طالبان نے مغربی سفارت کاروں سے ملاقات کے دوران امریکہ سے منجمد کیے گئے 10 ارب ڈالر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ساتھ پہلی باظابطہ بات چیت کرنے والے طالبان وفد کے رہنمانے اجلاس کو ایک کامیابی قرار دیا ہے۔
میٹنگ میں یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور ناروے کے نمائندوں نے طالبان کے وفد کے ساتھ اس کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں ملاقات کی۔
تین روزہ اجلاس میں طالبان کے مندوب نے مغربی مذاکرات کاروں پر زور دیا کہ وہ افغان اثاثوں کو غیر منجمد کریں اور سیاسی گفتگو کی وجہ سے عام افغانوں کو سزا نہ دیں۔
طالبان کے مندوب شفیع اللہ اعظم نے مزید کہا کہ فاقی کشی، شدید سردیوں کی وجہ سے، میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری افغانیوں کی حمایت کرے، نہ کہ ان کے سیاسی تنازعات کی وجہ سے انہیں سزا دی جائے۔
ان ملاقاتوں سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان کے انسانی ہمدردی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مدد ملے گی۔
ناروے کی وزیر خارجہ نے بھی زور دیا ہے کہ یہ مذاکرات طالبان کو تسلیم کرنے یا قانونی حیثیت دینے کے لیے نہیں ہیں لیکن انسانی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ہمیں ملک کے اصل حکمرانوں سے بات کرنی چاہیے۔
ناروے کی وزیر خارجہ نے بھی زور دیا ہے کہ یہ مذاکرات طالبان کو تسلیم کرنے یا قانونی حیثیت دینے کے لیے نہیں ہیں لیکن انسانی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ہمیں ملک کے اصل حکمرانوں سے بات کرنی چاہیے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان