شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے۲۶ دسمبر ۲۰۲۵ء کو زاہدان کی نمازجمعہ میں حکومت کی جانب سے آئندہ سال کے بجٹ کی پارلیمنٹ میں پیشی کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ کے فیصد میں اضافہ کرنے کے بجائے مہنگائی میں اضافے سے نمٹا جائے۔ انہوں نے مہنگائی میں اضافے کو روکنے کے لیے داخلی و خارجی پالیسیوں میں اعتدال اور مذاکرات میں نرمی کو نہایت مؤثر قرار دیا۔
مہنگائی میں اضافہ اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ نے تمام عوام کو تشویش اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے کہا کہ صدرِ مملکت نے نئے سال کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے، جس میں موجودہ مہنگائی اور قومی کرنسی کی شدید گراوٹ کے پیش نظر مختلف اداروں، تنظیموں اور محکموں کے لیے تقریباً بیس فیصد بجٹ میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، اگر یہ اضافہ پچاس فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو تب بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ مہنگائی کی رفتار اور کرنسی کی قدر میں کمی، اس بجٹ اضافے سے کہیں زیادہ تیز ہے جو آئندہ سال کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:مہنگائی میں اضافہ اور قومی کرنسی کی غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں شدید گراوٹ نے شہروں اور دیہاتوں میں تمام طبقات پر دباؤ ڈال دیا ہے، کمپنیوں اور کارخانوں کو نقصان پہنچایا ہے، تجارت کو متاثر کیا ہے اور عوام کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔
خارجہ پالیسیوں میں اعتدال اور مذاکرات میں نرمی مہنگائی کو کم اور کرنسی کی قدر کو بحال کر سکتی ہے
ممتاز عالم دین نے کہا: بہترین راستہ یہ ہے کہ بجٹ بڑھانے کے بجائے مہنگائی کا مقابلہ کیا جائے اور کرنسی کی قدر کو بحال کیا جائے۔ مہنگائی میں کمی اور کرنسی کی قدر میں اضافہ عوام میں امید پیدا کرتا ہے اور زندگی میں ڈیڈلاک کے احساس کو کم کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا :درست پالیسیاں مہنگائی کو کم کر سکتی ہیں اور کرنسی کی قدر کو واپس لا سکتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خارجہ پالیسیوں میں مزید اعتدال پیدا کیا جائے اور مذاکرات و گفت و شنید کے ذریعے، کچھ نرمی اور پالیسیوں میں توازن کے ساتھ، ایک اور جنگ کے امکان کو روکا جائے جس کی ان دنوں بہت باتیں ہو رہی ہیں، اور ساتھ ہی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ کو بھی روکا جائے۔
مذاکرات میں فریقین کو نرمی دکھانی چاہیے، جنگ دونوں کے لیے نقصان دہ ہے
مولانا عبدالحمید نے کہا: کسی بھی فریق کی جانب سے جنگ کا ڈھنڈورا پیٹنا مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ دونوں فریقوں کو جنگ سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ جنگ صرف ایران کے لیے ہی نقصان دہ نہیں ہوگی بلکہ اسرائیل، امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی نقصانات کا باعث بنے گی۔ لہٰذا مذاکرات میں دونوں فریقوں کو نرمی دکھانی چاہیے، یہ سب کے اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ایران میں ماضی میں دیے گئے سخت نعروں اور نظریات سے پرہیز کیا جانا چاہیے جو ملک کے دشمنوں کو مزید حساس اور مشتعل کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے افراد، جو عام لوگ نہیں بلکہ طاقت کے مراکز، پارلیمنٹ، یا عسکری و سیاسی مناصب پر فائز ہیں، اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں جو قوم اور ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
