- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

سانحہ تایبادکے حوالے سے’’سنی آن لائن‘‘ کی مولاناعبدالحمیدسے گفتگو

shaikh-abdolhameed-interviewنوٹ: گذشتہ ہفتے میں ایران کے انٹیلی جنس حکام نے مشرقی صوبہ ’’خراسان رضوی‘‘ کے شہر تایباد کے خطیب مولانا محمد موحد فاضلی کو زبردستی سے خطابت کے عہدے سے برطرف کردیا۔ واقعے کیخلاف تایبادی عوام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ چنانچہ جمعہ ۲۱ جنوری کو شہر کی جامع مسجد کے قریب مشتعل عوام اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں رونما ہوئیں۔ اسی حوالے سے ’’سنی آن لائن‘‘ نے خطیب اہل سنت زاہدان اور ایرانی اہل سنت کے نامور رہ نما حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید سے خصوصی گفتگو کی ہے جو پیش خدمت ہے:

سنی آن لائن: معتبر اطلاعات کے مطابق مولانا سید محمد موحد فاضلی کو اہل سنت تایباد کے عہدہ خطابت سے برطرف کردیا گیا ہے جس کے بعد عوامی احتجاج واعتراض رونما ہوچکا ہے اور بعض افراد کی گرفتاری کی بھی اطلاع ہے، اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

مولانا عبدالحمید: مجھے بھی اس ناخشگوار واقعے کی خبر ملی، جس نے بھی یہ پریشان کن خبر سنی ہے اسے پریشانی ہوئی ہے۔ میرے علاوہ ساری سنی برادری کو تشویق لاحق ہو چکی ہے۔ اہل سنت والجماعت برادری کی اصلی تشویق یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی عمر سے تین عشرے گذرنے کے باوجود انہیں امتیازی رویہ کا سامنا ہے۔ حالانکہ آیت اللہ خمینی نے کہا تھا: ’’شیعہ وسنی بھائی بھائی ہیں اور مساوی حقوق کے مستحق‘‘ موجودہ مرشد اعلی بھی مساوی حقوق کی فراہمی کی بات کرتے ہیں۔ مگر ایران کے سنی مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اب تک اتحاد وقومی امن کی حفاظت کے خاطر ہم نے خاموشی اختیار کرکے صبر وتحمل سے کام لیا ہے۔ مذہبی آزادی واحد مسئلہ تھا جو ہمارے لیے تسکین وآرام کا باعث تھا اور حکومتیں اہل سنت کی مساجد ومدارس کے امور میں براہ راست مداخلت نہیں کرتی تھیں۔
لیکن گذشتہ چند سالوں سے امتیازی سلوک کے واقعات میں بڑی تیزی آئی ہے، مذہبی توہین و تحقیر، بلاوجہ علماء کی عدالت طلبی اور گرفتاری، مساجد ومدارس کی تخریب وانہدام، نامور سنی علمائے کرام کے پاسپورٹ کو ضبط کرکے ان کے غیر ملکی اسفار پر پابندی وغیرہ امتیازی سلوک کے واضح واقعات اور نئے مصداق ہیں جنہیں ایران کی سنی برادری برداشت کرتی چلی آرہی ہے۔
اگر لوگوں کو اتنی آزادی حاصل نہ ہو کہ وہ اپنے پیش امام اور خطیب خود مقرر کریں جسے وہ پسند کرتے ہیں اور اس کے اقتدا میں نماز پڑھنے میں سکون محسوس کرتے ہیں تو یہ سراسر ناانصافی اور پریشانی کا باعث ہے۔ میرے خیال میں ایسے اقدمات بر سر اقتدار نظام کے حق میں ہیں نہ ہی بھائی چارے اور برادری کو اہل سنت کے پیش اماموں اور خطیبوں کے عزل ونصب سے کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔
حکام نظارت کرکے نظر رکھ سکتے ہیں مگر انہیں مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔

سنی آن لائن: آپ مولانا فاضلی کو کس حد تک جانتے ہیں؟

مولانا عبدالحمید: مولانا محمد فاضلی ایک تعلیم یافتہ عالم دین ہیں، آپ نے مدارس اور یونیورسٹیز دونوں میں تعلیم حاصل کی ہے۔ مولانا محمد فاضلی انتہائی معتدل، مدبر اور ہر دلعزیز آدمی ہیں، آپ حکومت اور نظام حکومت کیخلاف ہیں نہ ہی دنیا پرست اور دین فروش وخائن۔ مجھے یقین ہے آپ نہ حکومت کیلیے خطرہ ہیں اور نہ ہی شیعہ وسنی برادریوں کے لیے، یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ کوئی انسان غلطی سے محفوظ نہیں، اگر کسی سے ایسی خطا سرزد ہوجائے جو حکام کے مذاق کو برا لگے تو ایسی صورت میں لوگوں کی عزت سے انہیں نہیں کھیلنا چاہیے۔

سنی آن لائن: اہل سنت خطباء وائمہ جمعہ کے مقام کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

مولانا عبدالحمید: اہل سنت کے خطباء وائمہ حکومت کی ظاہری ومعنوی سہولتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے، جو مقام وعزت شیعہ ائمہ وخطباء کو حاصل ہے وہ سنی خطباء کے مقام سے ناقابل قیاس ہے، وہ اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ سنی خطباء اس امتیازی سلوک پر شکوہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ وہ نام کی حد تک خطیب ہیں، ان کی تقاریب کو سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو میں کوریج نہیں ملتی، صرف بعض اوقات مختصر انداز میں جو بات ان کے حق میں ہے اسے سیاق وسباق سے الگ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ نیز سرکاری ادارے سنی خطباء کی بات سننے کیلیے تیار نہیں ہیں۔
تایباد کے عوام اکثر سنی ہیں، نیز خراسان خطے کے تینوں صوبوں میں جہاں سنی برادری اکثریت میں ہے یاقابل ذکر تعداد میں، ۷۹ء کے انقلاب سے لیکر اب تک ایک ناظم، گورنر، تحصیلدار یا کسی سرکاری ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ’’سنی‘‘ شہریوں سے منتخب یا منصوب نہیں ہوا ہے۔ خراسانی عوام دل شکستہ ہیں، ایسے میں اپنی مساجد ومدارس کے امور میں انہیں حاصل مختصر آزادی ان کے لیے خوشی کا باعث ہے، اگر یہ بھی نہ ہو تو وہ کس بات پر خوش رہیں؟ اس لیے امید ہے کہ متعلقہ حکام سنی مسلمانوں کے مسائل کا خیال رکھیں اور تایباد کے معزز شہریوں کی دلجوئی کیلیے آگے بڑھیں۔