Categories: مشرق وسطی

عراق: ووٹوں کی دوسری مرتبہ گنتی ختم، “دھاندلی” کا ثبوت نہیں ملا

بغداد (ایجنسیاں) عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک فٹبال مقابلے کے دوران دہرے بم دھماکوں میں 25 ہلاک ہو گئے۔ یہ ایک ہفتے میں دہشت گردی کی دوسری بڑی کارروائی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جمعہ کو ’تل افار‘ نامی علاقے میں پیش آئے اس واقعے میں زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے۔

ایک عینی شاہد حسین ناشاد کے مطابق کھیل کے میدان میں سیکورٹی اہلکار تعینات نہیں تھے، اسی اثنا میں کسی نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا اور پھر دھماکہ ہوا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے گاڑی میں چھپایا گیا بارودی مواد پھٹا اور اس کے بعد خودکش حملہ کیا گیا۔
عراق میں سلامتی کی ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ سیاسی فضا بھی غیر مستحکم ہے۔ امریکی افواج اگست کی31 تاریخ سے واپسی کی تیاریوں میں ہیں اور عراقی سیاستدان حکومت سازی کی کوششوں میں۔ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد مارچ میں ہوئے دوسرے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے حکومت سازی کے معاملات غیر یقینی کا شکار چلے آرہے ہیں۔

ووٹوں کی دوبارہ گنتی ختم
وزیر اعظم نوری المالکی کے مطالبے پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں ابھی تک دھاندلی کے واضح ثبوت نہیں ملے سکے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان قاسم ال ابودی کے مطابق بعض حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد سامنے آنے والے اعداد وشمار کو مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ حتمی نتائج پیر کو متوقع ہیں۔ ان کے بقول دارالحکومت بغداد میں گیارہ ہزار سے زائد بیلٹ باکسز‘ میں ڈالے گئے ووٹ دوبارہ گن لئے گئے تاہم نتائج میں کوئی دھاندلی ثابت نہیں ہوئی۔ بغداد کے اڑسٹھ حلقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا آغاز تین مئی کو کیا گیا تھا۔ عراقی پارلیمان مجموعی طور پر تین سو پچیس نشستوں پر مشتمل ہے۔
انتخابات کے عبوری سرکاری نتائج کے مطابق سیکولر نظریات کے حامل ایاد علاوی کے حامی اتحاد ’العراقیہ‘ کو شیعہ عقیدے کے پیروکار نوری المالکی کے حامی “اسٹیٹ لاء الائنس”پر معمولی برتری حاصل ہے۔ صوبائی سطح پر البتہ مالکی کی برتری برقرار ہے۔ مالکی کو عراق کے 18 میں سے سات صوبوں میں برتری حاصل ہے۔
عراقی پارلیمان میں نشستیں صوبائی سطح پر انتخابی نتائج کے مطابق مختص کی جاتی ہیں۔ علاوی کے اتحاد کو 91 اور نوری مالکی کے اتحاد کو 89 نشستیں جبکہ شیعہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 70 نشتیں ملی ہیں۔
نوری المالکی کی جانب سے روں ماہ ایسے دعوے کئے گئے تھے کہ ان کا شیعہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے لئے اتحاد طے پاگیا ہے تاہم اعداد وشمار کے مطابق دونوں کی مجموعی نشستوں کی تعداد بھی حکومت بنانے کے ناکافی ہے اور اکثریتی جماعت العراقیہ کو حکومت سے باہر کرنے کے منفی اثرات کا بھی خدشہ ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

مصنوعی ذہانت اور معاصر فقہ

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…

2 days ago

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

7 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

7 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

2 weeks ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

2 weeks ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

2 weeks ago