- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

عوام کے معاشی حالات انتہائی بحرانی ہیں؛ ذمہ داران یہ نہ کہیں ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بارہ دسمبر دوہزار پچیس کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع میں عوام کی معاشی اور روزمرہ زندگی کی صورتحال کو ’’انتہائی بحرانی‘‘ قرار دیا اور ملک کے ذمہ داران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے بس میں کچھ نہیں۔ آپ پر لازم ہے کہ عوام کی ضروریات کا جواب دیں۔ اگر واقعی آپ کے اختیار میں کچھ نہیں ہے تو بہتر ہے کہ اپنی ذمہ داری چھوڑ دیں تاکہ وہ لوگ آگے آئیں جو صلاحیت رکھتے ہیں۔

آسمانی مذاہب میں الٰہی احکام انسانی حالات اور ضروریات کے مطابق بدلتے رہے ہیں
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا: تمام آسمانی مذاہب تین بنیادی اصولوں یعنی توحید، معاد اور نبوت میں مشترک رہے ہیں اور ان اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، لیکن ہر دین اور شریعت کے احکام زمانے، حالات اور لوگوں کی ضروریات کے فرق کے مطابق مختلف رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی ایک ہی طریقے کو ہر زمانے اور ہر حالت کے لیے لازم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنے بندوں کے لیے آسانی کو مدنظر رکھا ہے۔ ہر زمانہ اور ہر حالت کی اپنی مخصوص ضروریات ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے تمام آسمانی مذاہب میں زمانے، حالات اور انسانی ضروریات کی تبدیلی کے ساتھ احکام میں فرق پیدا ہوا ہے۔

آسمانی مذاہب اپنے اپنے زمانے میں رحمتِ پروردگار تھے
خطیب زاہدان نے زور دے کر کہا: اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہے اور گزشتہ آسمانی مذاہب اپنے اپنے زمانے میں رحمتِ پروردگار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو آسان بنایا ہے۔ الٰہی احکام انسانوں کی تربیت اور اصلاح کرتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ یہ تربیت دباؤ اور سختی کے ساتھ ہو۔
انہوں نے وضاحت کی: آسمانی ادیان میں انسان کی تربیت کے طریقے مختلف رہے ہیں۔ مثال کے طور پر دینِ اسلام میں، اہلِ مکہ کے اصرار کے باوجود، اللہ تعالیٰ نے قرآن ایک ہی دفعہ نازل نہیں فرمایا بلکہ تیئیس برس کے دوران بتدریج نازل کیا۔ احکام، فرائض بلکہ حتیٰ کہ محرمات بھی مرحلہ وار مقرر کیے گئے تاکہ لوگوں پر بوجھ نہ پڑے اور عمل کرنا آسان ہو۔ اسلام کے ابتدائی دور میں، جب لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور حالات سخت تھے، نماز صرف دو رکعت تھی، بعد میں چار رکعت ہوئی، اور سفر میں نماز آج بھی دو رکعت ہی ہے۔ روزہ، زکوٰۃ اور حج بھی ہجرت کے کئی سال بعد فرض کیے گئے۔

قوانین کو حالات کے مطابق اور عوام و ملک کے فائدے میں بدلنا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: دنیا کے قوانین اسی وقت دانشمندانہ اور کامیاب ہوتے ہیں جب وہ حالات کو مدنظر رکھیں اور اس الٰہی سنت کی پیروی کریں۔ قوانین کو عوام کے فائدے میں تبدیل ہونا چاہیے۔ پچاس سال پہلے بنایا گیا قانون آج کے حالات کا جواب نہیں دے سکتا، اور اس کے بہت سے نکات ناکام ہو چکے ہیں جس کے باعث ملک مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا: آج کے حالات پچاس سال پہلے جیسے نہیں ہیں۔ اس وقت کے بہت سے لوگ دنیا سے جا چکے ہیں اور نئی نسل نئی ضروریات کے ساتھ سامنے آ چکی ہے۔ جب حالات اور ضروریات بدل جائیں تو قوانین کو بھی عوام اور ملک کے فائدے میں بدلنا چاہیے۔ یہ ایک ضرورت ہے اور اس سے عوام کی رضامندی حاصل ہوتی ہے۔

