بغداد (ايجنسياں) امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں ہمیشہ رہنے نہیں آئے۔ افغان رہنما ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے آگے بڑھیں جبکہ سابق صدارتی امیدوار سینیٹر جان میک کین کا کہنا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا ٹائم ٹیبل حالات سے مشروط ہونا چاہیے۔
امریکی میڈیا کے مطابق عراق کے دورے کے موقع پر بائیڈن نے افغان جنگ کی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افغانوں کو کھیل کا حصہ بننا ہوگا کیونکہ امریکا ان کے ملک میں ہمیشہ نہیں رہیگا اور نہ ہی وہ افغانوں سے زیادہ افغانستان کی سلامتی کا خواہشمند ہوسکتا ہے۔
اُدھر کابل کے دورے کے موقع پر سینیٹر میک کین کا کہنا تھا کہ اگلے سال کے وسط سے افغانستان سے فوج کے انخلا کا منصوبہ صرف حالات سے مشروط ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ دشمنوں کی حوصلہ افزائی اور دوستوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بنے گا۔
میک کین نے دیگر دو اراکین کانگریس کے ہمراہ افغان صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات کی، جس میں اتحادی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اور امریکی سفیر کارل ایکن بیری بھی شریک ہوئے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نے جنرل پیٹریاس کو امریکی اور نیٹو فورسز کی کمان سنبھالنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کا مشن انتہائی اہم ہے۔
اُدھر کابل کے دورے کے موقع پر سینیٹر میک کین کا کہنا تھا کہ اگلے سال کے وسط سے افغانستان سے فوج کے انخلا کا منصوبہ صرف حالات سے مشروط ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ دشمنوں کی حوصلہ افزائی اور دوستوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بنے گا۔
میک کین نے دیگر دو اراکین کانگریس کے ہمراہ افغان صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات کی، جس میں اتحادی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اور امریکی سفیر کارل ایکن بیری بھی شریک ہوئے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نے جنرل پیٹریاس کو امریکی اور نیٹو فورسز کی کمان سنبھالنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کا مشن انتہائی اہم ہے۔