- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

نیوزی لینڈ: مساجد میں فائرنگ کرنے والے دہشتگرد کو ملک کی تاریخ کی بدترین سزا

نیوزی لینڈ کی عدالت نے مساجد میں فائرنگ کرکے 51 نمازیوں کو قتل کرنے والے برینٹن ٹیرنٹ کو بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا سنادی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس سزا سے کرائسٹ چرچ کی مساجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد کو کسی بھی صورت معافی کا حق حاصل نہیں ہوگا.
واضح رہے کہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مجرم کو ایسی سزا سنائی گئی ہے۔
سفید فام نسل پرست 29 سالہ آسٹریلیائی شہری برینٹن ٹیرنٹ نے 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں فائرنگ سے 51 مسلمانوں کو قتل، 40 اقدام قتل اور دہشت گردی کے جرم کا اعتراف کیا تھا اور جسے اس نے فیس بک پر براہ راست دکھایا بھی تھا۔
جمعرات کو ہائیکورٹ کے جج کیمرون مینڈر نے کرائسٹ چرچ میں کہا کہ سزا کی کوئی معینہ مدت کافی نہیں ہوگی۔
جج نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ ‘تمہارے جرائم اتنے گھناؤنے ہیں کہ اگر مرنے تک تم کو حراست میں رکھا جائے تو بھی سزا اور مذمت کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاسکے گا’۔
انہوں نے کہا ‘جہاں تک میں سمجھ سکتا ہوں، تم اپنے متاثرین کے لیے ہمدردی سے بھی خالی ہو’۔
بھورے رنگ کے جیل کے لباس میں ملبوس، گارڈز سے گھرے ہوا برینٹن ٹیرنٹ نے اپنی سزا پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔
استغاثہ نے اس سے قبل عدالت کو بتایا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ ان لوگوں میں خوف پھیلانا چاہتا تھا جن کو وہ خطرہ سمجھتا تھا اور اس نے احتیاط سے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ قتل عام کرے۔
فائرنگ کا نشانہ بننے والی النور مسجد کے امام جمال فودہ نے کہا ‘آج اس گھناؤنے جرم کی قانونی کارروائی پوری ہوگئی ہے، کسی بھی سزا سے ہمارے پیاروں کو واپس نہیں لایا جاسکتا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘انتہا پسند سب ایک جیسے ہیں، چاہے وہ مذاہب، قوم پرستی یا کوئی اور نظریہ استعمال کریں، تمام انتہا پسند نفرت کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن آج ہم یہاں ہیں، ہم محبت، ہمدردی، مسلمان اور غیر مسلم لوگوں اور عقیدے کے احترام کرتے ہیں’۔
برینٹن ٹیرنٹ جس نے سماعت کے دوران اپنی خود نمائندگی کی لیکن کسی قسم کی سفارشات پیش نہیں کیں، نے جمعرات کو عدالت میں ایک وکیل کے ذریعہ کہا کہ اس نے پیرول کے بغیر عمر قید کے لیے استغاثہ کی درخواست کی مخالفت نہیں کی ہے۔
جج کا کہنا تھا کہ ‘یہ نفرت جو آپ کے دل میں مخصوص برادری کے لیے ہے جس کے لیے آپ قتل کے ارادے سے اس ملک میں آئے تھے، اس کی یہاں کوئی جگہ نہیں ہے، اس کی کہیں بھی جگہ نہیں ہے’۔

