- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

زہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروالوں نے جوکی روٹی سے بھی دو دن متواتر پیٹ نہیں بھرا:
حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جوکی روٹی سے بھی دو دن متواتر پیٹ نہیں بھرا، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے اٹھالیئے گئے۔ (بخاری و مسلم)
مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں ایسا نہیں ہوا کہ آپ کے اہل و عیال نے دو دن متواتر جوکی روٹی بھی پیٹ بھر کھائی ہو، اگر ایک دن پیٹ بھر کھایا تو دو دن بھوکے رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں جو تکلیفیں اٹھائیں وہ کسی نے بھی نہیں اٹھائیں:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ کے راستے میں مجھے اتنا ڈرایا دھمکایا گیا کہ کسی اور کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کے راستہ میں مجھے اتنا ستایا گیا کہ کسی اور کو اتنا نہیں ستایا گیا اور ایک دفعہ تیس دن رات مجھ پر اس حال میں گذرے کہ میرے اور بلال کے لیے کھانے کی کوئی ایسی چیز نہ تھی، جسے کوئی جاندار کھا سکے، بجز اس کے جو بلال نے اپنی بغل میں دبا رکھا تھا۔“ (جامع ترمذی)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو سبق دینے کے لیے آپ بیتی سنائی کہ دین کی دعوت اور اللہ کا پیغام پہنچانے کے سلسلے میں مجھے ایسی ایسی مصیبتوں سے گذرنا پڑا ہے، دشمنوں نے مجھے اتنا ڈرایا دھمکایا کہ میرے سوا کسی کو اتنا نہیں ڈرایا دھمکایا گیا اور جب میں ان کی دھمکیوں کا اثر نہیں لیا اور دین کی دعوت دیتا رہا تو اِن ظالموں نے مجھے اتنا ستایا اور ایسی ایسی تکلیفیں دیں کہ میرے سوا کسی کو ایسی تکلیفوں سے گذرنا نہیں پڑا اور بھوک اور فاقہ کی تکلیف بھی اتنی اٹھائی کہ ایک دفعہ پورے مہینے کے تیس دن رات اس حالت میں گزر گئے کہ کھانے کی کوئی نہ تھی، بجز اس کے کہ بلال نے اپنی بغل میں کچھ دبا رکھا تھا۔ پورے مہینے مجھے اور بلال کو اسی پر گذارہ کرنا پڑا۔
دو دو مہینے تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چولھا ٹھنڈا رہتا تھا:
حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ آپ نے اپنے بھانجے عروہ سے فرمایا:
”میرے بھانجے! ہم (اہل بیت نبوت اس طرح گذارا کرتے تھے کہ) کبھی کبھی لگاتار تین تین چاند دیکھ لیتے تھے (یعنی کامل دو مہینے گذرجاتے تھے) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں چولھا گرم نہ ہوتا تھا۔ (عروہ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا کہ پھر آپ لوگوں کو کیا چیز زندہ رکھتی تھی؟ حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: بس کھجور کے دانے اور پانی، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض انصاری پڑوسی تھے، ان کے ہاں دودھ دینے والے جانور تھے، وہ آپ کے لیے دودھ بطور ہدیہ کے بھیجا کرتے تھے، اور اس میں سے آپ ہم کو بھی دے دیتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
مطلب یہ ہے کہ تنگی اور ناداری اس قدر تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر دو دو مہینے ایسے گزر جاتے تھے کہ کسی قسم کا اناج، بلکہ پکنے والی کوئی چیز بھی گھر میں نہیں آتی تھی، جس کی وجہ سے چولھا جلانے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی، بس کھجور اور پانی پر دن گزارے جاتے تھے یا کبھی پڑوس کے کسی گھر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ آتا تو وہ پیٹوں میں پہنچتا تھا، باقی بس اللہ کا نام!
