عراق پر حملہ غیر قانونی تھا: ہان بلکس

لندن (بى بى سى) اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے سابق معائنہ کار ہان بلکس کا کہنا ہے کہ عراق پر حملہ غیر قانونی تھا۔ ڈاکٹر بلکس برطانیہ میں عراق کے بارے میں ایک انکوائری کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

انھوں نے انکوائری کو بتایا کہ انھوں نے صدام حسین کے معاملے سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
ڈاکٹر بلکس نے بتایا کہ ان کے معائنہ کاروں نے عراق میں پانچ سو مقامات کا معائنہ کیا مگر انھیں بڑے پیمانے پر تباہ کن ہتھیاروں کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
ڈاکٹر بلکس 1999 سے 2003 تک اقوام متحدہ کی معائنہ ٹیم کے سربراہ تھے۔ جن کو صدام حسین کے ہتھیاروں کے ذخائر اور پروگرام کے بارے میں تفتیش کا کام سپرد کیا گیا تھا۔
ان سے عراق پر حملے سے پہلے دو ہزار دو اور دو ہزار تین کے درمیان ان کے عراق کے اُس دورے کے بارے میں پوچھا گیا جب ان کی ٹیم کو عراق سے بیدخل کردیا گیا تھا، مسٹر بلکس نے کہا وہ ہتھیاروں کی موجودگی کا کوئی جواز ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم کوئی ایسا سراِ نہیں ملا۔
تاہم اس وقت جنگ کا ماحول بنا دیا گیا تھا اور اس دوڑ میں برطانیہ بلکل ایک قیدی کی مانند تھا۔جس کی وجہ سے وہ عراق کے مزید دورے کرنے کی مہلت نہیں ملی۔
البتہ ان کی ٹیم کو میزائیل کے انجن کے کچھ ٹکڑے اور کچھ دستاویزات ہاتھ لگی تھیں، تاہم یہ معمولی اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تھے، اور کوئی بڑا ہتھیار بنانے کے تناظر میں بلکل غیر اہم تھے۔
ڈاکٹر بلکس نے انکوائری کمیشن کو بتایا کہ پانچوں مختلف تنصبات کے سات سو مرتبہ معائنے کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور برطانیہ کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ صدام حسین نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق معائنہ کاروں سے تعاون نہیں کیا اور جو سنہ انیس سو اکیانوے میں عراق کے خلاف منظور ہونے والی قرارداد کی خلاف ورزی کے مرتکب تھا۔ قراردادوں میں عراق پر کچھ مہلک ہھتیار رکھنے اور بنانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
ڈاکٹر بلکس نے عراق پر چڑ ھائی کرنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ برطانوی حکومت کی جانب سے عراق پر حملے کا جواز پیدا کرنے کے برعکس اقوام متحدہ کی کسی قرار داد میں ان ملکوں کو عراق کے خلاف فوجی کاروائی کا کوئی ا ختیار نہیں دیا گیا تھا۔
عراق پر حملے کے خلاف برطانیہ میں ہونے والی یہ انکوائری اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے اور امکان ہے کہ اس برس کے آخر تک رپورٹ شائع کردی جائے گی۔
حملے کا فیصلہ کرنے والے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ان کے اہم وزرا انکوائری میں پیش ہوچکے ہیں۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago