شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 27 فروری 2026ء کو زاہدان کے نماز جمعہ کے اجتماع میں ملک کے بعض جامعات میں حالیہ دنوں کے احتجاجات کے ردِّعمل میں “طلبہ کے احترام” اور “طلبہ و دانشور حلقوں کی بات سننے اور ان کے مطالبات پر توجہ دینے” کی ضرورت پر زور دیا۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں فرمایا کہ یونیورسٹیاں ہر معاشرے میں نہایت اہم اور بنیادی مراکز سمجھی جاتی ہیں، جو دنیا کے تمام ممالک میں تحریکوں، احتجاجات اور دیگر سماجی معاملات میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں۔
انہوں نے مزید فرمایا: ایران کے عوام ابھی تک جنوری کے واقعات کے حوالے سے دل گرفتہ اور رنجیدہ ہیں۔ ان دنوں جامعات بند کردی گئی تھیں اور اب جب دوبارہ کھولی گئی ہیں تو طلبہ اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ طلبہ کے احترام کا خیال رکھیں، ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی بات سنیں اور ان کے مطالبات پر توجہ دیں۔
انہوں نے کہا: حکام طلبہ کے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کریں تاکہ کوئی نیا زخم نہ لگے، بلکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ طلبہ کی بات سننا اور ان پر توجہ دینا ہی بہترین راستہ ہے۔
عدل کا نفاذ، امن اور اقوام کی رضامندی کا ضامن ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے تسلسل میں عدل کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے اسے امن اور اقوام کی رضامندی کا ضامن قرار دیا اور فرمایا: وہ نسخہ جو تمام اقوام کے امن، سکون اور اطمینان کو یقینی بنا سکتا ہے، عدل اور انصاف کا نفاذ ہے۔ کاش دنیا کی حکومتیں اس حقیقت کو جانتیں اور اس پر یقین رکھتیں۔
انہوں نے واضح کیا: ضروری آزادیوں کی فراہمی اور قومیتوں، مذاہب، عورتوں اور مردوں کے درمیان امتیازات کا خاتمہ، عدل کے نفاذ ہی کا حصہ ہیں۔ جو بھی حاکم یا حکومت عدل و انصاف سے کام لے گی، وہ اپنی قوم کے لیے امن، آسائش اور رضامندی حاصل کرے گی۔ کوئی بھی طاقتور حکومت عدل و انصاف کے بغیر حقیقی امن قائم نہیں کر سکتی۔
خطیبِ جمعہ زاہدان نے مزید کہا: اگر عدل نہ ہو تو ایٹمی طاقت کے ذریعے بھی اقوام کے لیے امن و آسائش فراہم نہیں کی جا سکتی۔ جو حاکم تنگ نظر ہو، وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے دنیا کو جہنم بنا دیتا ہے۔ تمام لوگوں کو دیکھنا اور ان کی بات سننا ہی امن اور آسودگی کا باعث بنتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کسی کے مفاد میں نہیں
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: افغانستان اور پاکستان دو اسلامی ممالک ہیں جو ایک دوسرے کے ہمسایہ ہیں اور ان کے درمیان تاریخی تعلقات کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ دونوں ممالک کے عوام نسلی و خاندانی روابط کے ساتھ ساتھ دینی اعتبار سے بھی بے شمار مشترکات رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: پاکستان اور افغانستان کے باہمی مفادات مشترک ہیں اور ان کے درمیان جنگ کسی بھی فریق کے حق میں نہیں۔ لہٰذا میری پاکستان اور افغانستان کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ وہ ایک دوسرے کی سرزمین اور سرحدوں کا احترام کریں، دوسروں کی اشتعال انگیزی پر توجہ نہ دیں اور اپنے مسائل کو مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے حل کریں۔
پاکستان اور افغانستان کے علماء دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے پیش قدمی کریں
ایران کے ممتاز عالم دین نے مزید کہا: میری پاکستان اور افغانستان کے علماء اور عوامی رہنماؤں سے بھی درخواست ہے کہ وہ ان دونوں برادر ممالک کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پیش قدمی کریں اور اس تنازع کو مزید بڑھنے نہ دیں۔
مفتی محمدقاسم قاسمی نے 5 جون 2026ء کو زاہدان کے نمازِ جمعہ اجتماع میں خانۂ…
دنیا میں تمام گناہوں اور فساد کا سرچشمہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا یا…
ہمیں امید ہے ایران امریکا کے درمیان معاہدے کی کوششیں کامیاب ہوں گی اور جنگ…
حج اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم، بڑا اور…
ایمان، عملِ صالح، حق اور صبر کی تلقین فلاح و کامیابی کے چار بنیادی محور…
ہم تمام انسانوں کے خیرخواہ ہیں اور ایرانی قوم اور ملک کی بہتری اور فلاح…