فریڈم فلوٹیلا پر حملے کی تحقیقات
ترک وزیر اعظم نے نیوز کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اسرائیلی کمانڈوز کے غزہ جانے والے امدادی قافلے پر حملے کو بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کے لیے مطالبے کو تسلیم کرے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فریڈم فلوٹیلا پر حملے کو اپنے دفاع میں کارروائی قرار دیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔لیکن ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ”اگر کوئی نفرت ہے تو یہ اسرائیل کی جانب سے نفرت ہے۔اگر کوئی دہشت گردی ہے تو یہ اسرائیل ہے جس کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کیا گیا ہے”۔
طیب ایردوان نے کہا کہ ”اسرائیل کو آئینے میں دیکھنا چاہیے کہ کس نے دہشت گردی کی تیاری کی تھی”۔انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے ہی ایک شہری کی عزت کا تحفظ کرے”۔وہ اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے انیس سالہ فرقان دوگان کا حوالہ دے رہے تھے، جو ترک نژاد امریکی شہری تھے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیلی الزام کے مطابق پانچ امدادی کارکنان کے دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات تھے اور ان میں سے کوئی دہشت گرد تھا تو پھر انہیں رہا کیوں کیا گیا تھا؟
اس موقع پر شامی صدر بشار الاسد نے کہا کہ ”غزہ کا محاصرہ ختم کیا جانا چاہیے اور اس کے ساتھ اسرائیل کو مجرموں کے پنجرے میں بند کیا جانا چاہیے۔اسے الگ تھلگ رکھا جانا چاہیے تاکہ کسی اور میں وہ بیماری منتقل نہ کر سکے”۔
اس سے پہلے ترک وزیر خارجہ احمد داود اوغلو نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کی تجویز کے مطابق امدادی قافلے پر حملے کی تحقیقات پر رضا مندی کا اظہار کرنا چاہیے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ایسی کوئی ضروربات ہے جس کی اسرائیلیوں کی جانب سے پردہ داری کی جا رہی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…