- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں چند دن ایکسیڈنٹ کی وجہ سے نماز کھڑے ہو کر پڑھانے سے عاجز رہا بعض اوقات رکوع وسجدہ بھی اشارے سے کرتا رہا تو میں نے معذوری کی وجہ سے جو نمازیں پڑھائی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ مقتدیوں سے اعادہ کروانا ضروری ہے یا نمازیں درست ہو گئی؟

جواب

۱— واضح رہے کہ آپ نے جو نمازیں بیٹھ کر سجدہ ورکوع کے ساتھ پڑھائی ہیں، ان نمازوں کا اعادہ مقتدیوں پر لازم نہیں۔
۲— جو نمازیں آپ نے اشارے کے ساتھ سجدہ اور رکوع کر کے پڑھائیں ان نمازوں کا اعادہ مقتدیوں پر لازم ہے۔
لما في البحر:
”(قوله: وغير موم بموم) أي: فسد اقتداء من يقدر على الركوع والسجود بمن لا يقدر عليهما للعذر لقوة الحال المقتدي، قيد به لأن اقتداء المومي بالمومي صحيح للمماثلة كما سيأتي.” (كتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/ 631، رشيدية)
وفي النهر:
”(قوله: وغير مومي بمومي) لقوة الحال الراكع والساجد على المومي.” (كتاب الصلاة، باب الإمامة والحدث في الصلاة، 1/ 252، رشيدية)
وفي مجمع الأنهر:
”(قوله: والقائم بالقاعد) لأنه عليه السلام صلى آخر صلاته قاعدا، والقوم خلفه قيام.” (كتاب الصلاة، 1/ 169، الغفارية)
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:
”قوله: (وصح اقتداء قائم بقاعد) أي: يركع ويسجد، وهذا عندهما، خلافا لمحمد، وقوله أحوط كما في “البرهان” وغيره.” (كتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/ 52، دار الكتب بشاور).فقط. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 192/294