مسلم فقہاء کی اسمبلی کافتویٰ:امریکی فوج سے تعاون کی ممانعت

واشنگٹن(العربیہ۔نیٹ) امریکا کے مسلم فقہاء کی اسمبلی نے ایک فتویٰ جاری کیا ہےجس میں مسلم ممالک میں موجودغیرملکی فوجیوں کوکسی مسلمان کی جانب سے ذاتی یا کاروباری سطح پرامداددینے یا اس کی پیش کش کی ممانعت کردی گئی ہے۔

مجمع فقہاء الشریعۃ یامسلم فقہاء کی اسمبلی(اے ایم جے اے) مفتیان کرام اوراسکالروں پر مشتمل ہے اوریہ امریکا میں مقیم مسلمانوں کے لیے فتوے جاری کرنے کی ذمہ دار ہے۔اس کے سربراہ شیخ صلاح الساوی ہیں۔اسمبلی سے عراق اور افغانستان میں موجود اتحادی اورنیٹو فوجیوں کے ساتھ کاروبار کرنے اورخاص طور پرانہیں فوجی اڈوں پرکھانے پینے کی اشیاء مہیا کرنے کے حوالے سے اسلامی نقطہ نظر جاننے کے لیے متعدد سوالات پوچھے گئے تھے۔
اے ایم جے اے کے فتویٰ بنک پر پوسٹ کیے گئے سوال کی عبارت کچھ یوں ہے:”کیا مسلم علاقوں میں کام کرنے والے امریکی اورغیرملکی فوجیوں کو خوراک کی اشیاء مہیا کرنے کے عمل میں حصہ لینے کی اجازت ہے؟”اس کا جواب یہ دیا گیاہے:”اس کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ یہ گناہ اورغلط کاری کے کام میں دوسروں کی مدد کرنے کے مترادف ہوگا”۔
اس فتویٰ کا نمبر3062ہے اور یہ ابھی مجمع کی طرف سے جاری کیا جانا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو غیرملکیوں کی اس وقت تک ذاتی یا کاروباری سطح پر کوئی مدد نہیں کرنی چاہیے جب تک ان کی مسلم ممالک میں قابض کے طورپرموجودگی رہتی ہے۔
بیان میں قرآن مجید کی ایک آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو صرف نیک کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور تشدداور نقصان کے کام میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔
فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمانوں کو قومیت،مذہب یا سیاسی تعلق سے قطع نظران لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جواچھے کام کررہے ہوں،خواہ وہ فوجی ہوں یا سویلین ہوں”۔
فتویٰ میں مزید کہا گیا ہے کہ ”عراق اورافغانستان میں موجود غیرملکی فوجیوں کا یہ معاملہ نہیں ہے بلکہ انہوںنے ان ممالک کے عوام کی مرضی کے خلاف وہاں قبضہ کررکھا ہے،اس لیے ان کے ساتھ کسی قسم کا ربط وتعاون ان کے قبضے کو درست ثابت کرنے کے لیے ہوگا اور جو کوئی بھی ان فوجیوں کے ساتھ معاملہ کاری کرےگا،وہ ان کے ساتھ گناہ میں شریک کارہوگا”۔
مجمع فقہاء امریکا میں ایک باوقارادارہ سمجھا جاتا ہے۔اس نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ اس کا امریکا کے مسلمان شہریوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔اس فتویٰ کی وجہ سے امریکی میڈیا میں ایک نیا تنازعہ شروع ہوگیا ہے اورمتعددناقدین نے خبردارکیا ہے کہ اس طرح کے مذہبی فتوےمسلم ممالک میں موجود فوجیوں کے خلاف تشدد کا موجب بنتے ہیں جبکہ دوسروں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو امریکی فوجیوں کے خلاف کرنے والے دراصل امریکی ہی ہیں۔
اس حوالے سے ایک یمنی نژاد عالم دین انوارالاولاکی نے بھی ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس پربڑے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔انہوں نے امریکی مسلمانوں کوامریکی فوج میں خدمات انجام دینے یا مسلم ممالک پر قابض فوجیوں کی حمایت کرنے پرخبردارکیا تھا اورانہوں نے امریکی فوجیوں اورفوجی اڈوں کو جہاد کا کھلا ہدف قراردیا تھا۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago