شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 30 جنوری 2026ء کو زاہدان کی نمازِ جمعہ کے اجتماع میں “جنگ کے خطرے” کو ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور “عوامی سطح پر پھیلی ہوئی ناراضگیوں” کو سب سے بڑا موجودہ چیلنج قرار دیا اور کہا کہ جنگ کو روکنے اور موجودہ بحرانوں سے نکلنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ قوم کے مطالبات کو مانا جائے۔
ایرانی قوم کی ناراضگی ایک حقیقت ہے
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے کہا: تقریباً پچاس سال پہلے، 1979کے انقلاب کی کامیابی کے بعد، ایران کے عوام کی بھاری اکثریت نے اپنی اور آنے والی نسلوں کی دنیا و آخرت کی خوشحالی اور ترقی کی امید میں “اسلامی جمہوریہ” کو اپنے ملک کے نظامِ حکومت کے طور پر ووٹ دیا۔
انہوں نے مزید کہا: ایرانی عوام نے 79ء کے انقلاب کی حمایت کی، انقلاب کے بعد بھی سرحدوں کے دفاع، ملک کی سلامتی اور امن کے لیے قربانیاں دیں، ذمہ داران کی اپیلوں پر مثبت جواب دیا اور مختلف میدانوں میں بھرپور انداز میں شریک ہوئے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور مبالغہ نہیں کہ کچھ عرصے سے ایرانی قوم ناراض ہے اور شکوہ کر رہی ہے۔
ایرانی عوام بیس سال سے پابندیوں کے مسائل سے دوچار ہیں
خطیبِ جمعہ زاہدان نے کہا: عوام کی ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ وہ بیس سال سے پابندیوں کے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ اس وقت اعلی حکام اور ذمہ داران عوام سے کہتے تھے کہ آپ ترقی اور کامیابی کی چوٹیوں تک پہنچیں گے، لیکن آج لوگ شدید غربت اور بدحالی کے باعث فکرمند اور پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا: میں نے ان برسوں میں اپنی ذمہ داری کے تحت بارہا آواز اٹھائی کہ عوام کی بات سنو، ان سے گفتگو کرو اور ان کے مطالبات پر توجہ دو؛ اگر مطالبات ناجائز ہوں تو انہیں قائل کرو اور اگر جائز ہوں تو ان پر عمل کرو، لیکن افسوس کہ عوام کے مطالبات پر توجہ نہیں دی گئی۔ عوام نے کئی مرتبہ احتجاج کیا، مشکلات اور اموات کا سامنا کیا اور جانیں گنوائیں، لیکن حالیہ تحریک میں، جسے ایران اور دنیا کے سب لوگ جانتے ہیں، عوام کو بہت بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
اگر ایران کی اکثریت کوئی اور حکومتی نظام چاہے تو ذمہ داران کو اسے تسلیم کرنا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے ملک کے ذمہ داران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: میں ایک بار پھر زور دے کر کہتا ہوں کہ عوام کے ساتھ بیٹھو اور دیکھو کہ ان کی خواہش اور مطالبہ کیا ہے۔ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو عوام کے ساتھ بیٹھتا اور جو بھی مطالبہ ہوتا، اسے پورا کرتا۔
انہوں نے کہا: اگر ملک کے امور میرے اختیار میں ہوتے اور اکثریت، نہ کہ اقلیت، اعلان کرتی کہ وہ اسلامی نظام کے بجائے کوئی اور نظام چاہتی ہے تو میں اسلامی نظام پر اصرار نہ کرتا، کیونکہ میرا پختہ یقین ہے اور اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں کہ دین زبردستی سے فائدہ نہیں دیتا اور کسی کو زور کے ذریعے جنت میں نہیں لے جایا جا سکتا۔ قرآن مجید نے بھی فرمایا ہے: لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی۔ دین کے قبول کرنے میں کوئی جبر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ حق اور باطل واضح ہو جائیں، اس کے بعد ہر شخص جو راستہ چاہے اختیار کرے، اس کا فائدہ یا نقصان اسی کو پہنچے گا۔
