بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے اور زیادہ آبادی والے شہر اندور میں ہندو وکیلوں نے ریاست کے وزیر داخلہ سے اذان پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اندور میں وکلاء نے صوتی آلودگی (noise pollution) کو بہانہ بناتے ہوئے لاؤڈ اسپیکروں سے اذانوں کی آوازوں پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کیلئے وکلاء نے اندور کے ڈویژن کمشنر اور وزیر داخلہ نروتم مشرا کو میمورنڈم بھی ارسال کردیا ہے۔
وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کو مسلم تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مسلم مذہبی رہنماؤں نے اسے مذہبی تعصب سے تعبیر کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کی جمعیت علماء نے بیان دیا جس میں کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے لوگ اپنی تقریبات میں استعمال کرتے ہیں۔
جمعیت کا کہنا تھا کہ صوتی آلودگی تو دیگر سیاسی اجتماعات، شادیوں پر بینڈ باجے، گاڑیوں کے شور سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ پابندی کا مطالبہ کرنے والے لوگ اپنی مذہبی تقریبات میں تو شریک ہوتے نہیں اور دوسروں کو بھی تکلیف دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب وزیر داخلہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وکلاء کی جانب سے ارسال کیے گئے میمورنڈم کو نظر ثانی کیلئے آگے بھیج دیا گیا ہے، رپورٹ آنے پر ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان