شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 26 جون 2026ء زاہدان میں نماز جمعہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی عوام کے متعدد مسائل، خصوصاً معاشی اور معاشرتی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاکرات میں قومی مفادات اور عوام کی زندگی کی بہتری کو پہلی ترجیح دی جانی چاہیے اور اسے کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات پر مقدم رکھا جائے۔
ایرانی قوم کے مفادات کو مذاکراتی ٹیم کی سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: ہم امن اور بات چیت کے حامی ہیں۔ قرآن مجید میں بھی آیت “وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ” میں اسی بات کی تاکید کی گئی ہے۔ اس لیے میں ان مذاکرات، بات چیت اور صلح کو ایرانی قوم اور دنیا کی دیگر قوموں کے لیے مفید سمجھتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں قوموں کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔ ایرانی قوم کے مفادات کو پہلی ترجیح دی جانی چاہیے اور ہماری مذاکراتی ٹیم کے لیے ایرانی قوم کے مفادات کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات پر مقدم ہونے چاہییں۔
امریکہ اور ایران کے قومی مفادات کو اسرائیل اور لبنان سے نہیں جوڑنا چاہیے
خطیبِ جمعہ زاہدان نے کہا: امریکیوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اسرائیل کو اپنی ریڈ لائن قرار دیں۔ اسی طرح ہمارے ملک کے ذمہ داران کے لیے بھی ان مذاکرات میں ایرانی قوم اور قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ میں یہ درست نہیں سمجھتا کہ امریکہ اور ایران کے قومی مفادات اسرائیل اور لبنان سے جوڑ دیے جائیں۔
انہوں نے کہا: ان دنوں ایرانی عوام نہایت سخت معاشی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، مہنگائی اور بدحالی عروج پر ہے اور لوگ بند گلی کا شکار ہیں۔ لہذا ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ مظلوموں کے حقوق کی حمایت اچھی بات ہے، لیکن ملک کے مفادات اور مستقبل کو کسی دوسرے ملک سے جوڑنا ایرانی قومی مفادات کے مطابق نہیں ہے۔
ایران اور امریکہ اپنے مسائل حل کرنے کے بعد اسرائیل، لبنان اور فلسطین کے مسئلے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کر سکتے ہیں / مشرق وسطیٰ کے مسائل کا حل تمام ممالک کی شرکت سے ممکن ہے
ممتاز عالم دین نے کہا: ایران اور امریکہ جب اپنے مسائل حل کر لیں اور ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیں تو اسرائیل، لبنان اور فلسطین کے مسئلے کو آسانی سے سفارتکاری کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: جب تک مشرق وسطیٰ کے مسائل حل نہیں ہوتے، مشکلات برقرار رہیں گی۔ مشرق وسطیٰ کے مسائل کا حل تمام ممالک کی کوشش اور شرکت سے ممکن ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کا مشرق وسطیٰ میں مفاد ہے۔ کب تک یہ اختلافات موجود رہیں گے اور مشرق وسطیٰ جنگ کی آگ میں جلتا رہے گا؟
ملک چلانا اور قومی مفادات کا تحفظ جذبات اور نعروں سے ممکن نہیں
مولانا عبدالحمید نے ملک کے انتظام میں “جذبات اور نعروں سے اجتناب” کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: نبی کریم ﷺ نے منافقین، مشرکین، یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف جو مسلمانوں سے دشمنی کرتے تھے کبھی “مردہ باد” کا نعرہ نہیں لگایا۔ اس لیے ہم بھی کسی ملک یا قوم کے خلاف “مردہ باد” کا نعرہ نہ لگائیں۔ اگرچہ کچھ لوگ توجیہ کرتے ہیں کہ ان کا مطلب قوم سے نہیں ہے، لیکن جب کسی ملک کے خلاف موت کا نعرہ لگایا جاتا ہے تو اس میں قوم بھی شامل ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا: سینتالیس سال پرانے نعرے جاری رکھنا مناسب نہیں، کیونکہ حالات بدل چکے ہیں اور ابتدائی انقلاب والے زیادہ تر اب موجود نہیں۔ ہمیں حالات کو سمجھنا چاہیے۔ ملک چلانا، حکومت کا تسلسل اور قومی مفادات کا تحفظ جذبات اور نعروں سے ممکن نہیں۔ ہمارے ملک میں نیا دور کا آغاز ہونا چاہیے اور بات چیت کا باب کھلنا چاہیے۔ جیسا کہ آپ بیرونی لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں، اپنے ہی لوگوں کے ساتھ بیٹھیں، بات کریں اور ان کی خواہشات پر توجہ دیں۔
اہواز کے لوگ “دباؤ” اور “قانونی آزادیوں پر پابندی” کی شکایت کر رہے ہیں / ملک کو نئے دور کی ضرورت ہے جس میں دباؤ ختم ہو اور مسالک و قومیتوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے
مولانا عبدالحمید نے اہواز کے لوگوں کی قانونی آزادیوں پر قدغن لگانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اہواز کے لوگ ان پر ہونے والے دباؤ کی شکایت کر رہے ہیں۔ اہواز کے اہل سنت بھی شکایت کر رہے ہیں کہ وہ ضروری قانونی آزادیوں سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا: ملک کو ایک نئے دور کی ضرورت ہے جس میں پورے ملک سے دباؤ ختم کیا جائے اور لسانی و مذہبی برادریوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ کچھ اقلیتوں، خصوصاً سرحدی علاقوں میں، جن میں صوبہ خوزستان کے لوگ شامل ہیں اور خاص طور پر اس صوبے کے اہل سنت جو حنبلی ہیں، ہمیشہ دباؤ اور حقوق کی پامالی کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
