’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق زاہدان کی جامعات و یونیورسٹیزمیں سرگرم علمی وثقافتی انجمنیں ہرتعلیمی سال کے آخرمیں بلوچ گریجویٹس کے اعزازمیں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں، لیکن اس سال صوبائی حکام کی مخالفت اور اجازت نہ دینے کی وجہ سے یہ تقریب منعقد نہیں ہوگی۔
سالانہ تقریب میں بلوچ پروفیسرز، لیکچرارز، علمائے کرام، فارغ التحصیل طلباء اور ان کے گھروالے شریک ہوتے ہیں جس میں اسلام میں علم کی اہمیت، طلباء کی حوصلہ افزائی اور گریجویٹس طلباء کو مزید اعلی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
’سنی آن لائن‘ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق صوبائی حکام نے سخت مخالفت کے بعد بالاخر اس شرط پر تقریب کے انعقاد کی اجازت دی تھی کہ دارالعلوم زاہدان سے منسلک علمائے کرام تقریب میں شریک نہ ہوں، مجبور ہوکر تقریب کے منتظمین نے تنگ نظر حکام کی اس عجیب شرط کو بھی قبول کرلی تھی مگر اس کے باوجود متعلقہ حکام نے اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
یاد رہے مذکورہ اعزازی تقریب خالصتا ایک علمی تقریب ہے جو مسلسل کئی برسوں سے ہر تعلیمی سال کے آخر میں منعقد ہوتی ہے، رواں تعلیمی سال میں پہلی مرتبہ یہ تقریب ممنوع قرار پائی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان