چھوٹی چیزیں امریکا میں زیادہ پرکشش
گذشتہ برس موسم گرما میں ننھی علیا نے اپنی ماں”کریسٹا بریمر سے کہا کہ” میں چہرے پر نقاب اوڑھنا چاہتی ہوں کیا آپ مجھے اس کی اجازت دیں گی”۔ ماں کے لیے یہ سوال حیران کن تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ “پہلے تو مجھے خیال آیا کہ اسے ایسا کرنے سے روک دووں، لیکن دفعتہ سوچا کہ اگر بچی اپنی مرضی سے پردہ کرنا چاہتی ہے تو میں اسے کیوں منع کروں۔”
وہ مزید کہتی ہیں کہ جب علیاء نے اسلامی پردہ اختیار کرنے کا کہا تو میں نے سوچا کہ شمالی کیرولینا کے “کارپورو” جیسے ماڈرن شہر میں ایسی کونسی سی بات تھی جس نے اسے اسلام اور پردےکی طرف مائل کیا۔ غور کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ کئی چھوٹی چھوٹی باتیں اس کی شخصیت کا حصہ بن چکی تھی جو اس نے اپنے گرد و پیش سے سیکھی تھیں۔ یہی اس کی زندگی پر اثر انداز ہوئیں۔
العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کریسٹا بریمر نے نہایت فخر کے ساتھ کہا “میں خود کو اس حوالے سے ایک خوش قسمت خاتون سمجھتی ہوں کہ میری بیٹی نے اسلامی پردہ اختیار کیا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ “بیٹی کی چھوٹی عمر میں پیدا ہونے والا یہ تغیر مستقبل میں تبدیل بھی ہوسکتا ہے تاہم اس کے مثبت اثرات تاحیات قائم رہیں گے۔ علیا کے نقاب اوڑھنے سے قبل اسے دیکھ کروہ اتنی خوش نہیں ہوتی تھیں جتنی اب اسے حالت حجاب میں دیکھ کرخوش ہوتی ہیں۔”
ایک سوال پربریمرنے کہا کہ وہ ایک کتاب لکھ رہی جس میں اپنی زندگی سے اسلام اورمسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور تجربات کو شامل کیا جائے گا۔
شوہرکے رویے سے اسلام کی حقانیت ثابت
العربیہ سے بات چیت کرتے ہوئے اسلام کی طرف مائل کریسٹا نے اپنے مسلمان شوہر کو ایک “مثالی” اور “نابغہ روزگار” شخصیت قرار دیا۔ کریسٹا کے بہ قول”ان کے شوہر کے رویے اور استقامت میں اسے اسلام کی حقانیت کی وہ حقیقی تصویر دکھائی دیتی ہے جو کتابوں یا تقریروں سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ایک بیوی کی حیثیت سے میں نے اپنے شوہر سے اسلام کا صحیح عکس حاصل کیا۔ اب میں اپنی زندگی میں اسلام سے متعلق مشاہدات کو اس مذہب کے پیروکاروں سےشیئر کروں گی جو میں ریاست کیرولینا میں دیکھے ہیں۔”
واضح رہے کہ ڈاکٹر اسماعیل السویح پیشے کے اعتبار سے ایک تاجر ہیں۔ طرابلس میں ان کا ایک کمپیوٹر ساز کمپنی میں شیئر ہے۔ چوون سالہ ڈاکٹر اسماعیل پچھلے پانچ سال سے لیبیا ہی میں ہیں۔ انہوں نے شمالی کیرولینا کی ایک یونیورسٹی ارضیات و سمندر کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…