اسلام آباد(بى بى سى) پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپریل دو ہزار گیارہ کے وسط تک امریکہ کے ساتھ ایبٹ آباد اور اس کے مضافات میں غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے.
وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہیں معلومات کی بنیاد پر امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے اپنی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مدد سے اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور اس امر کو امریکی صدر اور سیکریٹری خارجہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔’
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپریل دو ہزار گیارہ کے وسط تک امریکہ کے ساتھ ایبٹ آباد اور اس کے مضافات میں غیر ملکوں کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے
پاکستان نے پیشگی اطلاع دیے بغیر امریکی آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستبقل میں ایسے یکطرفہ آپریشن سے نہ صرف پاکستانی تعاون خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ ایسا کوئی آپریشن عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ادھر سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی معلومات کو پاکستان سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ اس خوف کی وجہ سے کیا گیا تھا کہ یہ راز افشا کر دیا جائے گا۔
لیون پنیٹا نے ٹائم میگزین کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ اطلاعات کا تبادلہ اس مشن کو ناکام کر سکتا ہے۔
جبکہ وائٹ ہاوس نے اب کہا ہے کہ جب اسامہ بن لادن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تو وہ اس وقت مسلح نہیں تھے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ اسامہ نے مزاحمت کی جس پر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مسلح نہ ہونے کے باوجود اسامہ نے مزاحمت کیسے کی۔
جے کارنی نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو اس آپریشن کے دوران اسامہ کے گھر میں موجود مسلح افراد کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایبٹ آباد اور کے مضافاتی علاقے سن دو ہزار تین کے بعد سے خفیہ اداروں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور انہیں خفیہ معلومات بنیاد پر آئی ایس آئی نے سن دو ہزار چار میں القاعدہ اہداف کے خلاف کامیاب آپریشن کیا تھا۔
’جہاں تک امریکہ کی طرف سے نشانہ بنائی جانے والی عمارت کا تعلق ہے، اس کے بارے میں آئی ایس آئی سی آئی اے اور دیگر دوست ملکوں کے خفیہ اداروں کے ساتھ سن دو ہزار نو تک انٹیلیجنس کا تبادلہ کرتا رہا ہے۔‘
اس سے پہلے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے کہا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی ادارے کے لیے سخت ہزیمت کا باعث بنی ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے حکام نے بتایا کہ جس مکان میں اسامہ بن لادن پناہ لیے ہوئے تھے انہیں اس کے بارے میں 2003 سے پتہ تھا۔
بی بی سی کے اوئن بینٹ جونز کے مطابق آئی ایس آئی کے ایک افسر نے بتایا کہ سنہ 2003 میں جب یہ مکان زیرِتعمیر تھا اس پر القاعدہ کے ایک اور رہنما ابو فراج اللبی کی تلاش میں چھاپہ مارا گیا تھا جو اس وقت کے سربراہِ حکومت جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں مطلوب تھے۔
تاہم بعد ازاں اس مکان کی نگرانی کا سلسلہ ختم کر دیا گیا اور اب پاکستانی خفیہ ادارے یہ نہیں جانتے تھے کہ وہاں اسامہ بن لادن موجود ہیں۔
پاکستان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایبٹ آباد میں آپریشن کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر پاکستانی غازی ائربیس سے اڑے تھے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایبٹ آباد میں آپریشن سے متعلق کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی۔
پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقوں اور ایسی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئےپاکستان میں داخل ہوئے جو ریڈار پر نہیں آتے ہیں۔
