- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

امریکا:دہشت گردوں کے ایک ڈالر کے بدلے15لاکھ ڈالر کاخرچہ

amrican-afghanنیویارک(فارن ڈیسک)دہشت گردوں کے ایک ڈالر خرچ کے بدلے امریکا15لاکھ ڈالر خرچ کر رہا ہے، امریکا نے نائن الیون کے حملے کے بعد سے اسامہ بن لادن کی ہلاکت تک ملٹری آپریشن پر ایک ٹریلین ڈالر خرچ کردئیے،اس کے علاوہ دہشت گردی کے حملوں کے پیش نظر سیکورٹی اقدامات،سفر نطام، شہری آزادیوں اور وفاقی قوانین کے اطلاق کی کوششوں میں اربوں ڈالر خرچ کیے گئے ان تمام پر مجموعی اخراجات1984کا کلی قومی خسارے سے زیادہ ہے۔

ایف بی آئی کے ذرائع کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں میں دہشت گردوں نے4لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ جب اس سے قبل دنیا میں ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعات میں دنیا کا پہلے ٹریڈ سینٹر1993 ،کینیا اور تنزانیہ کے سفارت خانوں پر بم حملے1998،یو ایس ایس کول بم حملے2000،ریاض کے بم حملے2003میں دہشت گردوں نے50ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ نہیں کیے۔ دہشت گردوں کے ایک ڈالر خرچ کے بدلے امریکا15لاکھ ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔امریکی معیشت تباہی سے دوچار ہے۔افغان اور عراق جنگ میں6ہزار سے زائد امریکی ہلاک ، ایک لاکھ سے زائد زخمی جن میں زیادہ تر دماغی مفلوج ہوئے ۔روزانہ18خودکشیاں ہوتی رہی۔
گیارہ ستمبر2001میں دہشت گردی کے حملے میں3ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔افغان اور عراق جنگوں پر تقریباً5ٹریلین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔پہلی عالمی جنگ کے اخراجات اس وقت32ارب ڈالر تھے جو کہ امریکا کی مجموعی پیداوار کے نصف تھے جب کہ 9/11 کے بعد جنگوں اور سیکورٹی اقدامات پر دس سال میں امریکا کی کل14ٹریلین کی معیشت میں6ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے۔
امریکا نے دوسری عالمی جنگ سے مختلف آپریشن میں4.1ٹریلین خرچ کیے۔دس سالوں میں امریکا نے اسامہ کی تلاش میں پاکستان اور افغانستان میں ابتدائی تخمینے کے مطابق 450ارب ڈالر خرچ کر دیئے جب کہ عراق میں2003سے8سو ارب ڈالر خرچ کیے ۔
29مارچ2011کی کانگریشنل ریسرچ رپورٹ کے مطابق کانگریس نے9/11کے بعد ملٹری آپریشن کے لئے1.283ٹریلین ڈالر منظور کیے ۔ عراق پر806ارب ڈالر، افغانستان پر444ارب ،سیکورٹی اقدامات پر29ارب اور نامعلوم اخراجات پر 6ارب ڈالر خرچ کئے گئے۔اتحادی افواج کی کل ہلاکتیں7211 جب کہ عراق میں2006سے شہری ہلاکتیں655000سے زائد ہوئیں۔