Categories: مشرق وسطی

عراق: ایک خاتون کی جانب سے خودکش حملے میں 54 افراد ہلاک

بغداد (ايجنسياں) عراقی دارالحکومت بغداد کے قریب شاب کے مقام پر ایک خودکش حملے میں کم از کم 54 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ سو سے زائد دیگر افراد زخمی ہیں۔ عراقی حکام کے مطابق یہ دھماکہ ایک خاتون خودکش حملہ آور نے کیا۔

بغداد کی آپریشنل کمانڈ کے ترجمان میجر جنرل قاسم عطاء کے مطابق  امام حسین کے چہلم کے سلسلے میں کربلا جانے والے شیعہ زائرین کے ہجوم میں ایک خاتوں نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا یا جب ایک چیک پوائنٹ پر خواتین گارڈز کربلا جانے والے قافلے میں شامل خواتین کی تلاشی لے رہی تھیں۔
پولیس حکام مطابق اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں 18 خواتین اور 12 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ زخمی افراد کی تعداد 117 ہے۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے الاوی حسن کے مطابق وہ کربلا جانے والے افراد کی دیکھ بھال میں مصروف تھے جب خواتین کی تلاشی کے لئے بنائے گئے ایک ٹینٹ میں یہ دھماکہ ہوا۔ حسن کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں انہوں نے خود کو ہوا میں اڑتے ہوئے محسوس کیا اور بے ہوش ہونے سے قبل انہوں نے بہت سے لوگوں کو زخمی حالت میں دیکھا۔ بعد ازاں انہیں ہسپتال میں ہوش آیا۔
دھماکے کا شکار ہونے والے بیشتر افراد امام حسین کے چہلم کی رسومات میں شرکت کے لئے صوبہ دیالا سے پیدل سفر کرکےکربلا جارہے تھے۔
عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس دھماکے کی ذمہ داری سابق صدر صدام حسین کی حامی بعث پارٹی پر عائد کی گئی ہے۔ بیان میں وزیراعظم نے اس حملے کا ذمہ دار بعث پارٹی اور القاعدہ ارکان کے گٹھ جوڑ کو قرار دیا ہے۔
عراقی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد الاکثری کے مطابق خودکش حملہ آور خاتون بغداد کے شمال مشرق میں واقع صوبے دیالا سے آئی تھی، جو کہ ماضی میں القاعدہ کا گڑھ رہا ہے۔ الاکثری کے مطابق اس سے قبل بھی اس صوبے سے تعلق رکھنے والی 25 خواتین خودکش  حملے کرچکی ہیں۔
امام حسین کی شہادت کے چہلم کی رسومات کے لئے لاکھوں شیعہ افراد کربلا پہنچتے ہیں۔  اس مرتبہ جمعے کے دن اختتام پزیر ہونے والی ان رسومات کی سیکیورٹی کے سلسلے میں 30 ہزار عراقی سیکیورٹی اہلکاروں کو  تعینات کیا گیا ہے۔
جرمنی اور یورپی یونین نے اس دھماکے کی سخت مذمت کی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے ساتھ اپنی ملاقات میں اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ہولناک واقعہ قرار دیا۔
اُدھر عراقی صدر  طارق الہاشمی امریکہ کے دورے پر واشنگٹن میں ہیں، جہاں امریکی صدر باراک اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن نے ان سے ملاقات کی ہے۔ نائب صدر جو بائیڈن کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس ملاقات میں مہاجرین کے مسئلے کے علاوہ عراقی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر غور کیا گیا۔
modiryat urdu

Recent Posts

مصنوعی ذہانت اور معاصر فقہ

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…

2 days ago

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

7 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

7 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

2 weeks ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

2 weeks ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

2 weeks ago