- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کشادگی منصوبے کے تحت گرانے کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی طوالت اختیار کرگئی ۔
بھارت میں انتہا پسند بی جے پی حکومت کے زیر سرپرستی آپومجی، اجمیر شریف اور سہارنپور کلکٹریٹ مسجد سمیت صدیوں پرانی اسلامی عبادت گاہیں ہندوتوا مہم کا نشانہ بنی ہیں۔
تازہ واقعہ مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں پیش آیا ہے جہاں شاہی مسجد کے ایک حصے کو منہدم کرنے کے معاملے پر کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے اتوار کی رات مسجد کے قریب اور مسجد کے اندر جمع ہو کر مجوزہ کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسجد کا ڈھانچہ سڑک کشادگی منصوبے کی زد میں نہیں آنا چاہیے۔
پولیس اور میونسپل حکام اتوار کی رات مسجد کے قریب بھاری مشینری کے ساتھ پہنچے تھے تاہم بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ احتجاج کرنے والے افراد نے رات مسجد میں گزاری اور انتظامیہ سے مسجد کے حصے کو منہدم نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب پیر کی صبح انتظامیہ نے مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کا عمل شروع کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس دوران بعض افراد نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ سکیورٹی کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق علاقے میں تقریباً 2 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور مسجد کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کرکے آمد و رفت محدود کر دی گئی۔
بھارتی حکام کے مطابق تنازع اجین میں سڑکوں کی کشادگی کے منصوبے سے متعلق ہے، جس کا مقصد 2028 میں ہونے والے “سمہستھ کمبھ میلے” کے دوران شہر میں آنے والے بڑی تعداد میں زائرین کے لیے بہتر ٹریفک اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک تقریباً 900 میٹر طویل سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی زد میں مختلف مذہبی اور دیگر عمارتیں بھی آ رہی ہیں۔
شاہی مسجد کی انتظامیہ اور مسلم کمیونٹی کی جانب سے اس کارروائی پر اعتراض کیا گیا ہے۔ مسجد کے امام محمد ابراہیم کے مطابق مسجد اور دیگر مذہبی مقامات کو سڑک کشادگی کے منصوبے سے مستثنیٰ کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد ایک قدیم مذہبی مقام ہے اور اس کے ڈھانچے میں جزوی تبدیلی بھی باقی عمارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجد کا تقریباً 11 فٹ حصہ مجوزہ سڑک کی حدود میں آتا ہے۔ حکام کے مطابق مسجد کی انتظامیہ کے نمائندوں سے رات گئے مذاکرات کے بعد متاثرہ حصہ خود ہٹانے پر اتفاق ہوا تھا تاہم صبح دوبارہ احتجاج شروع ہو گیا۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے دوران بعض عناصر نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور محدود طاقت کا استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق صورتحال بعد میں قابو میں آگئی اور علاقے میں سکیورٹی برقرار رکھی گئی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کیا کہا؟
مسجد کے حصے کو منہدم کرنے کا معاملہ عدالت تک بھی پہنچ چکا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ نے 9 ستمبر کو مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ عدالت کے سامنے مسجد کو وقف جائیداد قرار دیتے ہوئے آئینی حقوق سے متعلق دلائل بھی پیش کیے گئے تھے۔
عدالت کے سامنے انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سڑک کشادگی کے عمل میں تمام متاثرہ مذہبی ڈھانچوں کے ساتھ یکساں طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سمہستھ کمبھ 2028 کے دوران متوقع بڑی تعداد میں زائرین، ٹریفک مینجمنٹ اور عوامی سہولیات کی ضرورت کو بھی مدنظر رکھا۔

بھارت میں اسلام دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی
بھارت میں جب سے انتہا پسند بی جے پی اقتدار میں ہے ، ان کا مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک اورمسلم املاک کو منہدم کرنے کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔
معروف ترک نشریاتی ادارہ ٹی آر ٹی کے مطابق بھارت نے دہلی کے شالیمارباغ میں قائم مدینہ مسجد کورات کی تاریکی میں شہید کیا۔مقامی رہائشیوں نے مسجد کے اندرافراد کی موجودگی کے باوجود انہدامی کارروائی پرشدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی نشریاتی ادارہ مسلم نیٹ ورک ٹی وی کی تحقیقات کے مطابق بھارت میں چھ سالہ بلڈوزرمہم کے دوران 2,100 سے زائد مسلم عبادت گاہوں اور عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ۔
2020 کے دہلی فسادات کے دوران بھی کم از کم 17 مساجد، مدارس اور مزارات کو حملوں کے بعد نذرِ آتش کیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بھارت میں اسلامی مقدس مقامات کی منظم اور ریاستی سرپرستی میں مسماری پر گہری تشویش اور مذمت کا اظہار کیا گیا ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان کے مطابق بھارت میں اسلامی مقدس مقامات کی مختلف بہانوں سے منظم مسماری 1950 کے انڈیا پاکستان معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں جاری جبر اس کے اپنے قوانین، بالخصوص 1991 کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت عبادت گاہ کا مذہبی تشخص وہی برقرار رہنا چاہیے جو 15 اگست 1947 کو تھا۔
ہندوتوا پر مبنی اسلاموفوبک مہم نے صدیوں پرانے ورثے اور عبادت گاہوں کی تباہی کو فوری خطرے سے دوچار کر دیا ہے، آپومجی، اجمیر شریف اور سہارنپور کلکٹریٹ مسجد سمیت صدیوں پرانی اسلامی عبادت گاہیں ہندوتوا مہم کا نشانہ بنی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ 1992 میں تاریخی بابری مسجد کی مسماری مذہبی عدم برداشت، تعصب اور نفرت پر مبنی نظریے کی ایک ہولناک یاد ہے۔