پاکستان نے کہا پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے امریکی ہیلی کاپٹروں کا پتہ نہیں چل سکا لیکن جوں ہی اسے ایبٹ آباد میں جاری آپریشن کے بارے میں اطلاعات ملی تو پاکستان فضائیہ کے ہوائی جہاز منٹوں میں ہوا میں فضا میں بلند ہوئے جس کو وائٹ ہاؤس کے مشیر جان برینن نے بھی تسلیم کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے ایبٹ آباد میں نشانہ بنائے جانے والےگھر کی دیواروں کے حوالے سے جاری بحث کے بارے میں کہا کہ پاکستان میں ایسےگھروں کا وجود کوئی انہونی بات نہیں ہے اور خصوصاً ایسے گھر جہاں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے متاثرین رہتے ہیں وہاں مقامی روایت کے مطابق دیواریں اونچی ہوتی ہیں۔
اسامہ بن لادن کے خاندان کے افراد کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور ان میں سے جن کو طبی امداد کی ضرورت تھی انہیں امداد دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے کہا کہ پاکستانی قانون کے تحت ان افراد کو ان کے آبائی ممالک کے حوالے کر دیا جائے گا۔ دفتر خارجہ نے کہا پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر امریکہ نے جس ا نداز میں یہ آپریشن کیا ہے پاکستان کو اس پر شدید تحفظات ہیں۔
پاکستان نے کہا کہ مستبقل کے ایسے یکطرفہ آپریشن اس جنگ میں پاکستانی تعاون کو نہ صرف خطرے میں ڈال سکتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی مدد سے القاعدہ اور دوسری دہشتگرد تنظیموں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور امریکہ اور دوسری دوست ممالک کو القاعدہ کے خلاف جنگ میں کامیابیاں پاکستانی مدد سے ہی ملی ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف پاکستانی خفیہ ادارے کے لیے باعثِ شرمندگی ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے اس علاقے میں موجود تھا اور وہ اس سے لاعلم تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ’ہم کارکردگی میں اچھے ہیں لیکن ہم خدا نہیں ہیں‘۔
خفیہ ادارے کے حکام نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن کی بارہ سالہ بیٹی پاکستانی حکام کی تحویل میں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے امریکیوں کو اپنے والد کو گولی مارتے دیکھا تھا۔
حکام کے مطابق ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے وقت اس گھر میں سترہ سے اٹھارہ لوگ موجود تھے اور اگر امریکی ہیلی کاپٹر تباہ نہ ہوتا توامریکی کمانڈوز تمام افراد کو ساتھ لے جاتے۔
آئی ایس آئی کے ایک اہلکار نے صحافیوں کی بتایا کہ امریکی صرف اسامہ بن لادن کی لاش اور ایک دوسرے شخص کو جو شاید اسامہ بن لادن کے بیٹے تھے، زخمی حالت میں اپنے ساتھ لےگئے۔
آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کی بیوی سے بھی بات چیت کی ہے جنہوں نے ہوش میں آنے کے بعد بتایا کہ وہ یمنی نژاد ہیں اور وہ لوگ اس گھر میں کچھ ماہ پہلے ہی منتقل ہوئے تھے۔
کارروائی کے دوران اس کمپاؤنڈ میں متعدد بچے اور عورتیں موجود تھے جن کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے اور ان کے خیال میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ سے انہیں ساتھ اس لیے نہیں لے جایا گیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی فوجی جاتے ہوئے جن چار لاشوں کو اس مکان میں چھوڑ گئے ان میں سے ایک اسامہ بن لادن کا بیٹا، دو بھائی اور ایک سکیورٹی گارڈ تھا۔
اس حملے میں جو افراد بچ گئے ان میں اسامہ بن لادن کی ایک بیوی، ایک بیٹی اور آٹھ سے نو بچے ہیں۔ ایک لڑکی کے علاوہ باقی بچے بظاہر اسامہ بن لادن کے نہیں ہیں۔
آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کی بیوی سے بھی بات چیت کی ہے جنہوں نے ہوش میں آنے کے بعد بتایا کہ وہ یمنی نژاد ہیں اور وہ لوگ اس گھر میں کچھ ماہ پہلے ہی منتقل ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں چار ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے جن میں سے دو نے لینڈنگ کی۔ آئی ایس آئی کے اہلکار نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ آپریشن سے ایک گھنٹہ پہلے پاکستانی فوجیوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے پڑوسیوں کو بتیاں بجھانے کے لیے کہا تھا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپریل دو ہزار گیارہ کے وسط تک امریکہ کے ساتھ ایبٹ آباد اور اس کے مضافات میں غیر ملکوں کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے
پاکستان نے پیشگی اطلاع دیے بغیر امریکی آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستبقل میں ایسے یکطرفہ آپریشن سے نہ صرف پاکستانی تعاون خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ ایسا کوئی آپریشن عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ادھر سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی معلومات کو پاکستان سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ اس خوف کی وجہ سے کیا گیا تھا کہ یہ راز افشا کر دیا جائے گا۔
لیون پنیٹا نے ٹائم میگزین کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ اطلاعات کا تبادلہ اس مشن کو ناکام کر سکتا ہے۔
جبکہ وائٹ ہاوس نے اب کہا ہے کہ جب اسامہ بن لادن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تو وہ اس وقت مسلح نہیں تھے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ اسامہ نے مزاحمت کی جس پر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مسلح نہ ہونے کے باوجود اسامہ نے مزاحمت کیسے کی۔
جے کارنی نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو اس آپریشن کے دوران اسامہ کے گھر میں موجود مسلح افراد کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایبٹ آباد اور کے مضافاتی علاقے سن دو ہزار تین کے بعد سے خفیہ اداروں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور انہیں خفیہ معلومات بنیاد پر آئی ایس آئی نے سن دو ہزار چار میں القاعدہ اہداف کے خلاف کامیاب آپریشن کیا تھا۔
’جہاں تک امریکہ کی طرف سے نشانہ بنائی جانے والی عمارت کا تعلق ہے، اس کے بارے میں آئی ایس آئی سی آئی اے اور دیگر دوست ملکوں کے خفیہ اداروں کے ساتھ سن دو ہزار نو تک انٹیلیجنس کا تبادلہ کرتا رہا ہے۔‘
اس سے پہلے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے کہا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی ادارے کے لیے سخت ہزیمت کا باعث بنی ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے حکام نے بتایا کہ جس مکان میں اسامہ بن لادن پناہ لیے ہوئے تھے انہیں اس کے بارے میں 2003 سے پتہ تھا۔
بی بی سی کے اوئن بینٹ جونز کے مطابق آئی ایس آئی کے ایک افسر نے بتایا کہ سنہ 2003 میں جب یہ مکان زیرِتعمیر تھا اس پر القاعدہ کے ایک اور رہنما ابو فراج اللبی کی تلاش میں چھاپہ مارا گیا تھا جو اس وقت کے سربراہِ حکومت جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں مطلوب تھے۔
تاہم بعد ازاں اس مکان کی نگرانی کا سلسلہ ختم کر دیا گیا اور اب پاکستانی خفیہ ادارے یہ نہیں جانتے تھے کہ وہاں اسامہ بن لادن موجود ہیں۔
پاکستان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایبٹ آباد میں آپریشن کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر پاکستانی غازی ائربیس سے اڑے تھے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایبٹ آباد میں آپریشن سے متعلق کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی۔
پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقوں اور ایسی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئےپاکستان میں داخل ہوئے جو ریڈار پر نہیں آتے ہیں۔
