شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے آج اتوار (21 دسمبر 2025ء) دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ کے ہفتہ وار اجلاس میں دارالعلوم “مکی” پر سکیورٹی دباؤ میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئےکہا: حکام اور سرکاری ذمہ داران کے وعدوں کے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی اور سکیورٹی دباؤ اور پابندیاں دوبارہ بڑھ گئی ہیں۔
زاہدان کے خطیب اہل سنت کی خبررساں ویب سائٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے کہا : اعلیٰ حکام نے وعدہ کیا تھا اگر خونی جمعہ (۳۰ اکتوبر ۲۰۲۲ء کا حادثہ جس میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے)کا مسئلہ حل ہو جائے تو پیدا ہونے والی تمام مشکلات دور ہو جائیں گی، لیکن بدقسمتی سے ذمہ داران نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا اور دباؤ اور پابندیوں میں اضافے کے حوالے سے تشویش بدستور موجود ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ملک کے مسائل پر تنقید نہ کریں، حالانکہ عوام کے ساتھ ہمدردی ایک شرعی اور انسانی فرض ہے
تعمیری تنقید اصلاح کا سبب بنتی ہے، جو شخص اصلاح کا ارادہ نہ رکھتا ہو وہ تعمیری تنقید کو قبول نہیں کرتا
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا :ہم سے کہا جاتا ہے کہ ملک کے مسائل پر بات اور تنقید نہ کریں، جبکہ ہم اس ملک کے شہری ہیں اور عام شہری بھی نہیں ہیں۔ لوگ ہمیں اپنا رہنما سمجھتے ہیں اور ہم سے توقع رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں لوگ بھوکے ہیں، لوگوں کی جیبیں خالی ہیں، اور ان حالات میں دکھ اٹھانے والے لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور رونا ایک شرعی اور انسانی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے واضح کیا :اگر ہم نے کوئی تنقید کی ہے تو وہ تعمیری رہی ہے اور اس کے ساتھ حل بھی پیش کیے ہیں۔ ہماری نیت خیرخواہی اور اصلاح ہے اور ہمارا کوئی اور مقصد نہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اصلاح کے لیے تعمیری تنقید مؤثر اور مفید ہوتی ہے، اور جو شخص اصلاح کا ارادہ نہ رکھتا ہو وہ تعمیری تنقید کو پسند نہیں کرتا۔ ہمارا ماننا ہے کہ اگر تعمیری تنقید نہ ہو تو آمریت جنم لیتی ہے۔ اگر کسی ذمہ دار یا عالم پر تنقید نہ کی جائے تو ممکن ہے وہ یہ سمجھے کہ اس کے کام میں کوئی عیب یا کمی نہیں، لیکن جب اس پر تنقید کی جاتی ہے تو وہ اصلاح اور کمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