کوئی بھی ہمیشہ ایک ہی عہدے پر نہ رہے؛ باصلاحیت نوجوانوں کو آگے آنا چاہیے
ممتاز عالم دین نے ملک کے انتظامی امور میں نوجوان نسل کو موقع دینے پر زور دیا اور کہا: آج جب نئی نسل آ چکی ہے تو کم از کم وہ نوجوان جن میں صلاحیت اور انتظامی قوت ہے، انہیں آگے آنا چاہیے۔ ریٹائرمنٹ کا قانون، جو ایک عالمی قانون ہے، اسی لیے ہے کہ انسان ایک عمر کے بعد جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور ہونے لگتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ومن نعمره ننكسه في الخلق، یعنی جسے ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی جسمانی اور عقلی قوت کم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا: کوئی بھی شخص ہمیشہ ایک ہی ذمہ داری پر نہ رہے۔ جب کوئی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے اور نوجوان یا کم از کم درمیانی عمر کے افراد کو ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ بہت زیادہ عمر رسیدہ افراد میں تبدیلی کی صلاحیت کم ہوتی ہے جبکہ نسبتاً جوان افراد میں اصلاح اور جدت کی گنجائش ہوتی ہے، اور ملک کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ اختراع اور نوآوری رکھنے والے لوگ آگے آئیں۔

عقیدتی اور سیاسی امور میں آزادیٔ اظہار ہونی چاہیے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ عقیدہ پر زور دیا اور کہا: قم یا کسی اور جگہ کسی شخص نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور اس پر حملے کیے گئے۔ اگر کوئی مذہبی امور میں رائے دیتا ہے تو اسے آزادیٔ عقیدہ اور اظہار حاصل ہونا چاہیے اور اس پر حملہ یا توہین نہیں ہونی چاہیے۔ کسی رائے کا جواب دینا مسئلہ نہیں، لیکن توہین نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح سیاسی امور میں بھی آزادیٔ اظہار ہونی چاہیے۔ رائے دینے والے کو دشمن نہ سمجھا جائے۔ سب شہری ہیں اور ایرانی شہریوں کو رائے دینے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا: دین کی تقویت آزادیٔ عقیدہ اور اظہار کے ساتھ ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں آزادیٔ اظہار، مشورہ اور گفتگو موجود تھی۔ آزادیٔ بیان، قلم، فکر، عدل کا نفاذ اور سختی و تشدد سے پرہیز، سب ملک اور دنیا کے فائدے میں ہیں اور ترقی و پیشرفت کا سبب بنتے ہیں۔

حضرت فاطمہ اور اہلِ بیت سے محبت اہلِ سنت کے عقائد میں شامل ہے
خطیب زاہدان نے کہا: حضرت فاطمہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما تمام مسلمانوں کے نزدیک قابلِ احترام اور قابلِ قبول شخصیات ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت، جنہوں نے آپ سے ملاقات کی اور خدمت انجام دی، نہایت بلند مقام رکھتے ہیں اور تمام مسلمان ان کا احترام کرتے ہیں۔ اہلِ سنت بالاتفاق اہلِ بیت کو اپنے مقدسات میں شمار کرتے ہیں اور ان سے محبت کو اپنے عقائد کا حصہ سمجھتے ہیں۔

اہلِ سنت کا اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا
اگر شیعہ معاشرے میں کوئی “وفات” کا نظریہ پیش کرے تو اس پر حملہ نہیں ہونا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اہلِ سنت کے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے کہا: اہلِ سنت کی اکثریت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا اور وہ اس طرح کی شہادت کے قائل نہیں جیسا کہ بعض لوگ بیان کرتے ہیں۔ شیعہ معاشرے میں بھی ماضی میں یہی نقطۂ نظر پایا جاتا تھا، جیسا کہ بڑے شیعہ علماء کی کتابوں اور سرکاری کلینڈر میں وفات کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ البتہ شہادت کا نظریہ بھی ایک نقطۂ نظر ہے، لیکن اگر شیعہ معاشرے میں کوئی وفات کا نظریہ بیان کرے تو اس پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔

