- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

کرفیو، احتجاج، ہلاکتیں، فوج طلب

kashmirسری نگر (بی بی سی اردو) بھارتی کشمیر میں مظاہرین پر پولیس فائرنگ سے مزید تین بچوں کی ہلاکت کےبعد صورتحال انہتائی کشیدہ ہوگئی ہے، بیشر اضلاع میں کرفیو نافذ ہے۔

تازہ واقعات جنوبی ضلع اننت ناگ کی ایس کے کالونی میں منگل کی دوپہر پیش آئے۔ عینی شاہد معراج احمد شاہ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’یہاں کرفیو تھا، لیکن تقریباً چار سو نقاب پوش لڑکے پہلگام روڑ پر مظاہرے کر رہے تھے، انہوں نے امرناتھ یاتریوں کی ایک گاڑی کو بھی روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پولیس اور سی آر پی ایف نے ان کا تعاقب کیا، وہ ایس کے کالونی میں چلے گئے، وہاں پولیس نے فائر کھول دیا‘۔
اس فائرنگ میں پانچ لڑکے زخمی ہوئے، جن میں سے دو نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ اننت ناگ ہسپتال کے ڈاکٹر زاہد ناستی نے بی بی سی کو بتایا کہ پندرہ سالہ اشتیاق احمد کھانڈے اور سترہ سالہ امتیاز احمد کو مردہ حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ گولیاں ان کے سر میں لگی تھیں۔ تین زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک ہے جنہیں سرینگر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اس دوران مشتعل مظاہرین نے کئی مقامات پر کرفیو کی خلاف ورزی کی جس کے بعد حکام نے شمالی کشمیر میں فوج سے مدد طلب کر لی۔ پچھلے نو روز کے دوران پولیس کارروائی میں سوپور اور سرینگر میں آٹھ نوجوانوں کی موت کے خلاف پورے کشمیر میں افراتفری پھیل گئی ہے، اور بیشتر اضلاع میں کرفیو نافذ ہے۔ سرینگر، سوپور، اننت ناگ اور بارہ مولہ قصبوں میں نقاب پوش نوجوانوں نے منگل کو فورسز کا محاصرہ توڑ کر حالیہ ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔
علیٰحدگی پسندوں نے منگل اور بدھ کو پوری وادی میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے پہلے ہی تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے اور تمام طے شدہ امتحانات کو ملتوی کر دیا ہے۔
دریں اثنا سوپور اور بارہ مولہ میں سی آر پی ایف اور پولیس کی پسپائی کے بعد فوج تعینات کی گئی اور ان قصبوں میں مزید مظاہرے کیے گئے۔ دونوں قصبوں میں پچھلے چار روز سے کرفیو کے دوران پتھراؤ اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف سرکاری فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں۔ بارہ مولہ کے ڈپٹی کمشنر بشیر احمد نے سوپور اور بارہ مولہ قصبوں میں فوج کی تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔
بارہ مولہ میں پیر کو نیم فوجیوں کی فائرنگ سے ایک نو سالہ طالب علم آصف احمد سمیت دو کم سن لڑکوں کی موت کے بعد لوگ گھروں نکل کر دھرنے پر بیٹھے ہیں اور اس دوران وقفے وقفے سے مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
وادی کے بیشتر اضلاع میں بدستور کرفیو ہے۔ شمالی کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو حکومت کے بعض وزرا ہیلی کاپٹر کے ذریعہ قصبہ میں پہنچے اور انتہائی کڑے سکیورٹی انتظامات میں صورتحال کا معائنہ کیا۔
وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم سے ’تعاون‘ کی اپیل کی ہے۔ اس دوران حکومت میں ایک سینئر وزیر علی محمد ساگر نے سی آر پی ایف پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے اہلکار حکومت کی ہدایت پر عمل نہیں کرتے اور کم سن لڑکوں پر فائرنگ کرتے ہیں۔ تاہم سی آر پی ایف نے اس کی تردید میں کہا ہے کہ ان کے اہلکار ریاستی حکومت کے تابع کام کر رہے ہیں۔