکاری نیوزایجنسی سنا نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ جسرالشغور میں مسلح دہشت گرد گروپوں کے سرکاری عمارتوں اورپولیس اسٹیشنوں پر حملوں میں چھے سکیورٹی اہلکارہلاک اور بیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔سرکاری نیوزایجنسی کی اطلاع کے مطابق مسلح گروپ ہفتے سے سرکاری عمارتوں پر حملے کررہے ہیں اور انھوں نے متعدد سرکاری اور نجی عمارتوں کو نذرآتش کردیا ہے۔
رامی عبدالرحمان اور دوسرے کارکنان کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے وسطی شہر حمہ کے نواحی علاقے اور جنوبی دیہات سے ٹینکوں کو واپس بلا لیا ہے۔حمہ میں جمعہ کو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پینسٹھ مظاہرین مارے گئے تھے۔ان کے سوگ میں اتوار کو شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی ہے اور بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز بند تھے۔
جنوبی شہردرعا کے قریب واقع دوقصبوں ہراق اور داعل سے بھی فوج کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ان دونوں قصبوں میں شامی سکیورٹی فورسز کی کریک ڈاٶن کارروائیوں میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حمہ میں جمعہ کو مارچ کے وسط سے حکومت کے خلاف جاری مظاہروں میں سب سے بڑی ریلی نکالی گئی تھی جس میں پچاس ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد وہ پناہ کے لیے لوگوں کے گھروں کی جانب لپکے تھے اور وہ وہاں سے فائرنگ کا سلسلہ رکنے تک باہر نہیں آئے۔
واضح رہے کہ 1982ء میں بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کے دورحکومت میں بھی حمہ میں اخوان المسلمون کے کارکنان کے خلاف سکیورٹی فورسز نے کریک ڈاٶن کارروائی کی تھی جس کے دوران حکومت مخالفین پرفضائی بمباری کی گئی تھی جس سے کم سےکم تیس ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف پندرہ مارچ کو جنوبی شہر درعا سے حالیہ عوامی تحریک کا آغاز ہواتھا۔تب سے جاری مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور کریک ڈاٶن کارروائیوں میں ایک ہزاردو سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں ، ہزاروں افراد زخمی ہیں اور دس ہزار سے زیادہ شہریوں کو جیلوں میں بند کردیا گیا ہے یا پھر وہ غائب کر دیے گئے ہیں۔
مذاکرات ایک مذاق
ادھربرسلز میں شامی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے دوروزہ کانفرنس کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاٶن جاری رہنے کی صورت میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ایک مذاق ہوگا۔
شامی انقلاب کے لیے حمایت کے نام سے قومی مصالحتی اتحاد کی کانفرنس میں چُنے گئے ایک نمائندے عبیدہ نہاس نے ایک نیوزکانفرنس کے دوران کہا کہ اس وقت حزب اختلاف کی کوئی بھی شخصیت اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے تو شامی عوام اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی میز پر نہیں بیٹھ سکتے جس کے دوسری جانب قاتل بیٹھے ہوئے ہوں۔ان کا اشارہ شامی حکومت کے عہدے داروں کی جانب تھا۔نہاس اور کانفرنس میں شریک دوسرے نمائندوں نے غیرملکی حکومتوں اور اقوام متحدہ پر زوردیا کہ وہ بشارالاسد کی حکومت پر سیاسی اور قانونی دباٶ بڑھائیں۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ شامی حکومت پر عالمی برادری کا مزید دباٶ چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ہی عوام کی آواز کو سننے کو تیار نہیں۔ایک اور نمائندے اسامہ منجد نے کہا کہ اپوزیشن شخصیات اسد حکومت کے خلاف قانونی مقدمات داَئر کرنے کے لیے کام کررہی ہیں۔یہ مقدمات امریکا کی وفاقی عدالتوں ،متعدد یورپی عدالتوں اور ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں قائم کیے جائیں گے۔