- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

حج ایک عظیم عبادت اور غیر معمولی اجتماع ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کے خطاب (22 مئی 2026) کے پہلے حصے میں، حج کے اجتماع کو مسلمانوں کا بڑا اور غیر معمولی اجتماع قرار دیتے ہوئے کہا: حج اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم، بڑا اور استثنائی اجتماع ہے، جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے، مختلف زبانوں، قومیتوں، رنگوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے حاجی جمع ہوتے ہیں اور بارگاہ الہی میں مناجات اور راز و نیاز کرتے ہیں۔

ذوالحجہ کے پہلے عشرے کو غفلت میں نہ گزاریں
زاہدان کے اہل سنت خطیب کی ویب سائٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آغاز میں سورہء مبارکہ الفجر کی ابتدائی آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سورہء فجر میں ذوالحجہ کے پہلے عشرے اور صبح عرفہ (اور ایک قول کے مطابق عید کی صبح) کی قسم کھائی ہے، جو اللہ کے نزدیک ان ایام کے خاص مقام اور فضیلت کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ذوالحجہ کا پہلا عشرہ عبادت، توبہ، استغفار اور ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی کے لیے بہترین مواقع میں سے ہے۔ لہذا اِن دنوں کو غفلت میں نہ گزاریں۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں کیے گئے نیک اعمال سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب نہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں، نیک کام کریں اور لوگوں کو فائدہ پہنچائیں۔ قربانی اور عید کی نماز اس عشرے کی سب سے بڑی عبادات اور اعمال میں سے ہیں۔
خطیب جمعہ زاہدان نے کہا: روایات میں ہے کہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اجر رکھتا ہے اور یوم عرفہ (9 ذوالحجہ) کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتا ہے۔

حج دین اسلام کے عظیم ارکان میں سے ہے
مولانا عبدالحمید نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: ذوالحجہ کا پہلا عشرہ حج کے ایام بھی ہیں۔ حج اسلام کی عظیم عبادات اور ارکان میں سے ایک ہے۔ حج اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم اور غیر معمولی اجتماع ہے جہاں دنیا بھر سے مختلف رنگ و نسل کے لوگ حرمین شریفین کی سرزمین پر، جو شعائر اللہ ہے، جمع ہوتے ہیں، مناسک حج ادا کرتے ہیں اور اللہ کے حضور رو رو کر زاری کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ دنیا والوں میں اعلان کر دیں کہ وہ دور و نزدیک سے خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کی ادائیگی کے لیے اس سرزمین پر آئیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس اعلان کو قیامت تک تمام جہانوں تک پہنچا دیا، چنانچہ پوری تاریخ میں انسان دنیا کے کونے کونے سے کعبہ کی زیارت کے لیے اس سرزمین کا رخ کرتے رہے ہیں۔

سرزمین حرمین ہدایت کا بڑا مرکز اور قبولیت دعا کا مقام ہے
خطیبِ زاہدان نے کہا: حرمین شریفین کی سرزمین ہدایت، اصلاح اور مغفرت کے بڑے مراکز میں سے ہے اور دعا، توبہ اور عبادات کی قبولیت کی جگہ ہے۔ وہاں حاجی توبہ کرتے ہیں کہ دوبارہ گناہ نہیں کریں گے اور حقوق اللہ و حقوق الناس کا خیال رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: اگرچہ حج پر جانے والے اس سرزمین کی خصوصی برکات سے فیضیاب ہوتے ہیں، لیکن حج اور اس کے مناسک کی برکات صرف حاجیوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں اور دنیاوالوں تک پہنچتی ہیں، کیونکہ اس پاک سرزمین پر تمام انسانوں اور مسلمانوں کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔

افراط و تفریط انسان کے دین اور دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے / اللہ کے رسول افراط اور شدت پسندی سے بیزار تھے
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے ایک اور حصے میں دینی اور دنیاوی معاملات میں اعتدال اور میانہ روی پر زور دیتے ہوئے کہا: تمام معاملات میں اعتدال اور میانہ روی انتہائی ضروری اور اہم ہے۔ افراط و تفریط انسان کے دین اور دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے اور دونوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ معیشت اور تجارت میں افراط و تفریط مال اور سرمایہ کو ختم کر دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: سیاست اور نظم و نسق میں افراط اور شدت پسندی سب امور کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام معاملات میں اعتدال، میانہ روی اور نرمی کو پسند فرماتے تھے اور افراط و انتہاپسندی سے بیزار تھے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق اور نرم برتاؤ سے دشمنوں کو دوست بنا لیا
ممتاز عالم دین نے واضح کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق اور نرم مزاجی سے دنیا کو متاثر کیا، دشمنوں پر اثر ڈالا اور انہیں دوستوں میں تبدیل کر دیا۔ لوگ سخت مزاج انسانوں سے دور بھاگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آنحضور علیہ السلام سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: «فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ» [آل عمران: 159] یعنی اللہ کی رحمت کے باعث آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے، اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔ اگر کوئی حکمران، باپ، عالم یا قوم کا بڑا تیز مزاج اور سخت دل ہو تو لوگ اس سے متنفر ہو کر اس کے پاس سے دور جاتے ہیں۔