خطیب جمعہ زاہدان نے تاکید کی: ہم حکومت، سلامتی کونسل اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اہواز کے لوگوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے کوشش کریں اور مختلف برادریوں کے حقوق اور آزادیوں کا خیال رکھیں جن پر دین اسلام، بین الاقوامی قوانین اور ملک کے دستور میں زور دیا گیا ہے۔
سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور لسانی و مذہبی برادریوں اور سیاستدانوں کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھولا جائے
مولانا عبدالحمید نے “سیاسی قیدیوں کی رہائی” پر بھی زور دیا اور کہا: نئے حالات میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور ان سے بات چیت کی جائے۔ سول سوسائٹی کو مضبوط کیا جائے اور ان لوگوں کی حمایت کی جائے جو سول طریقوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کوئی بھی تشدد کو قبول نہیں کرتا اور ہم بھی نہیں کرتے، لیکن پوری دنیا سول سرگرمیوں کو قبول کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: لسانی و مذہبی برادریوں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ بات چیت کا باب کھولا جائے۔ یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہے، ملک کی عالمی ساکھ بڑھائے گا، مہنگائی اور افراطِ زر کو روکے گا اور اللہ اور عوام کی رضا بھی اسی میں ہے۔
پاکستانی حکام ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سول کارکنوں کی عمر قید کی سزا ختم کرکے انہیں رہا کریں
ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے صدر مقام زاہدان کے ممتاز عالم دین نے نماز جمعہ کے خطاب کے دوران پاکستان کے بلوچستان میں “بلوچ یکجہتی کمیٹی” کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سول کارکنوں پر عمر قید کی سزا کا ذکر کرتے ہوئے کہا: حال ہی میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جو ایک سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیم کی قیادت کرتی ہیں اور بلوچستان کے بعض دیگر سول کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا: محترمہ ماہ رنگ بلوچ نے بلوچ قوم کے مطالبات کی پیروی پرامن جدوجہد اور تشدد سے اجتناب کے ذریعے کی تھی۔ میں نے پہلے بھی پاکستان کے حکام سے کہا تھا کہ جو تنظیمیں اور لوگ سول طریقوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں وہ اس ملک خصوصاً صوبہ بلوچستان کے لیے موقع ہیں اور انہیں مضبوط کیا جانا چاہیے۔ یہ پاکستان کی قومی سلامتی میں مدد دے گا۔
انہوں نے کہا: پاکستان ایران کا پڑوسی ملک ہے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان کے حکام کو مشورہ دیتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سول کارکنوں کی سزا ختم کر کے انہیں رہا کریں۔ حکام ان سول کارکنوں سے بات چیت کے ذریعے مسلح سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے والوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
بلوچستان کے لوگ شاہراہیں بند نہ کریں
مولانا عبدالحمید نے بلوچستان میں سڑکوں کی بندش سے اجتناب کی تاکید کرتے ہوئے کہا: میری بلوچستان کے لوگوں سے درخواست ہے کہ مواصلاتی راستوں کو بند نہ کریں اور گاڑیوں کو آگ نہ لگائیں، کیونکہ یہ کام سب سے پہلے دونوں طرف بلوچ عوام کے لیے نقصان دہ ہے اور پھر ملک کے لیے۔ راستے کھلے رہنے چاہییں تا کہ مسافر محفوظ طور پر سفر کر سکیں۔
وینزویلا کا زلزلہ “ہولناک” تھا
مولانا عبدالحمید نے وینزویلا میں حالیہ زلزلے کو “ہولناک اور بے مثال” قرار دیتے ہوئے کہا: وینزویلا میں پیش آنے والے ہولناک اور بے مثال زلزلے میں بہت سے لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو ونزویلا کے لوگوں سے دور فرمائے۔
انہوں نے کہا: ان واقعات کا پیغام یہ ہے کہ انسان فساد اور ظلم سے باز آ جائیں اور اگر وہ امن میں رہنا چاہتے ہیں تو صحیح طریقے سے زندگی گزارنی چاہیے۔
دینی مدارس گرمیوں کی تعطیلات میں طلبہ و طالبات کے لیے منصوبہ بندی کرچکے ہیں؛ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں
مرکزی خطیب زاہدان نے خطاب کے اختتام پر گرمیوں کی تعطیلات میں دینی مدارس کی بندش اور ان کے طلبہ و طالبات کے لیے خصوصی سمر کلاسز کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے عام خاندانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اہل سنت کے علماء اور دینی مدارس، خصوصاً دارالعلوم زاہدان کے طلبہ امور کے دفاتر کے گرمیوں کے پروگراموں کا خیر مقدم کریں اور اپنے بچوں کو ان کلاسز اور پروگراموں میں شرکت کی ترغیب دیں۔