- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

’’قرآن پرعمل، صدراسلام کے مسلمانوں کی کامیابی کاراز‘‘

molana_24خطیب اہل سنت زاہدان نے جمعہ رفتہ کے خطبے میں صحابہ کرام اور صدر اسلام کے مسلمانوں کی کامیابی کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اسلامی تاریخ کی پہلی صدیوں میں مسلمان ترقی و کامیابی کے عروج پر پہنچے تھے، یہ وہی دور تھا جب مسلمانانِ عالم قرآن وسنت پر عمل پیرا تھے۔ ان کا اخلاق و کردار قرآنی احکامات اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تھا۔ اسی لیے مقام ومرتبے کے لحاظ سے دنیا میں بہترین قرار پائے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مسلمانوں کے عروج کے بعد زوال کے اسباب وعوامل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کے انحطاط وزوال کی بنیادی وجہ قرآن پاک سے دوری ہے۔ جب مسلمانوں نے قرآن وسنت سے دوری اختیار کی تو ان کے متحدہ ممالک کئی ٹکڑوں میں بٹ گئے۔ جب حقوق اللہ اور حقوق العباد کی خلاف ورزی شروع ہوئی، مسلمان نفسانی خواہشات کے دلدادہ ہوئے، برے کاموں کا بازار گرم ہوگیا، قرآن وسنت اور سیرت نبوی کی پیروی کے بجائے یہود ونصاری کی اطاعت کا آغاز ہوا اور مسلمان دنیا کی محبت میں گرفتار ہوئے تو ان کی مشکلات ومصائب اور تزلزل کا تاریک عہد شروع ہوا۔ اللہ تعالی نے ان کی نصرت نہیں فرمائی چونکہ ان کا کردار ناقابل قبول تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ ہوا اور ان کے ازلی دشمن ان پر قابض ہوئے۔

تمام مسائل کا واحدحل رجوع الی اللہ اور قرآنی تعلیمات پرعمل ہے:
حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزید کہا آج اگر مسلمانانِ عالم طرح طرح کے مسائل ومصائب سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک ہی نسخہ ہے اور وہ خالصانہ رجوع الی اللہ ہے۔ اسلام، قرآن وسنت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر صدق واخلاص سے عمل کرنا تمام مصائب کا حل ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے میری جانب آؤ میں تیری طرف لپٹ کر آؤں گا۔ اگر نافرمانی کروگے تو تمہیں سزا دوں گا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا قرآن پاک ایک عظیم آسمانی کتاب ہے جو اللہ رب العزت کے کلام پر مشتمل ہے۔ بہترین شہر میں نازل ہوا اور کائنات کے بہترین فرد کے سینے میں محفوظ ہوا۔ یہی قرآن انسانیت کی کامیابی کی وجہ ہے اگر اس پر عمل کیا جائے لیکن عمل نہ کرنے کی صورت میں مسائل بڑھتے ہی جائیں گے اگر چہ قرآن پاک کو احترام کے ساتھ طاقچوں میں رکھا جائے اور روزانہ اسے چوم لیا جائے۔ قرآن کی اصل جگہ دل ہے اور اس کے احکامات پر عملدرآمد ضروری ہے۔
نامور سنی عالم دین نے مزید کہا: ارشاد خداوندی ہے : ’’ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدّکّر‘‘، بلاشبہ قرآن پاک کا پیغام انسانیت اور مسلمانوں کے نام ہے۔ اگر اس کی تفسیر کی جائے تو کم پڑھے لکھے لوگ بھی بآسانی اس کے مفاہیم کو سمجھ سکیں گے۔ قرآن پاک بعض اکیڈمک سبجکٹس کی طرح نہیں ہے کہ ایک لیکچرار بعض مخصوص طلبہ کو پڑھا سکے مگردوسروں کیلیے ناقابل فہم ہو، قرآن کریم سب کے لیے ہے، چاہے عالم ہو یا لیکچرار، طالبعلم ہو یا کاروباری وزراعت پیشہ۔ البتہ قرآنی ذخائر وعلوم سے بہرہ وری کے لیے کسی ماہر استاذ کے سامنے زانوئے تلمذ لگانا ضروری ہے۔ آج الحمدللہ نوجوانوں میں دینداری کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ مختلف اسلامی ملکوں میں عوامی احتجاجوں کے سرخیل یہی نوجوان ہیں۔

محتاج طلبہ کوان کے مطلوبہ فن کی تعلیم کے لیے فیس کی فراہمی ضروری ہے:
اپنے خطبے کے ایک حصے میں سرپرست اتحاد مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان نے عصری علوم کو معاشرے کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا: حال ہی میں یونیورسٹیز سے تعلق رکھنے والے بعض شخصیات وطلبہ رہ نماؤں سے میٹنگ ہوئی تو ان کی ایک شکایت یہ تھی کہ بہت سارے ذہین وقابل طلبہ صرف اس لیے اپنے مطلوبہ سبجکٹ نہیں پڑھ سکتے کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہے۔
انہوں نے تاکید کی ایسے افراد کے لیے سب کو چارہ جوئی کرنی چاہیے۔ مرد وخواتین اپنی آمدنی کا کچھ حصہ ان عزیزوں کے لیے مختص کردیں یا الگ فنڈ قائم کیا جائے تا کہ یہ اثاثے اور قوم کے سرمایے تعلیم حاصل کرکے ملک وقوم اور اسلام کی خدمت کرسکیں۔

مظلوم لیبین قوم کی کامیابی کے لیے دعا کریں:
خطیب اہل سنت زاہدان نے اکثر مسلمان حکمرانوں کی مشرقی ومغربی طاقتوں کی وابستگی کا تذکرہ کرتے ہوئے لیبیا میں رونما ہونے والے تازہ واقعات کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کہا آج مسلمانوں کی چیخ وپکار نے جابر حکمرانوں کو ہلاکر رکھ دیاہے، یہ عوام مغرب کے کٹھ پتلی حکمرانوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ لیبین قوم بھی ایک آمر حکمران سے گلو خلاصی کے لیے کوشش کررہی ہے۔
بڑے پیمانے پر معمر قذافی کے حکم پر لیبیوں کے قتل کے جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے تمام مسلمانوں سے درخواست کی کہ لیبیا کے مظلوموں کیلیے دعا کی جائے۔ اللہ سے دعا مانگی جائے کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں مثبت تبدیلیاں آئیں اور اس کی رحمات تمام مسلمان قوموں کو شامل ہوں۔