عوام انتہائی مشکل حالات میں ہیں اور بھوک برداشت کر رہے ہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں معاشی مسائل، عوامی معیشت کی ابتر صورتحال اور بے لگام مہنگائی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اس ملک اور اس کے عظیم وسائل کی اصل مالک ہے، لیکن اس وقت وہ انتہائی سخت حالات کا سامنا کر رہی ہے اور لوگ بھوک کا شکار ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگ سے پہلے ہی ملک کی معاشی حالت اور عوام کی زندگی تباہی کے دہانے پر تھی، قومی کرنسی اپنی قدر کھو چکی تھی اور افراط زر و مہنگائی عروج پر تھی، لیکن اب جب کہ ملک جنگی حالات میں ہے، مہنگائی اور افراط زر کی کوئی حد نہیں رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی شریف اور عظیم قوم اس ملک اور اس کی دولت کی اصل مالک ہے، لیکن وہ انتہائی مشکل حالات میں جی رہے ہیں۔ ان حالات میں ان لوگوں کا خیال کون رکھے گا؟ وہ لوگ جو اس حوالے سے ذمہ دار ہیں اور معاملات جن کے اختیار میں ہیں، وہ قیامت کے دن اس قوم کے مصائب اور سختیوں کا کیا جواب دیں گے؟

داخلی اور خارجی پالیسیوں میں حکومت کا کوئی مؤثر کردار نہیں ہے / مسئلہ آئین میں ہے
خطیب زاہدان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عوام کا کہنا ہے کہ ہم نے ایسی حکومت منتخب کی ہے جس کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ دنیا میں دیگر مقامات پر داخلی اور خارجی پالیسیوں سے متعلق فیصلے حکومت کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں حکومت کا دوسروں کی پالیسیوں کے نفاذ کے علاوہ، داخلی اور خارجی پالیسیوں میں کوئی مؤثر کردار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ آئین میں ہے اور جب تک آئین میں تبدیلی نہیں لائی جاتی، کوئی بھی ہمارے ملک کے حالات کو درست نہیں کر سکتا۔ ملک کے مسائل اور بحرانوں کا جڑوں سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

ایرانی عوام کے پاس کہنے کو بہت سی باتیں اور شکایات ہیں
مولانا عبدالحمید نے کہا: ایرانی عوام بہت سے گلے شکوے رکھتے ہیں، انہوں نے اپنا مادی سرمایہ کھو دیا ہے اور بہت سے لوگوں کی دینداری اِن سیاسی کشمکشوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے اور وہ دین سے بدظن ہو گئے ہیں۔ دین، پیغمبر اور قرآن میں کوئی عیب یا کمزوری نہیں ہے، جو بھی کمزوری ہے وہ ہم انسانوں کے عمل میں ہے۔ لہذا میری نصیحت یہ ہے کہ انسانوں کی ناقص کارکردگی کو دین کے کھاتے میں نہ ڈالیں اور دین سے بدگمان نہ ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمارے ملک سے آفات اور مشکلات کو دور فرمائے اور ملک کی صحیح سمت میں رہنمائی فرمائے تاکہ ایران کی عزیز قوم ان دکھوں سے نجات پائے اور عزت و سربلندی حاصل کرے۔

انٹرنیٹ کی بندش عوام کو اذیت دے رہی ہے؛ اس سلسلے کو ختم کریں
ایران کے ممتاز عالم دین نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں ملک میں بین الاقوامی انٹرنیٹ کی بندش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی بندش عام لوگوں کے لیے اذیت ناک ہے۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ انسانی ضروریات میں شامل ہے اور اقوام کی زندگی کے تمام شعبے انٹرنیٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش کا سلسلہ ختم کریں تاکہ یہ سب کی دسترس میں ہو اور لوگ اس تکلیف سے نجات حاصل کر سکیں۔