کراچی(بى بى سى) پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے حکومت سے الگ ہو جانے والی جماعت ایم کیو ایم کو دوبارہ حکومت میں واپس آنے پر آمادہ کر کے اپنی حکومت گرنے سے بچا لی ہے۔
کراچی میں متحدہ کے سیاسی مرکز نائن زیرو میں وزیرِ اعظم کی آمد اور وہاں سے الطاف حسین سے ٹیلی فون پر گفتگو اور رابطہ کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کے بعد ایم کیو ایم نے حکومت سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا اعلان کیا۔
کراچی میں نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ متحدہ کے صوبائی وزیر رضا ہارون نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ وزیراعظم کی خاطر اور ملک کی نازک صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی بینچوں پر بیٹھے کا اعلان کرتے ہیں۔ تاہم وہ وفاقی کابینہ میں بیٹھنے سے قاصر ہیں۔
’ہم یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ عوامی مفادات کے لیے حکومت کے ہر مثبت اقدام کی حمایت اور عوام کے خلاف فیصلوں کی مخالفت کریں گے‘۔
متحدہ قومی موومنٹ نے اتوار کے روز حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا لیکن گزشتہ روز وزیرِ اعظم کی جانب سے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم کا رویہ نرم ہوگیا۔
وزیرِ اعظم گیلانی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پیٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نو فیصد اضافہ واپس لینے کا اعلان کر رہے ہیں کیونکہ حلیف جماعتیں اس فیصلے سے خوش نہیں تھیں۔ پیٹرولیئم مصنوعات میں اضافہ آئی ایم ایف سے قرض کی شرائط میں سے ایک ہے۔
وزیرِ اعظم کے فیصلے کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک بیان میں پاکستانی وزیرِ اعظم کے اس فیصلے کو غلط قدم قرار دیا ہے۔
پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد وزیرِ اعظم کو خبردار کیا گیا تھا کہ انھیں عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم جمعہ کو جب ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے نائن زیرو پہنچے تو ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ نائن زیرو سے ہی وزیرِ اعظم نے الطاف حسین سے فون پر بات کی۔
ایم کیو ایم کی رابطہ کمٹی نے حکومتی بینچوں پر واپس آنے کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد نے اپنی اکثریت قائم کرلی ہے۔
انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ حکومت کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے، سادگی اپنا کر عملی اقدامات کرے گی۔ بقول ان کہ تیل کی قیمتیں ہوں، آر جی ایس ٹی یا کمشنری نظام ایم کیو ایم نے عوام دشمن مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایم کیو ایم کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ آرجی ایس ٹی پر جب تک اتفاق رائے قائم نہیں ہوتا اسے نافذ نہیں کیا جائے گی اور تمام قانون سازی اتحادیوں کی مشاورت سے کی جائےگی۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی میں قانون سازی میں ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیا جائیگا اور صوبائی وزرا کو درپیش مشکلات کو بھی دور کیا جائیگا۔
وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کو دعوت دی کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ایوان میں احتساب بل پیش کیا جائے، جسے اتفاق رائے رائے سے منظور کیا جائے تاکہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
نائن زیرو جانے سے قبل وزیراعظم نے گورنر ہاؤس میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی اور ایم کیو ایم کے مطالبات کو لیکر بلاول ہاؤس گئے اور صدر آصف علی زرداری کو اس بارے میں آگاہ کیا۔
یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی واپسی کے بعد قومی اسمبلی میں اتحادی اراکین کی تعداد ایک سو اٹھاسی ہوگئی تھی۔ جمیعت علمائے اسلام اور ایم کیو ایم کی اتحاد سے علیحدگی کے بعد حکومت اپنی اکثریت گنوا بیٹھی تھی۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی پچیس نشستیں ہیں۔
کراچی میں نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ متحدہ کے صوبائی وزیر رضا ہارون نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ وزیراعظم کی خاطر اور ملک کی نازک صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی بینچوں پر بیٹھے کا اعلان کرتے ہیں۔ تاہم وہ وفاقی کابینہ میں بیٹھنے سے قاصر ہیں۔
’ہم یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ عوامی مفادات کے لیے حکومت کے ہر مثبت اقدام کی حمایت اور عوام کے خلاف فیصلوں کی مخالفت کریں گے‘۔
متحدہ قومی موومنٹ نے اتوار کے روز حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا لیکن گزشتہ روز وزیرِ اعظم کی جانب سے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم کا رویہ نرم ہوگیا۔
وزیرِ اعظم گیلانی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پیٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نو فیصد اضافہ واپس لینے کا اعلان کر رہے ہیں کیونکہ حلیف جماعتیں اس فیصلے سے خوش نہیں تھیں۔ پیٹرولیئم مصنوعات میں اضافہ آئی ایم ایف سے قرض کی شرائط میں سے ایک ہے۔
وزیرِ اعظم کے فیصلے کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک بیان میں پاکستانی وزیرِ اعظم کے اس فیصلے کو غلط قدم قرار دیا ہے۔
پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد وزیرِ اعظم کو خبردار کیا گیا تھا کہ انھیں عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم جمعہ کو جب ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے نائن زیرو پہنچے تو ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ نائن زیرو سے ہی وزیرِ اعظم نے الطاف حسین سے فون پر بات کی۔
ایم کیو ایم کی رابطہ کمٹی نے حکومتی بینچوں پر واپس آنے کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد نے اپنی اکثریت قائم کرلی ہے۔
انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ حکومت کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے، سادگی اپنا کر عملی اقدامات کرے گی۔ بقول ان کہ تیل کی قیمتیں ہوں، آر جی ایس ٹی یا کمشنری نظام ایم کیو ایم نے عوام دشمن مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایم کیو ایم کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ آرجی ایس ٹی پر جب تک اتفاق رائے قائم نہیں ہوتا اسے نافذ نہیں کیا جائے گی اور تمام قانون سازی اتحادیوں کی مشاورت سے کی جائےگی۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی میں قانون سازی میں ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیا جائیگا اور صوبائی وزرا کو درپیش مشکلات کو بھی دور کیا جائیگا۔
وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کو دعوت دی کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ایوان میں احتساب بل پیش کیا جائے، جسے اتفاق رائے رائے سے منظور کیا جائے تاکہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
نائن زیرو جانے سے قبل وزیراعظم نے گورنر ہاؤس میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی اور ایم کیو ایم کے مطالبات کو لیکر بلاول ہاؤس گئے اور صدر آصف علی زرداری کو اس بارے میں آگاہ کیا۔
یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی واپسی کے بعد قومی اسمبلی میں اتحادی اراکین کی تعداد ایک سو اٹھاسی ہوگئی تھی۔ جمیعت علمائے اسلام اور ایم کیو ایم کی اتحاد سے علیحدگی کے بعد حکومت اپنی اکثریت گنوا بیٹھی تھی۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی پچیس نشستیں ہیں۔