- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

ڈاکٹر عافیہ کی سزا کیخلاف پاکستان بھر میں احتجاج، مظاہرے اور ریلیاں، مذمتی قراردادیں منظور

ehtejaj-afia1کراچی/لاہور/اسلام آباد(ایجنسیاں) ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت کی طرف سے 86 سال سزا سنائے جانے کے خلاف پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں پر پلے کارڈ اٹھارکھے تھے اور امریکی اور پاکستانی حکومتوں کے خلاف نعرے لگائے اور مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔

جبکہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کرنے والوں کو امریکی سفارتخانے کی طرف جانے سے روکنے پر پولیس اور مظاہرین میں زبردست تصادم ہوا، مشتعل مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراو کیا اور پولیس کی بکتر بند گاڑی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کرتے ہوئے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور بعد ازاں مذاکرات کے بعد ا سلام آباد انتظامیہ 5 رکنی وفد کو احتجاجی یاداشت پیش کرنے کیلئے امریکی سفارتخانے لے گئی۔ اسکے بعد شرکاء منتشر ہو گئے۔
تمام جامع مساجد میں امریکی عدالت کے فیصلے کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ دوسرا مظاہرہ پاکستان انصاف کے زیر اہتمام ہو ا جس میں تحریک انصاف کے کارکنان سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے بھی شرکت کی ، مظاہرین امریکی عدالت کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ایک بے گناہ خاتون کو سزا سنانے کو انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی قرار دیا، شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ مخالف نعرے درج تھے۔قبل ازیں اسلام آباد کی تمام بڑی جامع مساجد میں خطیبوں نے ڈاکٹر عافیہ کو سزا سنانے کے خلاف مذمتی قراردیں منظور کی گئیں۔
امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر ملک بھر میں عافیہ کی سزا کیخلاف یوم احتجاج منایا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں جبکہ پشاور میں احتجاجی ریلی سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا کہ عافیہ صدیقی کو امریکا کے غلام حکمرانوں کی وجہ سے سزا ہوئی ، حکمران بے حس اور بے شرم ہیں، صدر اور وزیراعظم نے عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کچھ نہیں کیا اور اب جلد ہی اسلام آباد کی طرف مارچ اور پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، ایوان وزیراعظم کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان امریکی جنگ سے باہر نکلنے کا اعلان، لاجسٹک سپورٹ بند،اپنے ایئربیس واپس اور انٹیلی جنس شیئرنگ سے انکار کردے تو امریکا کے چھکے چھوٹ جائیں گے۔
علاوہ ازیں کراچی میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ عافیہ صدیقی کو سزا سنا کھلی غنڈ ہ گردی ہے، ثابت ہوگیا کہ امریکا میں عدل و انصاف نہیں، امریکی عدالتیں اپنی افواج کے ظالمانہ کارروائیوں کو تحفظ فراہم کررہی ہیں، امریکا کے اس جرم میں پاکستانی حکمران بھی برابر کے شریک ہیں، حکومت چاہتی تو عافیہ صدیقی کو رہا کرایا جاسکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس پوری کارروائی میں سابقہ حکومت براہ راست شامل تھی اور موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ حکمران چاہتے تو عافیہ کو پاکستان لاسکتے تھے افسوسناک بات یہ ہے کہ جمہوری دور حکومت میں خواتین کو سڑکوں پر آنا پڑا ہے، امریکی عدالتی فیصلہ دراصل حکمرانوں کی طرف سے غلامی کے طوق کی تصدیق ہے اور عافیہ صدیقی کی فتح ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا کیخلاف قومی اسمبلی اور سینٹ میں احتجاج

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے امریکی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86سال قیدکی سزا سنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے عالم اسلام بالخصوص پاکستان میں امریکا کے خلاف نفرت بڑھے گی، امریکی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا جائے، عافیہ صدیقی کو سزا حکومت کی قانونی اور سفارتی کوششوں میں ناکامی کے باعث ہوئی۔ جمعہ کو سینیٹ میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہاکہ وزیر اعظم اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے عافیہ کی واپسی کے اقدامات کریں، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف وسیم سجاد نے کہاکہ امریکی عدالت نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے۔ جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے کہاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت سے دی جانیوالی سزا اسلام اور انسانیت کے خلاف جرم ہے، حکومت نے ا س حوالے سے اپنا کر دار پورا نہیں کیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ امریکی عدالت نے امریکا کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے کہ پاکستان نیٹو فورسز کو لاجسٹک سپورٹ کر رہا ہے فوری طورپر سپورٹ کو معطل کیا جائے۔ اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہاکہ حکومت سفارتی محاذ پر صحیح کوشش کر تی تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی وطن واپسی آ سکتی تھی۔
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے امریکی عدالت سے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو دی جانے والی 86 سال کی سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر آج ملک میں ایم کیوایم کی حکومت ہوتی تو نتائج کی پرواہ کئے بغیرغیرت وحمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کی بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو دی جانے والی غیرانسانی سزا کے خلاف امریکہ اوراس کے اتحادی مغربی ممالک اورنیٹو سے تمام ترسفارتی تعلقات ختم کردیتی، امریکی صدرسے مطالبہ کرتاہوں کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی سزا کو کالعدم قراردیکراسے فی الفور رہا کیاجائے.