- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

کیا عمران خان قبل از وقت انتخابات کروانے میں کامیاب ہوں گے؟

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے عوام کو مستقل موقعہ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اپنی حمایت میں اٹھنے والی عوامی لہر کو وہ تحریک کی شکل دے سکیں گے؟ کیا آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت اور بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے یہ جوش و ولولہ ٹھنڈا تو نہیں پڑ جائے گا؟
عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد پشاور اور کراچی میں عوامی جلسوں کی کامیابی پر تحریک انصاف پرامید ہے کہ لاہور کا جلسہ بھی کامیاب ہوگا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمران خان کے پاس یہ ہی آپشن ہے کہ وہ عوام کو منظم کریں، تحریک چلائیں اور دباؤ ڈالیں جس سے ایک تو اپنا ووٹ بینک تیار کریں اور دوسرا انتخابات جلد کرانے کی کوشش کریں۔
سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران خان کا پلان بھی یہ ہی لگتا ہے کہ اتنا دباؤ بنائیں کہ مئی کے آخر تک یہ حکومت مفلوج ہو جائے۔ ’اب وہ مفلوج سڑکوں پر کرتے ہیں یا کسی اور طریقے سے کرتے ہیں ان کے پاس یہ ہی آپشن ہے کہ سڑک پر اپنی طاقت کا اظہار کریں تاکہ جو باقی شراکت دار ہیں وہ مجبور ہوجائیں اور وہ حکومت کو کہیں کہ آپ الیکشن کرائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہی عمران خان کی کامیابی ہوسکتی ہے۔ ’اگر وہ اگست یا ستمبر تک انتخابات کرانے میں کامیاب ہوجائیں، اگر ایسا نہیں ہوتا تو ان کا زور ٹوٹ جائے گا کیونکہ بڑے عرصے تک کوئی تحریک نہیں چلا پاتا۔‘

’ملک معاشی اور سماجی بحران کی طرف جا رہا ہے‘
مظہر عباس کا خیال ہے کہ لاہور میں بڑا شو کرنے کے بعد عید تک ایک بریک آئے گا جس کے بعد غالباً عمران خان اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کی کال دیں گے۔
’عین ممکن ہے کہ ان کے پلان میں یہ بھی شامل ہو کہ بڑے شہروں میں دھرنے دیئے جائیں، سڑکیں بلاک کی جائیں تاکہ حکومت الیکشن کرانے پر مجبور ہوجائے۔ اس کے علاوہ انھیں یہ بھی خدشہ و پریشانی ہے کہ کہیں صورتحال ان کے ہاتھ سے بھی باہر نہ نکل جائے۔‘
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ عوامی جذبات ختم نہیں ہوتے جب تک کسی نتیجے پر نہ پہنچ جائیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے پاکستان میں سیاست بھٹو اور بھٹو مخالف میں تقیسم تھی، اب عمران خان اور اینٹی عمران خان تقسیم ہے۔ ’اب یہ ہی لائن ہے کہ آپ عمران خان کے ساتھ ہیں یا مخالف ہیں۔‘
بقول فواد چوہدری کے سیاسی بحران کے بعد اب ملک معاشی اور سماجی بحران کی طرف جا رہا ہے، ’یہ حکومت سات ہفتوں سے زیادہ نہیں چل سکتی، ملک کو نئے انتخابات کی ضرورت ہے، ہم اسی طرف جارہے ہیں۔‘
سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل کہتے ہیں جلسے و جلوسوں کے علاوہ دھرنوں اور مارچ تک بھی جائیں گے، ’لاہور جلسے میں عمران خان اہم اعلان کریں گے اور الیکشن کی طرف جائیں گے۔‘

الیکٹیبلز کی دوری
مسلم لیگ ن، پی پی پی، جے یو آئی اور ایم کیو ایم وفاقی حکومت کا حصہ بن چکی ہیں اور تحریک انصاف قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوچکی ہے۔ اس صورتحال میں کیا حکومت دباؤ میں ہے؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’پریشر تو موجود ہے، ظاہر ہے کہ اپوزیشن موجود نہیں ہے، اس کی وجہ سے دباؤ تو ہو گا۔‘
’میرا خیال ہے کہ عمران کا ووٹ بینک تو اچھا خاصا بن گیا ہے لیکن کیا یہ سیٹیں بھی لے سکیں گے؟ کیونکہ ووٹ بینک الگ چیز ہے اور الیکٹیبل کے ساتھ نشستیں لے جانا الگ چیز ہے۔
میرا خیال ہے ان میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ یہ آہستہ آہستہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے دور ہو رہے ہیں جو پاکستان کے کلیدی ادارے ہیں۔ اس سے الیکٹیبلز کے لیے کشش کم ہو جائے گی۔‘
لمز یونیورسٹی کے پروفیسر اور مصنف محمد وسیم کہتے ہیں کہ یہ اسپانسرڈ قیادت اور جماعت تھی اس لیے یہ تو ہونا تھا۔
’تحریک انصاف اور پہلے کی کنگز پارٹیز میں فرق یہ ہے کہ جیسے کنوینشنل مسلم لیگ یا قائد اعظم مسلم لیگ اگلے انتخابات میں بلکل ڈھے جاتی تھیں، لگتا ہے کہ یہ بغیر اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے 10-15 نشستوں پر آ جائے گی۔‘
’ان کا آدھا ووٹ اپنا تھا اور آدھا ان الیکٹیبلز کا تھا جو لائے گئے تھے۔ وہ اپنا ووٹ بھی لیکر آئے۔ اس طرح انھیں جو آدھا ووٹ ملا وہ ان کا نہیں تھا، عمران کے کئی پیروکار ہیں جو یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ معاشی گراوٹ کیا ہے، سیکیورٹی کی صورتحال کیا ہے، فارن پالیسی کہاں گئی، انھیں بس عمران خان میں دلچسپی ہے۔‘

