- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا سنا دی

afiya0اسلام آباد/نیویارک(ايجنسياں) امریکا کی ایک عدالت نے پاکستان کی ایک نحیف ونزار بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی فوجیوں اور وفاقی ایجنٹوں کو قتل کرنے کی کوشش کے سات الزامات پر مجموعی طور پر چھیاسی سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

مین ہٹن، نیویارک کی ضلعی عدالت کے ڈسٹرکٹ جج رچرڈ برمان نے امریکی تعلیم یافتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سزا سنائی ہے۔ ایک امریکی جیوری نے انہیں فروری میں افغانستان کے صوبے غزنی میں ایک امریکی فوجی سے اس کی بندوق چھیننے اور اس سے فوجیوں اور امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ایجنٹوں پر فائرنگ کی کوشش کے الزام میں قصور وار قرار دیا گیا تھا۔
انہیں جن سات الزامات میں قصور وار قرار دیا گیا ہے، ان مِیں امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی کوشش کے دو الزامات،مسلح حملہ، پرتشدد جرم کے لیے آتشیں اسلحہ کا استعمال اور حملے کے تین الزامات شامل ہیں۔ امریکی پراسیکیوٹرز نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو عمر قید اور بندوق کے استعمال پر دس سال قید کی سزا دی جانی چاہیے۔
لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران فائرنگ کے الزام کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ بندوق چلانا بالکل بھی نہیں جانتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں افغان اہلکاروں نے امریکی حکام کی آمد سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ کیمسٹری کے بارے میں بالکل جانتی تھیں اور نہ انہیں یہ علم تھا کہ ان کے پرس میں کیا لکھا پڑا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ پر بم کی تیاری میں استعمال ہونے والا کیمیائی مواد اپنے پاس رکھنے کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔
فیصلہ سنائے جانے کے وقت اڑتیس سالہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی عدالت میں موجود تھیں۔انہوں نے کہا کہ ”میں اپنے خلاف سزا پر خونریزی نہیں چاہتی ہوں”۔ انہوں نے اپنے بارے میں اپنے وکیل کے اس بیان سے اختلاف کیا جس مِیں وکیل نے کہا تھا کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہو چکی ہیں۔ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ ”میں پیرانائے نہیں ہوں ،میں ذہنی طور پر بیمار نہیں ہوں”۔انہوں نے جج برمان کو مخاطب ہو کر کہا کہ ”میں اس سے متفق نہیں ہوں”۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے عدالت میں بڑے پُراعتماد انداز میں مختلف موضوعات پر مختصر مختصر بات کی۔انہوں نے کہا کہ 11 ستمبر2001ء کے واقعات کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ کار فرما تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جس جیل میں قید ہیں، اس کا ایک اہلکار دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ امریکا کی مخالف نہیں ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکا کے مشہور تعلیمی ادارے میساچیوسٹیس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلیم حاصل کی تھی۔انہوں نے بوسٹن کے قریب واقع برانڈیس یونیورسٹی سے نیورو سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔وہ امریکا میں 1991ء سے 2002ء تک رہتی رہی تھیں۔اس کے بعد وہ اپنے آبائی وطن پاکستان واپس آ گئی تھیں۔ ان کی 1995ء میں امجد محمد خان سے شادی ہوئی تھی جن سے ان کے تین بچے ہیں۔ان کے درمیان مبینہ طور پر 2002ء میں طلاق ہو گئی تھی۔