اسلامی جمہوریہ نے اپنی مشروعیت عوام سے لی، آج بھی عوام سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں
امام جمعہ زاہدان نے کہا: اسلامی جمہوریہ نے اپنی مشروعیت ایرانی عوام کی بھاری اکثریت کے ووٹ سے حاصل کی۔ آج بھی اسی قوم سے، جس نے تقریباً نصف صدی پہلے اسلامی جمہوریہ کو ووٹ دیا تھا، پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا: عوام آپ ذمہ داران کے محسن ہیں اور آپ کی اور نظام کی مشروعیت انہی عوام کے ووٹ کا نتیجہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ میں تمام ذمہ داران براہِ راست یا بالواسطہ عوامی ووٹ سے اقتدار میں آئے ہیں۔اعلیٰ قیادت بھی بالواسطہ عوامی ووٹ سے آئی ہے۔ لہٰذا عوام ہی اصل ہیں اور ملک کے مالک ہیں، ان کے مقابل کھڑا نہیں ہونا چاہیے اور انہیں مارا نہیں جانا چاہیے۔
اگر عوام کے مطالبات مان لیے جائیں تو کوئی طاقت آپ کے خلاف لشکر کشی نہیں کر سکتی / آٹھ سالہ دفاع میں عوامی طاقت کامیابی کا سبب بنی
مولانا عبدالحمید نے کہا: موجودہ حالات میں جب جنگ ایران کو شدید طور پر دھمکی دے رہی ہے اور عوام میں وسیع اختلاف اور ناراضگی پیدا ہو چکی ہے، جنگ کو روکنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ ایرانی قوم کے مطالبات تسلیم کیے جائیں اور عوام کے ساتھ مفاہمت کی جائے۔
انہوں نے کہا: اگر آپ عوام کے مطالبات مان لیں تو نہ عوام، نہ دنیا کے ممالک اور نہ کوئی طاقت آپ کے خلاف لشکر کشی کر سکتی ہے اور یوں آپ جنگ کو روک لیں گے، لیکن اگر عوام آپ کے ساتھ نہ ہوں تو یہ بہت خطرناک ہوگا۔ جنگ خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا: اگر انقلاب کے ابتدائی دور میں آٹھ سالہ دفاع میں حکومت اور ریاست کو کوئی کامیابی ملی تو وہ صرف حکومت کی طاقت سے نہیں تھی بلکہ عوام کی طاقت اس کے ساتھ شامل تھی۔ حکومت کی طاقت محدود ہوتی ہے، لیکن عوام کی طاقت خدائی ہوتی ہے۔
حالیہ احتجاج میں قتل ہونے والے اکثر لوگ “فسادی” نہیں تھے
ایران کے ممتاز عالم دین نے مزید کہا: ایک ذمہ دار نے اچھی بات کہی تھی کہ تمام لوگوں کو “فسادی” نہ کہو۔ عموماً ہر ملک میں مظاہروں کے دوران کچھ ناتجربہ کار اور جذباتی نوجوان ہوتے ہیں جو ہنگامہ آرائی کرتے ہیں، لیکن عوام کی اکثریت احتجاج کر رہی تھی اور فسادی نہیں تھی، اس کے باوجود سب مارے گئے اور ایک بہت بڑا سانحہ پیش آیا۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیا: اگر اب بھی موقع باقی ہے تو اقتدار کے لیے سب سے عقل مندانہ طریقہ یہی ہے کہ عوام کی بات سنی جائے اور ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں، تاکہ ایرانی قوم کی بھاری اکثریت اپنے ووٹ سے ملک کے مستقبل کا راستہ طے کرے۔
میرے لیے “اللہ کی رضا” اور “عوام کے مفادات” اہم ہیں
مولانا عبدالحمید نے کہا کہ ان کی باتوں کا اصل مقصد اللہ کی رضا اور عوام کے مفادات ہیں۔
