خلیجی ریاست بحرینی سوسائٹی نے “فلسطین ستنتصر رابطہ گروپ ” پر فرانس میں پابندی عاید کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فرانسیسی حکومت کی فلسطینیوں کے خلاف تعصب پر مبنی پالیسی کی عکاسی قرار دیا۔
اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کے خلاف سرگرم بحرینی سوسائٹی نے ہفتے کے روز فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین کے “نصرت فلسطین رابطہ گروپ ” کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی مذمت کی۔
ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں ایسوسی ایشن نے تنظیم کے ساتھ اپنی یکجہتی اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اس کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فرانسیسی فیصلہ ایک “حملہ ہے جو یورپی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فرانس کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی عکاسی کرتا ہے۔”
بیان مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے بائیکاٹ کی بڑھتی ہوئی مہم کو خاموش کرنے کی کوشش ہے اور فلسطین کی آزادی کی حمایت، دھمکیوں اور مجرمانہ کارروائیوں کومیں قابض ریاست کی مدد کے مترادف ہے۔
“نصرت فلسطین ” نے گذشتہ جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے صدر ایمانوئل میکرون کی ہدایت پر تنظیم اور ایک اور فلسطینی حامی گروپ کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…