اسلام کے بارے میں جہالت
جامعہ ازھر کے بیان میں دو ٹوک انداز میں وضاحت کی گئی ہے کہ عیسائی پادری کی طرف سے قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کرنے کے مطالبات کو مسلمان کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کریں گے اور اس طرح حرکت کی گئی تو دنیا بھر میں ایک نیا اشتعال پیدا ہو گا، جس کی ذمہ داری اس پادری اور اس کے ساتھیوں پر عائد ہو گی۔
جامعہ الازھر نے یورپی اہل دانش اور آزاد ضمیر رکھنے والی شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ فلوریڈا چرچ کے پادری کے فیصلے مذمت کرتےہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ بیان میں مصر میں انجیلی عیسائی فرقے کی جانب سے پادری کے اقدام کی مذمت کو سراہا اور کہا کہ مسیحی برادری کے دیگر فرقے بھی انجیلی فرقے کے طرز عمل کی پیروی کریں اور اس طرح کے قبیح فعل کے ارتکاب سے سختی سے روکیں۔
بیان میں فلوریڈا کے عیسائی پادر کے قرآن کے بارے میں ریمارکس اور رویے کو اسلام اور اس کی سنہری اقدار کے حوالے سے جہالت پر مبنی قرار دیا۔
مصری انجیلی فرقے کی مذمت
مصر میں عیسائیوں کے انجیلی فرقے کی جانب سے ٹیری جونز کے بیان اور نائن الیون کی یاد میں قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کے مطالبے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
قاہرہ میں انجیلی فرقے کے نائب سربراہ ڈاکٹر انڈریہ زکی کی جانب سے جاری العربیہ کو موصولہ بیان میں انکا کہنا ہے کہ “وہ فلوریڈ کے عیسائی پادری کی مطالبے کی شدید مذمت کے کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو نذرآتش کرنے کا مطالبہ لاعلمی پر مبنی ایک نئے فساد کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اسے روکنے کے لیے وہ امریکا اور پوری دنیا میں تمام عیسائی فرقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ٹیری جونز کو ایسے کسی ناپسندیدہ اقدام سے سختی سے روکیں”۔
انجیلی فرقے کا مزید کہنا ہے کہ ہم ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں اورہمیں یہ کسی صورت میں زیب نہیں دیتا کہ قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی کوشش کریں۔ خدا نخواستہ ایسا کیاگیا تو دنیا بھر میں تشدد کی ایک ایسی فضا بنے گی جس نہایت بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…