افغانستان میں گرفتاری

قریباً سات برس قبل 2003ء میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کراچی سے اسلام آباد کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوئی تھیں لیکن وہ راستے ہی میں اغوا کر لی گئیں اور وہ قریبا ًپانچ سال تک لاپتا رہی تھیں۔انہیں دو سال قبل امریکی ایف بی آئی کی حراست میں نیویارک پہنچایا گیا تھا جہاں ان کے خلاف امریکی فوجیوں اور اہلکاروں پر گولی چلانے کے الزامات میں مقدمہ چلایا گیا ہے لیکن ان کی جانب سے چلائی گئی مبینہ گولی کسی کو نہیں لگی تھی البتہ امریکی فوجی کی فائرنگ سے وہ ضرور زخمی ہو گئی تھیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو افغانسان کے صوبے غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے 17 جولائی 2008 کو افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا۔امریکی حکام کے مطابق گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جبکہ افغان پولیس نے ان کے قبضہ سے کیمیکل ہتھیار بنانے کے فارمولے اور لیکویڈ سے بھری بوتلیں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس سے ایک روز بعد انہیں امریکیوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے 18 جولائی 2008 کو ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی تفتیشی ٹیم پر ایک فوجی کی بندوق چھین کر فائرنگ کر دی تھی۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ ایف بی آئی کو کافی عرصے سے دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھیں لیکن یہ بات ابھی تک سربستہ راز ہے کہ وہ غزنی کیسے پہنچ گئی تھیں اور ان کی گرفتاری وہاں کی کیوں ڈالی گئی تھی۔
یاد رہے کہ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں افغانستان میں امریکی فوج کے زیر انتظام بگرام جیل کا دورہ کرنے والی معروف نومسلم برطانوی صحافیہ وون ریڈلی کا ڈاکٹرعافیہ کے حوالے سے جو تذکرہ شامل کیا تھا،وہ کچھ یوں تھا:”میں تو اسے ایک بھوتنی خاتون کہوں گی اور وہ ایک بھوتنی کی مانند ہے اوراس کی چیخیں اس شخص کا پیچھا کرتی ہیں جس نے ایک باران کو سنا ہو”۔
رپورٹ میں برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیراحمد کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس خاتون کو بگرام جیل کے عملے کی جانب سے مسلسل ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار بنایا جاتا رہا ہے۔
وہ سن دو ہزار تین میں کراچی سے اچانک لاپتا ہوگئی تھیں۔ان کی گمشدگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹرعافیہ اور ان کے تین بچوں کو پاکستان میں گرفتار کرکے امریکی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

پاکستان میں ردعمل

امریکی عدالت کی جانب سے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو چھیاسی سال قید کی سزاسنائے جانے پر پاکستان کی مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں کے لیڈروں نے اپنے شدیدردعمل کا اظہار کیا ہے اور عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انصاف کے قتل کے مترادف قراردیا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہن کوامریکی عدالت سے سزا دلوانے میں پاکستانی حکومت اور امریکا میں پاکستانی سفارت خانہ برابرکا شریک ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نےصدر اور وزیراعظم پاکستان سے اپیلیں کی کہ وہ ڈاکٹرعافیہ کو امریکی قید سے با زیاب کرائیں لیکن وہ ہمیں محض طفل تسلیاں دیتے رہے اور عملی طورپرانہوں نے کچھ نہیں کیا۔
انہوں نے ڈاکٹر عافیہ پر کیمیکل ہتھیار بنانے کے حوالے سے امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن ذہنی طور پر پسماندہ بچوں کی ذہنی صلاحیت کو بحال کرنے کے لیے کام کرتی تھیں،ان کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ڈاکٹرعافیہ کے خاندان کے علاوہ پاکستان کی دینی، سیاسی اور سماجی تنظیمیں امریکا سے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ان کوسزاسنائے جانے پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ اس سے پاکستان میں امریکا کے خلاف نفرت بڑھے گی۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف نے کہا کہ انہیں ڈاکٹر عافیہ کی سزا کا سن کر دکھ ہوا ہے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اسے انسانیت کے خلاف سزاقراردیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹر عافیہ کے خلاف سزاکو پاکستانی قوم پر حملہ قراردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی بہن اور ان کی والدہ کا یہ شکوہ بالکل بجا ہے کہ پاکستانی حکومت ان کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کرسکی ہے۔انہوں نے عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کے طورپراپناامریکا کا مجوزہ دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منورحسن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف عدالت کے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔انہوں نے جمعہ سے ملک گیر مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جماعتوں کے قائدین اور لیڈروں نے امریکی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس کے خلاف جمعہ سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