- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

بھارت: مدھیا پردیش میں مسجد کو نقصان پہچانے پر 5 افراد گرفتار

بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے ضلع مندساور کے گاؤں ڈورانا میں ایک مسجد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب دائیں بازو کی تنظیم کے کارکن ایودھیا میں مندر کے لیے فنڈز جمع کرنے ریلی کی شکل میں جارہے تھے جو 1992 میں شہید کی گئی بابری مسجد جگہ تعمیر ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کارکن ہاتھوں میں جھنڈے لیے ہوئے مسجد کے گرد جمع ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں اور چند افراد مسجد کی چھت پر چڑھ گئے ہیں۔
دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ متعدد افراد نے مذکورہ علاقے میں مسلمانوں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا تاہم کوئی مکین زخمی نہیں ہوا کیونکہ وہ قریبی کھیتوں میں بھاگ گئے تھے۔
عہدیداروں کا کہنا تھا کہ واقعے میں گرفتار 5 افراد کے علاوہ کئی افراد شامل تھے، جن کی شناخت ویڈیو کے ذریعے کی جارہی ہے جبکہ گرفتار افراد پر کشیدگی، اشتعال دلانے سمیت دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔
مندساور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس سدھارتھ چوہدری کا کہنا تھا کہ مسجد کو اس واقعے میں نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اسی روز اندور میں بھی اس طرح کا واقعہ پیش آیا تھا اور فنڈز جمع کرنے کے لیے ریلی نکالنے والے افراد نے مبینہ طور پر مسجد کو نقصان پہنچایا اور مذہبی نعرے لگا رہے تھے اور مسجد کے باہر ہنومان چلیسا پڑھ رہے تھے، ہنومان چلیسا ہندوؤں کے دیوتا ہنومان کا بھجن ہے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کے نتیجے میں پتھراؤ اور فائرنگ ہوئی جس سے ریلی میں شریک چند افراد زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے حوالے سے چار مقدمات درج کیے جاچکے ہیں اور 27 افراد کو ابتدائی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔
بھارت میں پیش آنے والے واقعے پر صدر مملکت عارف علوی نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ‘بھارت میں مساجد کی بے حرمتی بڑھتی جارہی ہے، اقلیتیں بالخصوص مسلمان خود کو الگ اور خوف زدہ محسوس کر رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘بی جے پی حکومت کی فاشزم بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک بنانے کا باعث بن رہی ہے’۔
یاد رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے رواں برس 5 اگست کو بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا تھا اور عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث بڑے ہجوم کو محدود کرنے کے باوجود ہندوؤں نے مندر کا سنگِ بنیاد رکھنے کا جشن منایا تھا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بابری مسجد کی اراضی پر رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی مذمت کی گئی تھی اور کہا تھا کہ تاریخی بابری مسجد پانچ صدیوں سے موجود تھی لیکن بھارت کی سپریم کورٹ کے ناقص فیصلے کے نتیجے میں رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوگئی۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ فیصلے سے نہ صرف عدالتی نظام پر سے یقین اٹھ گیا بلکہ بھارت میں موجود اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں پر تیزی سے حملے ہو رہے ہیں۔