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی:
حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حال میں وفات پائی کہ آپ کی زرہ 30 صاع جَو کے بدلے ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری)
ہمارے اکثر علماء کی تحقیق یہ ہے کہ ایک صاع قریباً ساڑھے تین سیر کا ہوتا تھا، اس حساب سے 30 صاع جَو قریب ڈھائی من کے ہوئے۔ حدیث کا مقصد اور منشا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارک کے بالکل آخری ایام میں بھی (جب کہ قریب قریب پورے عرب کے آپ فرمانروا بھی تھے) آپ کے گھر کے گذارے کا حال یہ تھا کہ مدینے کے ایک یہودی کے پاس اپنی قیمتی زرہ رہن رکھ کر آپ نے صرف 30صاع جو وفات سے کچھ ہی پہلے قرض لیے تھے۔
مسلمانوں کو چھوڑ کر کسی یہودی سے قرض لینے کی مصلحت:
مدینہ منورہ کے مسلمانوں میں بھی ایسے متعدد افراد ہونے کے باوجود جن سے ایسے چھوٹے چھوٹے قرضے غالباً ہر وقت لیے جاسکتے تھے، کسی یہودی سے قرض لینے کی چند مصلحتیں ہوسکتی ہیں:
ایک یہ کہ آپ نہیں چاہتے تھے کہ اپنے اہل محبت اور نیازمندوں میں سے کسی کو اس حالت اور اس قسم کے ضرورت کا علم ہو، کیوں کہ پھر وہ بجائے قرض کے ہدیہ و غیرہ کے ذریعے آپ کی خدمت کرنا چاہتے اور اس سے اُن پر ہار پڑتا، نیز اس صورت میں قرض منگوانے میں ایک قسم کی طلب اور تحریک ہوجاتی۔
غالباً دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ اس شبہ اور شائبے سے بھی بچنا چاہتے تھے، کہ آپ کے ذریعہ اہل ایمان کو دین کو جو دولت ملی، اس کے عوض آپ کوئی حقیر سے حقیر بھی دنیوی فائدہ اُن سے اٹھائیں۔ اس لیے مجبوری اور ضرورت کے موقع پر آپ قرض بھی غیرمسلموں سے لینا چاہتے تھے۔
تیسری مصلحت اس میں غالباً یہ بھی تھی کہ لین دین کے یہ تعلقات غیرمسلموں سے رکھنے میں ان کی آمد و رفت اور ملنے جلنے کے مواقع پیدا ہوتے تھے اور اس کا راستہ کھلتا تھا، کہ وہ لوگ آپ کو اور آپ کی سیرت کو جانیں اور جانچیں اور ایمان اور رضائے الہی کی دولت سے وہ بھی بہرہ یاب ہوں۔ چنانچہ یہ نتائج ظہور میں بھی آئے۔ مشکوۃ میں امام بیہقی کی ”دلائل النبوۃ“ کے حوالہ سے مدینہ کے ایک بڑے دولتمند یہودی کا یہ واقعہ مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ قرض لیا تھا۔ وہ تقاضے کو آیا تو آپ نے عذر کیا کہ اس وقت ہم خالی ہاتھ ہیں اس لیے تمھارا قرضہ ادا کرنے سے آج مجبور ہیں۔
اس نے کہا کہ میں تو لیے بغیر نہیں جاؤں گا۔ چناں چہ جم کے وہیں بیٹھ گیا۔ یہاں تک کہ پورا دن گزر گیا اور رات بھی گزر گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس دوران میں اُس یہودی کی موجودگی ہی میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا فرمائیں اور وہ نہیں ٹلا۔ بعض صحابہ کو اس کی یہ حرکت بہت ناگوار ہوئی اور انھوں نے چپکے چپکے اسے ڈرایا دھمکایا، تاکہ وہ کسی طرح چلا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا پتا چلا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے اللہ تعالی کا یہ حکم ہے کہ کسی معاہد پر کوئی ظلم و زیادتی نہ ہو۔“
یہ سن کر صحابہ کو بھی خاموش ہوجانا پڑا، پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد اس یہودی نے کہا کہ میں دراصل قرض کے تقاضے کے لیے نہیں آیا تھا، بلکہ میں دیکھنا اور جانچنا چاہتا تھا کہ وہ اوصاف و علامات آپ میں موجود ہیں یا نہیں جو تورات میں آخری زمانے میں آنے والے پیغمبر کے بیان کیے گئے ہیں۔ اب میں نے دیکھ لیا اور مجھے یقین ہوگیا کہ آپ ہی وہ نبی موعود ہیں۔
اس کے بعد اُس نے کلمہ شہادت پڑھا اور اپنی ساری دولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرکے عرض کیا: ”هذا مالی فاحکم فیه بما اراک الله“ یہ میرے سارا مال حاضر ہے، اب آپ اللہ کی تعلیم و ہدایت کے مطابق اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں اور جس مصرف میں چاہیں اس کو صرف فرمائیں۔
یوں اس طریقے سے ایک یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاکر آپ کے خوش نصیب صحابہ میں شامل ہوگیا۔