داخلی پالیسیوں میں بھی اعتدال کی ضرورت ہے، تعمیری تنقید کو برداشت کیا جائے
خطیب اہل سنت زاہدان نے داخلی پالیسیوں میں اعتدال پر بھی زور دیا اور کہا کہ اندرونِ ملک بھی پالیسیوں میں موازنہ پیدا کیا جانا چاہیے۔ عوام کی بات کو زیادہ سنا جائے اور ایرانی شہریوں کی آرا اور تعمیری تنقید کو برداشت کیا جائے۔ لوگوں کی گرفتاریوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: برداشت اور تحمل کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ اگر کہیں تعزیے کی مجالس ہوں یا کچھ لوگ اپنے مرحوم عزیزوں کی قبروں پر جمع ہوں تو ان امور کو برداشت کیا جانا چاہیے۔ جتنا ملک کے اندر مکالمے، تعمیری تنقید اور شہریوں کے ساتھ برداشت کی فضا بڑھے گی، اتنا ہی یہ ملک کے فائدے اور بھلائی میں ہوگا اور مہنگائی میں کمی اور کرنسی کی قدر میں اضافے پر اثر انداز ہوگا۔
دینی مدارس اور مذہبی مراکز سرکاری بجٹ استعمال نہ کریں، اللہ پر توکل اور عوام پر اعتماد کے ساتھ کام کریں
مولانا عبدالحمید نے آئندہ سال کے بجٹ میں دینی مدارس اور مذہبی مراکز کے لیے مختص فنڈز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس اور مذہبی اداروں کے لیے بہت بڑا بجٹ رکھا گیا ہے۔ ہماری سفارش یہ ہے کہ دینی مدارس و مراکز اور مذہبی ادارے اپنی خودمختاری اور استقلال برقرار رکھیں اور بیت المال اور سرکاری بجٹ سے استفادہ نہ کریں، بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور عوام پر اعتماد کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اپنی عوامی حیثیت کو برقرار رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا: علما، مساجد اور دینی مدارس ہمیشہ تاریخ میں عوام کے ساتھ رہے ہیں اور عوام بھی ان کے ساتھ رہے ہیں۔ مساجد اور دینی و مذہبی مراکز کو عوام کی استطاعت کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہیے۔ بسا اوقات کم سطح پر کی جانے والی سرگرمی، بڑے سرکاری بجٹ کے سہارے کی جانے والی سرگرمی سے بہتر نتائج دیتی ہے۔
شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان کے صدر نے کہا: الحمدللہ ہمارا طریقہ اور بہت سے دیگر دینی مدارس کا طریقہ یہی رہا ہے کہ ہم نے کبھی سرکاری بجٹ استعمال نہیں کیا اور آئندہ بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ہمارا یقین ہے کہ عوام کی دی ہوئی مدد میں خیر و برکت ہے اور یہی ترقی و پیشرفت کا سبب بنتی ہے۔
انہوں نے زور دیا: دینی مدارس کی پالیسی یہی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی خودمختاری کو محفوظ رکھیں اور کسی بھی حکومت یا نظام کے ساتھ، چاہے وہ اسلامی حکومت ہی کیوں نہ ہو، وابستہ نہ ہوں تاکہ وہ ہر دور میں امر بالمعروف، معاشرے اور حکومتوں کی اصلاح کا فریضہ بہتر طور پر انجام دے سکیں۔
مولانا دین محمد ایک درویش عالم اور خیرخواہ انسان تھے، ان کا انتقال خطے کے لیے بڑا نقصان ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبے کے ایک اور حصے میں مدرسہ دینی تعلیم القرآن شورشادی تحصیل کورین کے بانی و مہتمم مولانا دین محمد درکانی کے انتقال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: مولانا دین محمد رحمہ اللہ کا انتقال ایک بہت بڑا اور بھاری نقصان ہے۔ وہ ایک درویش عالم، مصنف، محقق اور خیرخواہ و دعا گو انسان تھے۔ علمی اور عملی اعتبار سے وہ پورے خطے اور عوام کے لیے ایک عظیم سرمایہ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے انتقال کے نقصان کی تلافی فرمائے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطاب کے اختتام پر علاقے میں حالیہ بارشوں کا حوالہ دیتے ہوئے عوام کو شکر ادا کرنے کی تلقین کی اور ان بارشوں کے تسلسل کے لیے دعا کی۔