ملک کے بڑے شہروں پر فوکس
تحریک انصاف نے حالیہ جلسوں سے قبل بھی 2013 کے انتخابات کے بعد بڑے شہروں پر فوکس سیاست کی تھی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ احتجاجی تحریکیں بڑے شہروں میں ہی چلتی ہیں، دیہی جو جذبات ہیں ان کا مظہر بھی شہروں میں ہی نظر آتا ہے، دیہات میں ایسا کچھ نہیں جس کا اظہار ہو سکے۔
مظہر عباس بھی ان کے موقف سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں عمران کی ذاتی اپیل تو بڑے شہروں خاص طور پر کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور وغیرہ میں ہے۔ ’ماضی میں بھی انھوں نے یہاں دھرنے دیے تھے کیونکہ ان کا اثر معیشت پر پڑتا ہے، اگر آپ کراچی بلاک کر دیں گے، تاجر اور کاروباری حضرات چیخ پڑتے ہیں۔‘
پروفیسر محمد وسیم کہتے ہیں کہ اتحادی حکومت کی ایک جماعت کی سندھ اور دوسری کی پنجاب میں مضبوط بنیادیں ہیں لیکن پی ٹی آئی تھوڑی پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی سپورٹ متوسط طبقہ ہے، دیہی پاکستان میں ماسوائے خیبر پختون خواہ کے اس کی کہیں بھی جڑیں نہیں جبکہ ووٹ تو شہروں سے باہر بھی ہے۔

بلدیاتی انتخابات اور تحریک
خیبر پختون خواہ میں بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف نے واضح کامیابی حاصل کی جبکہ دوسرے مرحلے میں سندھ میں جون میں انتخابات ہوں گے جبکہ مئی یعنی اگلے مہینے سے نامزدگی فارم کا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔ سندھ کے انتخابات کے بعد پنجاب میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات میں جائے گی یا اپنی حکومت مخالف تحریک جاری رکھے گی۔ تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ عمران خان نے کرنا ہے۔
تجزیہ نگار مظہر عباس کہتے ہیں کہ پنجاب میں جو الیکشن ہوں گے اس میں کونسی جماعت ابھر کر آتی ہے، حکومت کے لیے بھی چیلنج ہوگا اور عمران خان کے لیے بھی ٹیسٹ ہوگا۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے چند روز قبل عمران خان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ 2018 کے بعد ان کے درمیان یہ پہلا رابطہ تھا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ماضی میں 2013 میں دونوں جماعتوں کا اتحاد رہا اور انتخابات میں بھی حصہ لیا۔ عین ممکن ہے کہ عمران خان کسی نئی سیاسی اتحاد کی طرف جا رہے ہوں، جماعت اسلامی کے لیے یہ موافق ہے کہ بلدیاتی اور عام انتخابات میں وہ اتحادی ہوں۔
تاہم سینئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ ان کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’تحریک انصاف میں ساتھ لیکر چلنے کی گنجائش نہیں ہے، ان کی سولو فلائیٹ ہوگی۔‘

عمران خان کے خلاف مقدمات کے خدشات
پاکستان تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس بھی زیر سماعت ہے۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے سنہ 2009 سے 2013 کے درمیان 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد رقم اکٹھی کی اور ان کے مطابق یہ فنڈنگ ممنوعہ ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس 2002 کے تحت پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے لیے غیر ملکیوں سے فنڈ حاصل کرنا منع ہے۔ اس کے علاوہ توشہ خانے میں ملنے والے تحائف کی فروحت کے بھی چرچے جاری ہیں۔
محمد وسیم کا کہنا ہے کہ ’پارٹی فنڈنگ کیس اور دوسرے معاملات باہر آئیں گے تو یہ جو ابھار ہے وہ تھوڑا تھم جائے گا۔ الیکشن ظاہر ہے بہت قریب نہیں ہیں اور اگر اپنے وقت پر ایک ڈیڑھ سال کے بعد ہوتے ہیں تو ان کی حمایت کافی نیچے جا چکی ہو گی۔‘
سابق گورنر عمران اسماعیل کہتے ہیں کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ’ایسے الزامات لگا دیں اور قوم کو یہ دکھائیں کہ عمران خان معاشی طور پر کرپٹ ہیں جس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ پورا پاکستان جانتا ہے کہ عمران خان کو پیسے سے پیار نہیں ہے۔‘
’وزیراعظم کے پاس بے انتہا مواقع ہوتے ہیں پیسے بنانے کے، کسی چیز کی اجازت، کسی کا لاسئنس، اس پر اربوں روپے بنائے جاسکتے ہیں۔ اب ایک وزیراعظم کے اوپر ایک کیس نہیں نکلا تو توشہ خانہ بنا رہے ہیں۔ یہ عمران خان کی جیت ہے کہ پوری مشینری لگانے کے باوجود انھیں ایسی کوئی چیز نہیں ملی اور اب حیلے بہانے سے توشہ خانے پر بات کر رہے ہیں۔‘