- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع میں «جنگ کے سنگین نتائج» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شخص جنگ اور دشمن سے ٹکراؤ کی خواہش نہ کرے۔ انہوں نے کہا: جنگ کی روک تھام ذمہ داران کے ہاتھ میں ہے اور انہیں چاہیے کہ جنگ کو روکنے کے لیے تدبیر اختیار کریں۔

سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبے میں کہا: ان دنوں ہمارے ملک میں جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کوئی بھی جنگ اور دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرے، کیونکہ جنگ قوموں کے لیے تباہی اور بھاری نتائج لاتی ہے؛ جانی اور مالی نقصانات کا سبب بنتی ہے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جنگ کی روک تھام ذمہ داران کے ہاتھ میں ہے اور انہیں چاہیے کہ جنگ سے بچنے کے لیے تدبیر کریں۔

سیاسی قیدیوں اور جنوری کے احتجاجوں میں گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے
ایران کے ممتاز عالم دین نے آگے چل کر سیاسی قیدیوں اور حالیہ احتجاجات میں گرفتار ہونے والوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: موجودہ حالات میں مناسب ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں اور جنوری کی قومی تحریک اور احتجاجات میں گرفتار افراد کو بلا شرط رہا کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا: اس وقت ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو مؤثر ثابت ہو سکیں۔

کوئی قوم اپنی مقدسات کی توہین برداشت نہیں کرتی /سمجھدار اور مہذب لوگ کبھی دوسروں کی مقدسات کی توہین نہیں کرتے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں قرآن مجید کی توہین کے بارے میں بعض خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: بعض لوگ جو مسائل اور تکالیف کا شکار ہوتے ہیں، گالی گلوچ کرتے ہیں اور کبھی کبھی ادیان و مذاہب کی مقدسات کی بھی توہین کرتے ہیں، حالانکہ یہ طریقہ عقل اور منطق کے خلاف ہے۔ سمجدار، مہذب اور متمدن لوگ کبھی دوسروں یا ان کی مقدسات کی توہین نہیں کرتے۔ جو لوگ اقوام کی مقدسات کی توہین کرتے ہیں وہ جذباتی اور کم عقل افراد ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: کسی قوم کی مقدسات کی گستاخی دراصل خود اس قوم کی توہین کے برابر ہے۔ ممکن ہے کوئی قوم اپنی ذات کی توہین برداشت کر لے لیکن اپنی مقدسات کی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرتی۔ مقدسات کی توہین لوگوں کے جذبات کو زیادہ مجروح کرتی ہے۔ کسی بھی دین میں اقوام کی مقدسات کی توہین جائز نہیں۔ لہٰذا میں سفارش کرتا ہوں کہ مقدسات کی توہین کرنے والوں کو روکا جائے۔ اگر کہیں کسی نے ظلم کیا ہے تو مقدسات کی توہین کیوں کی جائے؟

شادیوں کو آسان بنائیں
زاہدان کےخطیب نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں شادیوں میں آسانی پر زور دیتے ہوئے عوام سے مخاطب ہو کر کہا: موجودہ معاشی حالات میں جبکہ سونے کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے اور ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے، کوئی شخص سونا خریدنے یا شادی ہال کے کرائے اور زیادہ مہمانوں کی ضیافت کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ لہٰذا ان مسائل کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر نہ کریں۔
انہوں نے مہر کم رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا: اگر ماضی میں مہر زیادہ سکوں کی صورت میں مقرر کیا جاتا تھا، تو اب گولڈن سکوں کی قیمت بہت ہی بڑھ چکی ہے اور مہر میں زیادہ سکوں کے تعین سے اجتناب کرنا چاہیے۔ شادیوں کو آسان بنائیں تاکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کم خرچ میں اپنی زندگی شروع کر سکیں اور ان کا ایمان و دیانت محفوظ رہے۔

دارالعلوم زاہدان سے خصوصی تعاون کریں
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے اختتام پر عوام سے دارالعلوم زاہدان کی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا: دارالعلوم زاہدان ملک کے بڑے تعلیمی مراکز میں سے ایک ہے جو علامہ مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کی دعاؤں اور آپ عزیز عوام کی محنت، تعاون اور دعاؤں کی برکت سے ترقی کر رہا ہے اور مردوں اور خواتین دونوں شعبوں میں تعلیم دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا: ان حساس معاشی حالات میں میں آپ عزیز عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ دارالعلوم زاہدان کی خبرگیری کریں۔ فقراء، مساکین اور دیگر مدارس کا بھی خیال رکھیں اور اپنی زکوٰۃ اور خیرات کا ایک اہم حصہ دارالعلوم زاہدان کے لیے مختص کریں۔