ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے یہ اقدام غلطی نہیں بلکہ دانستہ جرم ہے۔ بغیر پیشگی اطلاع کے پانی کھول کر اسرائیل غزہ کو پانی میں ڈبونا چاہتا ہے۔
ڈاکٹر سامی ابو زھری نے امدادی اداروں اور سماجی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے ایک ہزار شہریوں کو فوری طور پر رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی ضرورت ہے، جس کی فراہمی میں امدادی اداروں کو بھی دل کھول کر کردار ادا کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے گذشتہ غزہ کے قریب 1948ء کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقوں میں بارش کے پانی کوجمع کرنے کے لیے بنائے گئے ڈیموں کے دروازے کھول دیے تھے جس سے پانی کے کئی ریلے غزہ داخل ہو گئے۔ غزہ میں پانی داخل ہونے سے پچاس مکانات ڈوب جانے سے ایک ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…