انہوں نے واضح کیا: میرے لیے دو چیزیں اہم ہیں؛ ایک اللہ کی رضا اور دوسری عوام کے مفادات۔ اگر ان دو مقاصد کی راہ میں جان بھی دینی پڑے تو مجھے خوشی ہوگی۔ میں اپنے ذاتی مفاد، منصب یا مقام کے پیچھے نہیں ہوں۔ میں خیرخواہ ہوں اور خیرخواہ کی بات، چاہے وہ کوئی بھی ہو، سننی چاہیے۔
ایک انسان کا ناحق قتل تمام انسانوں کے قتل کے برابر ہے
مولانا عبدالحمید نے نماز جمعہ کے خطاب کے ابتدائی حصے میں اللہ کے نزدیک انسان کی حرمت اور مقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسان کے وجود، زمین اور آسمان میں جتنی نعمتیں اور وسائل پیدا کیے ہیں، وہ سب انسانوں کے فائدے کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا: انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی قدر و قیمت رکھتا ہے کہ ناحق ایک انسان کا خون بہانا تمام انسانوں کا خون بہانے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف انسانوں کی ہدایت اور دنیا و آخرت کی سعادت کے لیے انبیاء اور آسمانی کتابیں نازل کیں، اور دوسری طرف ان کی دنیوی زندگی کے لیے منصوبہ بندی اور وسائل فراہم کیے۔
جب عوام بھوکے ہوں اور عدم تحفظ محسوس کریں تو حاکم کو سکون سے نہیں سونا چاہیے / اللہ ان حکومتوں کو پسند کرتا ہے جو اپنی قوم پر رحم کرتی ہیں اور ان کے مطالبات پورے کرتی ہیں
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: یہ ایک الٰہی نظام ہے کہ انسانوں کے درمیان حکومت کا نظام قائم کیا گیا تاکہ لوگ ایسی حکومتیں منتخب کریں جو دراصل قوم کی نمائندہ ہوں اور عوام کی طرف سے اقتدار میں آ کر ان کے مفادات، سلامتی اور آسائش کا دفاع کریں اور تعلیم، معیشت، صحت اور دیگر امور کے لیے منصوبہ بندی اور کوشش کریں۔
انہوں نے کہا: حکومت اس وقت نعمت ہوتی ہے جب وہ عوام کی زندگی کو اہمیت دے۔ جب عوام بھوکے ہوں یا عدم تحفظ محسوس کریں تو حاکم کو سکون سے نہیں سونا چاہیے۔ اگر عوام کراہ رہے ہوں تو حاکم کو بھی کراہنا چاہیے اور عوام کے ساتھ جاگنا اور بھوک برداشت کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اللہ تعالیٰ ان انسانوں اور بالخصوص ان حکمرانوں اور حکومتوں کو پسند کرتا ہے جن کے لیے انسانیت اہم ہو اور جو ہر انسان کے ساتھ، اس کے دین اور عقیدے سے قطع نظر، رحم و شفقت کا برتاؤ کریں۔ اللہ تعالیٰ ان حکومتوں کو پسند کرتا ہے جو اپنی قوم پر مہربان ہوں، اپنے اقتدار کے تخت سے نیچے آئیں، عوام کے ساتھ بیٹھیں اور ان کے مطالبات پر توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ان حکومتوں کو پسند کرتا ہے جو عوام کے ساتھ مکالمہ اور گفتگو کریں اور عوام کی بات کو اہمیت دیں۔
اغوا اور بھتہ خوری بدترین عمل ہے / اغوا کے خلاف کارروائی حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں اغوا اور بھتہ خوری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا: اغوا کرنا بدترین اور نہایت گھناؤنا عمل ہے۔ جو لوگ بھتہ خوری کے لیے لوگوں کو اغوا کرتے ہیں وہ بدترین انسان ہیں اور اس طریقے سے حاصل کیا گیا مال بھی بدترین مال ہے۔ اگر انسان اور اس کے بچے بھوک سے مر جائیں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ بھتہ خوری، چوری اور ڈاکے کے ذریعے پیسے کمائے۔
انہوں نے زور دیا: اغوا کے مسئلےکو حل کرنا اور اس کے خلاف اقدام کرنا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