- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

علمائے کرام کی رحلت اور ہماری بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں

علماء کرام کا تیزی سے دنیا سے رخصت ہونا کوئی خیر یا بے فکری کی بات نہیں ہے۔ یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ علماء کرام کا اس طرح مسلسل اور تیزی کے ساتھ وفات پاجانا بہت زیادہ نقصان اور خسارے کی بات ہے۔ ویسے تو گزشتہ چند سالوں کے دوران بے شمار علماء کرام دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن 2020 میں چند ماہ کے دوران اتنی بڑی تعداد میں جید علماء کرام خالق حقیقی کے پاس جا پہنچے کہ ملک کے سنجیدہ حلقوں میں تشویش پھیل گئی اور وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ آخر ایسی کیا بات ہے کہ علماء کرام یکے بعد دیگرے دنیا سے رخصت ہوتے جارہے ہیں۔ آخر اللہ رب العزت کی ذات عالی ہم سے کس بات پر اتنی ناراض ہے کہ ہمارے درمیان سے اپنے برگزیدہ بندوں کو چن چن کر نکال رہی ہے اور ہم روز بہ روز تنہا ہوتے چلے جارہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ایک عالم کی موت پورے جہاں کی موت ہے۔ بات بالکل درست ہے کہ ایک عالم کی موت ایک شخص کی موت نہیں بلکہ علم کے ایک جہاں کی موت ہے۔ جو علم اس نے حاصل کیا وہ تو اپنے ساتھ لے گیا، اب دنیا اس کے علوم سے محروم ہوگئی۔ موجودہ دور میں پہلے ہی مخلص لوگوں کی کمی ہے، ہر طرف افراتفری ہے، ہر شخص اپنی ذات کی فکر میں ہے، ایسی صورتحال میں امت کا غم اور درد رکھنے والی شخصیات کا تیزی سے چلے جانا آفت سے کم نہیں۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں، بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے علماء کرام کی قدر نہیں کی۔ یہ برگزیدہ بندے اللہ رب العزت کی نعمت ہیں، لیکن ہم نے اس نعمت کی انتہائی ناقدری کی ہے، انہیں برا بھلا کہنے اور لعن طعن کرنے سے بھی نہیں ہچکچائے۔ ایک مرتبہ ایک شخص جس کا چہرہ داڑھی کے نور سے یکسر محروم تھا، فرض نماز تک میں انتہائی کوتا ہی کرنے والا تھا کہنے لگا ”میری مولویوں سے نہیں بنتی“ میں نے فوراً جواب دیا یہی وجہ ہے کہ آپ کے چہرے پر سنت رسول نہیں سجی ہوئی، آپ فرض نماز تک ادا نہیں کرتے، دین سے دور رہ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی نتیجہ ہوتا ہے علماء کرام سے نفرت کا۔
اللہ تعالی کا قانون ہے کہ جب اس کی عطا کردہ نعمت کی قدر کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے تو وہ نعمت میں اضافہ کرتا ہے اور جب اس کی کسی نعمت کی ناقدری کی جائے اور اس کی ناشکری کی جائے تو وہ اس نعمت کو چھین لیتا ہے۔ شاید اسی قانون کے مطابق اللہ تعالی نے اپنے اولیاء کو ہم سے چھین لیا ہے اور آج امت خالی خالی محسوس ہونے لگی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران رفتہ رفتہ علماء کرام اٹھتے گئے، شاید یہ الارم تھا کہ سنبھل جاؤ لیکن ہم اس وقت نہ سمجھے، نہ سنبھلے تو پھر یک دم بہت سے علماء کرام کو اللہ تعالی نے اپنی جوار رحمت میں بلالیا اور ہم ان کے فیض سے محروم ہو گئے، گنتی کے علماء کرام ہی رہ گئے ہیں جن کی قدردانی ضروری ہے۔
بخاری شریف کی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی علم کو بندوں (کے سینوں) سے کھینچ کر نہیں اٹھائے گا بلکہ علماء کی وفات سے علم اٹھائے گا، حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے، جن سے مسائل پوچھے جائیں گے، وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے۔“ اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں علماء کرام کی رحلت کو علم کے اٹھائے جانے سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی جب اللہ تعالی دنیا سے علم کو اٹھانے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا کہ لوگوں کے سینوں سے علم نکال لیں، بلکہ اللہ تعالی علماء کرام کو ہی دنیا سے اٹھالیں گے اور دنیا علم سے محروم ہوجائے گی اور پھر ہر طرف گمراہی اور جہالت کا دور دورہ ہوگا۔ لوگ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
لہذا علماء کرام کی قدردانی کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور ان کی قدر کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان سے علم حاصل کیا جائے۔ جو کچھ ان کے پاس ہے اس سیکھا جائے اور اپنی اولاد میں اسے منتقل کیا جائے۔ قحط الرجال کے اس دور میں مسلمانوں کی ذمہ داری بڑھ چکی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو علم دین سکھانے کا خاص اہتمام کریں اور انہیں علماء کرام کی مجالس میں بھیجیں، ان کے دلوں میں علماء کرام کی محبت پیدا کریں تا کہ علماء کرام کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد ہمارے پاس کافی تعداد میں علماء موجود ہوں جو ان جید علماء کے فیض یافتہ ہوں اور لوگوں کو غلط فتوے دینے سے گریز کریں اور علم کو آگے منتقل کرنے کا باعث بنیں۔
اسی طرح اب باقی رہ جانے والے علماء کرام کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جارہی ہیں، جیسے جیسے علماء کرام دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، ان کی ذمہ داریاں پیچھے رہ جانے والوں کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، اب موجود علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے علوم کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچائیں، دینی ادارے قائم کریں اور اپنی دیگر مصروفیات کو کم کرکے لوگوں تک علم دین پہنچائیں تا کہ عوام کے لیے دینی علوم سیکھنا آسان ہو اور وہ خود اور اپنے بچوں کو مستند علماء کرام سے با آسانی دینی علوم سکھانے کا اہتمام کرسکیں۔ اس سے جاہل اور گمراہ لوگوں کا راستہ روکا جاسکے گا اور انہیں کسی بھی طرح اپنے باطل عقائد و نظریات پھیلانے کا موقع نہیں ملے گا۔