پاکستان نے کہا پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے امریکی ہیلی کاپٹروں کا پتہ نہیں چل سکا لیکن جوں ہی اسے ایبٹ آباد میں جاری آپریشن کے بارے میں اطلاعات ملی تو پاکستان فضائیہ کے ہوائی جہاز منٹوں میں ہوا میں فضا میں بلند ہوئے جس کو وائٹ ہاؤس کے مشیر جان برینن نے بھی تسلیم کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے ایبٹ آباد میں نشانہ بنائے جانے والےگھر کی دیواروں کے حوالے سے جاری بحث کے بارے میں کہا کہ پاکستان میں ایسےگھروں کا وجود کوئی انہونی بات نہیں ہے اور خصوصاً ایسے گھر جہاں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے متاثرین رہتے ہیں وہاں مقامی روایت کے مطابق دیواریں اونچی ہوتی ہیں۔
اسامہ بن لادن کے خاندان کے افراد کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور ان میں سے جن کو طبی امداد کی ضرورت تھی انہیں امداد دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے کہا کہ پاکستانی قانون کے تحت ان افراد کو ان کے آبائی ممالک کے حوالے کر دیا جائے گا۔ دفتر خارجہ نے کہا پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر امریکہ نے جس ا نداز میں یہ آپریشن کیا ہے پاکستان کو اس پر شدید تحفظات ہیں۔
پاکستان نے کہا کہ مستبقل کے ایسے یکطرفہ آپریشن اس جنگ میں پاکستانی تعاون کو نہ صرف خطرے میں ڈال سکتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی مدد سے القاعدہ اور دوسری دہشتگرد تنظیموں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور امریکہ اور دوسری دوست ممالک کو القاعدہ کے خلاف جنگ میں کامیابیاں پاکستانی مدد سے ہی ملی ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف پاکستانی خفیہ ادارے کے لیے باعثِ شرمندگی ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے اس علاقے میں موجود تھا اور وہ اس سے لاعلم تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ’ہم کارکردگی میں اچھے ہیں لیکن ہم خدا نہیں ہیں‘۔
خفیہ ادارے کے حکام نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن کی بارہ سالہ بیٹی پاکستانی حکام کی تحویل میں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے امریکیوں کو اپنے والد کو گولی مارتے دیکھا تھا۔
حکام کے مطابق ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے وقت اس گھر میں سترہ سے اٹھارہ لوگ موجود تھے اور اگر امریکی ہیلی کاپٹر تباہ نہ ہوتا توامریکی کمانڈوز تمام افراد کو ساتھ لے جاتے۔
آئی ایس آئی کے ایک اہلکار نے صحافیوں کی بتایا کہ امریکی صرف اسامہ بن لادن کی لاش اور ایک دوسرے شخص کو جو شاید اسامہ بن لادن کے بیٹے تھے، زخمی حالت میں اپنے ساتھ لےگئے۔
آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کی بیوی سے بھی بات چیت کی ہے جنہوں نے ہوش میں آنے کے بعد بتایا کہ وہ یمنی نژاد ہیں اور وہ لوگ اس گھر میں کچھ ماہ پہلے ہی منتقل ہوئے تھے۔
کارروائی کے دوران اس کمپاؤنڈ میں متعدد بچے اور عورتیں موجود تھے جن کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے اور ان کے خیال میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ سے انہیں ساتھ اس لیے نہیں لے جایا گیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی فوجی جاتے ہوئے جن چار لاشوں کو اس مکان میں چھوڑ گئے ان میں سے ایک اسامہ بن لادن کا بیٹا، دو بھائی اور ایک سکیورٹی گارڈ تھا۔
اس حملے میں جو افراد بچ گئے ان میں اسامہ بن لادن کی ایک بیوی، ایک بیٹی اور آٹھ سے نو بچے ہیں۔ ایک لڑکی کے علاوہ باقی بچے بظاہر اسامہ بن لادن کے نہیں ہیں۔
آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کی بیوی سے بھی بات چیت کی ہے جنہوں نے ہوش میں آنے کے بعد بتایا کہ وہ یمنی نژاد ہیں اور وہ لوگ اس گھر میں کچھ ماہ پہلے ہی منتقل ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں چار ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے جن میں سے دو نے لینڈنگ کی۔ آئی ایس آئی کے اہلکار نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ آپریشن سے ایک گھنٹہ پہلے پاکستانی فوجیوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے پڑوسیوں کو بتیاں بجھانے کے لیے کہا تھا۔