شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 13 مارچ 2026 کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین کو جذبات کے بجائے دانش مندی اور عقل مندی سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا بہترین حل یہ ہے کہ ایرانی عوام ایک دوسرے کی بات سنیں۔ کاش حکام ماہرین کے مشوروں پر توجہ دیتے تاکہ بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جا سکتا۔
زاہدان کے خطیبِ جمعہ نے ایران اور پڑوسی ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے تاریخی تعلقات اور مشترکہ مفادات کی خاطر ان حالات میں ایک دوسرے کو برداشت کریں۔
ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اس میں ترقی کی بڑی صلاحیتیں موجود ہیں
زاہدان کے اہل سنت کے خطیبِ جمعہ کے دفتر کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے کہا آج کل ہمارا ملک بہت مشکل امتحانات سے گزر رہا ہے۔ ایران خطے کا ایک اہم اور مرکزی ملک ہے جس کے فوائد پڑوسیوں اور بہت سی دوسری قوموں تک پہنچے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران بے پناہ صلاحیتوں اور بڑے اثاثوں کا مالک ہے اور دنیا کی نظریں ان وسائل پر لگی ہوئی ہیں، لیکن ایرانی عوام ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کے پہلے حقدار ہیں، کیونکہ یہ تمام وسائل قومی ملکیت ہیں اور اس قوم کے ہیں جس کے آباؤ اجداد نے ملک کے دفاع کے لیے جانیں دیں اور سختیاں جھیلیں۔
اس جنگ میں مارے جانے والے ایران ہی کے شہری ہیں اور تباہ ہونے والے اثاثے قومی سرمایہ ہیں
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا کہ پچھلے چند سالوں سے ملک میں کچھ اختلافات چل رہے ہیں اور عوام کی اکثریت تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں یہ رواج ہے کہ نئی نسل اور نئے حالات کے مطابق قوانین میں تبدیلیاں لائی جاتی ہیں۔ قرآن مجید میں بھی ارشاد ہے کہ اللہ تعالی پچھلے احکامات کی منسوخی اور نئے احکامات کے نزول میں بہتری رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا : جنوری میں پیش آنے والا واقعہ(ایرانی مظاہرین کی خونی سرکوبی) بہت تکلیف دہ تھا۔ اس میں ایران کے بہت سے پیارے مارے گئے اور اس کے بعد ملک کے خلاف جنگ شروع ہوگئی جس میں جانی اور مالی نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ اس جنگ میں ہمارے بہت سے ہم وطن جاں بحق ہوئے اور بڑا سرمایہ ضائع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جاری جنگ میں جو لوگ مارے جا رہے ہیں وہ ایرانی ہیں اور جو جائیدادیں تباہ ہو رہی ہیں وہ بیت المال کے پیسوں سے بنائی گئی قومی ملکیت ہیں۔ میں تمام متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ دنیا میں چاہے غزہ ہو، فلسطین ہو یا یوکرین، جہاں بھی انسان مارے جاتے ہیں، خاص طور پر مظلوم، و ہ افسوسناک ہے۔
اگر حکام لوگوں کی بات سنتے تو کوئی طاقت ہم سے جنگ نہیں کر سکتی تھی
مولانا عبدالحمید نے واضح کیا کہ میں نے پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ اگر عوام اور حکام ایک دوسرے کی بات سنیں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کریں تو کوئی طاقت ہم سے جنگ نہیں کر سکے گی۔ کاش حکام لوگوں کی پکار سنتے تاکہ بات غیر ملکی مداخلت تک نہ پہنچتی۔ ایسی صورتحال میں دشمن فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا : میرا اب بھی یہی ماننا ہے کہ حکام کو حل تلاش کرنا چاہیے اور بہترین حل ملک کے اندر ہے۔ ایرانی عوام کو خود مل بیٹھ کر ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے۔ جذبات کے بجائے عقل سے کام لیں تاکہ ہم ان مسائل سے نکل سکیں اور ملک انصاف، آزادی اور صحیح راستے پر گامزن ہو کر ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔
سیاسی قیدیوں کو رہا کریں اور ان کی اور دیگر ماہرین کی بات سنیں
مولانا عبدالحمید نے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ان کے مشوروں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا : میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کریں اور تنقید کرنے والوں یا ماہرین کو جیل میں نہ ڈالیں۔ خواتین، مردوں، علما اور دانشوروں کے ساتھ بیٹھیں اور ان کی بات سنیں۔ یا تو انہیں قائل کریں یا ان کی بات مان لیں۔
انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بادشاہ نے آپ کو جیل سے رہا کیا اور ذمہ داری دی تو آپ نے قحط سے لوگوں کو بچایا۔ میرا مشورہ ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کریں اور ان سے بات کریں تاکہ وہ جنگ روکنے کا حل دیں۔ جنگ اچھی چیز نہیں ہے، امن بہتر ہے۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ صلح بہتر ہے۔
ایران اور پڑوسی ممالک کے تاریخی تعلقات ہیں؛ ایک دوسرے کا خیال رکھیں
آخر میں مولانا عبدالحمید نے ایران اور پڑوسی ممالک کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے درمیان تاریخی روابط اور مشترکہ مفادات ہیں۔ میری یہ نصیحت ہے کہ یہ ممالک ایک دوسرے کا لحاظ کریں اور مل کر رہیں۔
مفتی محمدقاسم قاسمی نے 5 جون 2026ء کو زاہدان کے نمازِ جمعہ اجتماع میں خانۂ…
دنیا میں تمام گناہوں اور فساد کا سرچشمہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا یا…
ہمیں امید ہے ایران امریکا کے درمیان معاہدے کی کوششیں کامیاب ہوں گی اور جنگ…
حج اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم، بڑا اور…
ایمان، عملِ صالح، حق اور صبر کی تلقین فلاح و کامیابی کے چار بنیادی محور…
ہم تمام انسانوں کے خیرخواہ ہیں اور ایرانی قوم اور ملک کی بہتری اور فلاح…