- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

سرحدی صوبوں کو سرحدات کے منافع سے فائدہ اٹھانے میں اولویت دینی چاہیے

مولانا عبدالحمید نے چابہار کی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے سرحدی علاقوں کے باشندوں کے مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: سرحدی صوبوں اور سرحدوں کے قریب رہنے والوں کو ترجیح حاصل ہے کہ وہ بارڈر کے مفادات سے فائدہ اٹھائیں۔
انتیس اکتوبر دوہزار اکیس کو ایرانی بلوچستان کے ساحلی شہر چابہار کے فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: چابہار سمیت تمام ساحلی علاقوں کے معزز باشندوں نے مختلف قسم کی سختیوں اور خشکسالیوں کو سہتے ہوئے جھگیوں میں رہنے کو پسند کیا ہے اور ان کے آباؤاجداد نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر جان کی بازی لڑی ہے۔ پرتگالی قابض افواج کے خلاف مزاحمت ان لوگوں کی قربانیوں کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ایران کے سب شہری سرحدی علاقوں کے باشندوں کے زیرِ منت ہیں جو سرحدوں سے حفاظت کرتے ہیں۔ سمندر کے وسط میں واقع سرحدوں کی حفاظت بھی ان ہی لوگوں نے کی ہے؛ لہذا ان کے حقوق پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مولانا عبدالحمید نے واضح کرتے ہوئے کہا: اگر سمندر اور سرحدوں میں کوئی منافع ہے، تو سب سے پہلے ان ہی لوگوں کو ان سے بہرہ ور ہونا چاہیے۔ پالیسی بناتے ہوئے اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے ان لوگوں کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ مکران ساحلی پٹی کے ترقیاتی منصوبوں میں مقامی لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے۔ یہ بہترین پالیسی ہے۔

نفاذِ عدل اور میرٹوکریسی سب قومیتوں اور مسالک کا مطالبہ ہے
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: نفاذِ عدل سب ایرانی قومیتوں اور بطورِ خاص اہل سنت ایران کا مطالبہ ہے۔
انہوں نے کہا: ہمارے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ عہدوں کی تقسیم اہلیت اور قابلیت ہی کی بنیاد پر ہو، میرٹوکریسی کو بنیاد بناکر سب قومیتوں اور مسالک کے پیروکاروں پر یکسان توجہ دینی چاہیے۔ سماج میں حقیقی دینی میرٹوکریسی کی ضرورت ہے۔
نامور سنی عالم دین نے تاکید کی: امن بہت اہم اور سب کے مفاد میں ہے۔ اتحاد کے لیے کوشش سمجھداری کی علامت ہے۔ سنی برادری کے لیے امن عامہ بہت اہم ہے اور بھائی چارہ اور اتحاد ان کا نصب العین ہے۔

حکام ’مہنگائی‘ اور ’بے روزگاری‘ کے بحران پر قابو پائیں
مولانا عبدالحمید نے چابہار کے اہل سنت نمازیوں سے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: امید کرتے ہیں جس طرح صدر رئیسی نے اپنے دوسرے صوبائی سفر کو ہمارے ہی صوبہ کے ساتھ خاص کیا اور سب سے پہلے چابہار آئے، وہ ان علاقوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرائیں اور قلت پانی، بے روزگاری جیسے مسائل کو حل کرائیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ آج غربت پورے ملک میں موجزن ہے اور بے روزگاری و مہنگائی نے لوگوں کا جینا حرام کردیاہے۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ اعلیٰ حکام ان مسائل کے حل کے لیے مناسب منصوبہ بندی کریں۔

ہدایت، اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے
اپنے خطاب کے پہلے حصے میں مولانا عبدالحمید نے کہا: ہدایت کا مطلب ہے حق کو باطل سے تمیز کرنا؛ یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ کچھ لوگ حق کو پہچانتے ہیں، لیکن اپنے مفادات کی خاطر حق کی پیروی نہیں کرتے ہیں؛ حالانکہ حق کو ماننے کے ساتھ ساتھ، حق کی اتباع اور حق پر استقامت بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: اندھیرے کو دیکھنے والے ہی روشنائی کی قدر کرتے ہیں۔جب انسان بت پرستوں اور شرک میں مبتلا لوگوں کو دیکھتاہے، تب ایمان کی قدر جانتاہے۔ یہ ایمان اور ہدایت خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: حقیقی دانشور، روشن خیال اور بنیا شخص وہی ہے جو خدا کو پہچان لے، قرآن پاک اور درست راہ کو تسلیم کرلے۔ جو دنیا سے فائدہ اٹھانے کو خوب جانتے ہیں، لیکن آخرت سے غافل ہیں، ان کی بینائی محدود ہے۔
انہوں نے کہا: جمع اور اجتماع میں برکت ہے؛ کورونا نے نمازیوں کو مساجد سے دور کردیا۔ اب وقت آچکاہے کہ لوگ دوبارہ مساجد کا رخ کریں اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں۔