شیخ الاسلام مولانا عبد الحمید نے 24 جولائی 2026ء کو خطبہ جمعہ کے دوران “عدل و انصاف کی ترویج”، “قانونی آزادیوں کی ضمانت”، اور “متحرک معیشت” کو کسی بھی نظام اور حکومت کی بقا کے ذرائع قرار دیا۔
انہوں نے اس بات کے اظہار کے ساتھ کہ “خدا کی رضا عوام کی رضا میں ہے”، تاکید کی: کوئی بھی حکومت اپنے لوگوں کی حمایت اور رضامندی حاصل کیے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔
“ایک صحیح اور متحرک معیشت” میں بھوکوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے نہ یہ کہ پیٹ بھرے لوگوں کو بھوکا کیا جائے
مولانا عبد الحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کی تقریب کے دوران اپنی تقریر کے ایک حصے میں فرمایا: کسی بھی نظام اور حکومت کی حفاظت اور بقا کا واحد طریقہ—خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی—عدل، انصاف اور مساوات کی ترویج، قانونی، روایتی اور بین الاقوامی آزادیوں کی فراہمی، اور صحیح پالیسیوں پر عمل درآمد ہے۔
انہوں نے “صحیح اور متحرک معیشت” کو حکومتوں کی بقا کا ایک اور ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا: حکومتوں کی بقا کا راستہ ایک صحیح اور متحرک معیشت کے ذریعے ہے؛ ایک ایسی معیشت جس میں بھوکوں کا پیٹ بھرا جائے، نہ کہ سیر لوگوں کو بھوکا کیا جائے۔ ایک ایسی معیشت جس میں ملک کی قومی کرنسی کی قدر ہو اور وہ عالمی کرنسیوں کا مقابلہ کر سکے۔
اگر عوام ناراض ہوں تو اللہ بھی ناراض ہوتا ہے
خطیبِ جمعہ زاہدان نے “اللہ اور عوام کو خوش رکھنے” کو حکومت کی بقا کے دیگر ذرائع میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: اللہ اور عوام کو راضی رکھنا حکومتوں کی بقا کا راستہ ہے۔ ہر حکومت عوام دوست پالیسیوں، عوام پروری، اور عوام کی حمایت و رضامندی حاصل کر کے ہی قائم رہ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر عوام ناراض ہوں تو اللہ بھی ناراض ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی پوری زندگی نماز، تلاوت اور طواف کعبہ میں گزار دے لیکن لوگوں کے حقوق تلف کرے، وہ جنّت میں داخل نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ایسے تدیّن اور دین داری کو قبول نہیں فرماتا جس میں لوگوں کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت فرمائی ہے کہ وہ فقراء اور مساکین کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں اور ان کی صحبت اختیار کریں۔
“تعصب و ناانصافی”، “سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈالنے”، اور “احتجاج کرنے والوں کی سیاسی پھانسیوں” کے ذریعے حکومت نہیں کی جا سکتی
ملک میں “پھانسیوں” میں اضافہ ہوا ہے؛ یہ پھانسیاں مذہب کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ملک کے لیے داخلی و بین الاقوامی نتائج کا باعث بنتی ہیں
مولانا عبد الحمید نے مزید اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میں خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبے سے کہتا ہوں کہ تعصب، ناانصافی، آزادیِ اظہار و قلم پر پابندی، سیاستدانوں کو قید کرنے اور مظاہرین کو پھانسی دینے سے حکومت نہیں کی جا سکتی؛ یہ حکومت کی بقا کا طریقہ نہیں ہے۔
ملک میں پھانسیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا: افسوس کہ ان دنوں پھانسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پھانسیاں دین کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں اور لوگوں میں دین کے بارے میں بدگمانی پیدا کرتی ہیں، اور ملک کے لیے بھی داخلی و بین الاقوامی نتائج رکھتی ہیں۔
زاہدان کے خطیب نے زور دیا: اللہ تعالیٰ بھی ان پھانسیوں سے ناراض ہوتا ہے، کیونکہ الٰہی اور شرعی قوانین میں اس طرح کی پھانسیاں موجود نہیں ہیں۔ یہ پھانسیاں نبی اکرم ﷺ، خلفائے راشدین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کی سیرتِ طیبہ میں نہیں تھیں۔ اس لیے میں خیر خواہی سے تاکید کرتا ہوں کہ پھانسیوں کا سلسلہ بند کریں، عدل و انصاف کی ترویج کی کوشش کریں، اور عوام کے مطالبات کا مداوا کر کے ان کی رضامندی حاصل کریں۔