ہر واقعے کو عقل کے معیار پر پرکھنا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے کہا: ہم سب کو غور کرنا چاہیے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزیز صاحبزادی تھیں، رسول اللہ کی قبر مبارک ابھی نئی تھی، دور صحابہ کا تھا جنہوں نے مختلف مواقع پر جان نثار ہو کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ ایسے حالات میں عقل یہ کیسے قبول کرے کہ رسول اللہ کی بیٹی کو حضرت علی اور دیگر صحابہ اور مسلمانوں کے ہوتے ہوئے ان کے سامنے ہی شہید کر دیا جائے اور کوئی ردعمل بھی نہ ہو؟
انہوں نے کہا: ہر واقعے اور روایت کو عقل کے ساتھ پرکھنا ضروری ہے، اس لیے ایسے حادثے کا وقوع عقل کے مطابق نہیں۔ جو بات میں کہہ رہا ہوں وہ دنیا کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت کا عقیدہ ہے۔

اسلامی حکومت میں سزائے موت دین کو نقصان پہنچاتی ہے
مولانا عبدالحمید نے کہا: ہم سزائے موت کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت میں جو دین کے نام پر ہو، یہ سزائیں دین کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اسلامی حکومت میں ہر خرابی دین کے کھاتے میں جاتی ہے اور ہر خوبی بھی دین کے فائدے میں شمار ہوتی ہے۔ دین اور رسولِ اعظم رحمتِ پروردگار ہیں؛ ہمیں ایسا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے کہ دین عوام کے لیے زحمت نہ بنے۔

حکام اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہ کریں بلکہ حالات کو منظم اور تبدیل کریں
ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے اپنے خطاب کے آخر میں عوام کے معاشی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عوام کے معاشی حالات انتہائی بحرانی ہیں۔ روزانہ مہنگائی اور افراطِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک شخص کہہ رہا تھا کہ کبھی میری تنخواہ ایک کروڑ تومان تھی جو دس ہزار ڈالر کے برابر تھی، مگر اب تنخواہ بڑھنے کے باوجود اس کی قدر ہزار ڈالر تک بھی نہیں پہنچتی۔ آج ایک کروڑ تومان کی قدر سو ڈالر کے برابر بھی نہیں رہی۔ اگر کسی کی آمدن پانچ کروڑ تومان ہو، جو بہت کم لوگوں کی ہے، تو وہ بھی چار سو ڈالر بنتی ہے۔ اس صورتِ حال میں مزدور، استاد یا سرکاری ملازم کیسے گزارا کرے؟ آج ایک ہزار ڈالر ساڑھے بارہ کروڑ تومان کے برابر ہے۔ عوام کے پاس گوشت اور بنیادی ضروریات خریدنے کی طاقت نہیں رہی اور شدید دباؤ ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں سوچیں کہ وہ کیسے زندگی گزاریں۔
انہوں نے زور دے کر کہا: ذمہ دار اور حکام یہ نہ کہیں کہ ہمارے بس میں کچھ نہیں۔ جب آپ ذمہ دار ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے تو بہتر ہے کہ ذمہ داری چھوڑ دیں تاکہ قابل لوگ یہ ذمہ داری سنبھالیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: آپ ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں، بلکہ آپ کو عوام کی ضروریات کا جواب دینا ہوگا کیونکہ اللہ اور قانون نے آپ کو ذمہ دار اور جواب دہ بنایا ہے۔ آپ کو حالات کو منظم کرنا ہوگا اور تبدیلی لانی ہوگی۔ ملک ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور نئی نسل نئی ضروریات کے ساتھ سامنے آ چکی ہے، اس لیے اندرونی اور خارجی پالیسیوں کو بھی انہی حالات اور ضروریات کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے۔