‘اسے کبھی سورج کی روشنی نہیں نصیب ہوگی’
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘اسے کبھی سورج کی روشنی نہیں نصیب ہوگی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ’15 مارچ کا صدمہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوسکتا لیکن مجھے امید ہے کہ آج کا دن وہ آخری دن ہے جس میں ہم اس دہشت گرد کا نام سنیں گا’۔
انہوں نے کہا کہ وہ پوری زندگی کے لیے مکمل خاموشی کا مستحق ہے’۔
انہوں نے متاثرین کے لواحقین کی تعریف کی جنہوں نے رواں ہفتے عدالت میں جذباتی بیانات دیتے ہوئے برینٹن ٹیرنٹ کو بغیر کسی پیرول کے عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ‘میں اپنی مسلم برادری کی قوت کو تسلیم کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے گزشتہ دنوں عدالت میں اپنی باتیں کہیں، آپ نے 15 مارچ کے خوفناک واقعے اور اس کی وجہ سے ہونے والے درد کو دوبارہ زندہ کیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘تکلیف کسی بھی طرح دور نہیں ہوگی لیکن مجھے امید ہے کہ اس سارے عمل کے دوران آپ نے اپنے آس پاس نیوزی لینڈ کی ہمدردی کو محسوس کیا ہو گا اور مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی آپ کو یہ محسوس ہوتا رہے گا’۔
جج نے برینٹن ٹیرنٹ کو سزا سنانے سے قبل پوچھا کہ اگر اسے کچھ کہنا ہے تو اس نے سر ہلادیا، جب اسے بتایا گیا کہ اسے اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے تب بھی اس نے کچھ نہیں کہا۔

آج سنائی گئی سزا کے اہم نکات یہ ہیں:
نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق مساجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد کو سنائی گئی سزا کے اہم نکات یہ ہیں.
• عدالت سے ‘واضح طور پر نیوزی لینڈ کے بدترین قاتل’ کے لیے بغیر کسی پیرول کے عمر قید کی سزا سنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
• برینٹن ٹیرنٹ نے زندگی بھر کے لیے جیل میں رہنے کی مخالفت نہیں کی۔
• اس نے قبل از سزا ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ وہ نسل پرست یا دیگر قومیت کو ناپسند کرنے والا نہیں تھا۔
• اس نے کہا کہ اس وقت اس کے سیاسی اور معاشرتی نظریات حقیقی نہیں تھے، وہ خود کو بے دخل محسوس کرتا تھا اور معاشرے کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔
• تاہم اس نے یہ قبول کیا کہ یہ بلا شبہ ایک دہشت گرد حملہ تھا۔
• عدالت نے کہا کہ یہ واضح طور پر نظریاتی بنیاد پر تھا، برینٹن ٹیرنٹ ایک خطرناک نفسیاتی شخص تھا جس پر بغیر کسی پیرول کے عمر قید واجب ہوئی۔

عدالت کے باہر کے مناظر
سزا سنائے جانے کے بعد مجرم کو عدالت سے لے جایا گیا جبکہ عوامی گیلری میں خاموش دیکھی گئی۔
اس کے بعد جج نے عدالت میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے تمام وکلا کی مدد اور پیشہ ورانہ مہارت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے متاثرین، امدادی کارکنان، مختلف ایجنسیوں کے عملے اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ان سب سے بڑھ کر انہوں نے النور اور لین وڈ مسجد کے متاثرین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی تاثراتی بیانات دیے، عدالت کا احترام کیا اور صبر کیا۔
عدالت کے باہر مسلمان برادری کی حمایت کے لیے موجود لوگوں نے سزا سن کر تالیاں بجائیں اور گیت گائے۔
خیال رہے کہ برینٹن ٹیرنٹ سے قبل تہرے قتل کے مجرم ولیم بیل 2001 میں کیے گئے اپنے جرائم کے لیے پیرول کے ساتھ کم از کم 30 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے جو نیوزی لینڈ کی تاریخ میں کسی کو دی گئی سب سے طویل عرصے تک سزا تھی۔

کرائسٹ چرچ دہشت گردی
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں دہشت گرد نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 51 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے، انہوں نے حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔
فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی تھی۔
مسجد میں فائرنگ کرنے والے ایک دہشت گرد نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی، جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا تھا۔
22 مارچ کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی تھی۔
بعد ازاں کرائسٹ چرچ کی عدالت نے 15 مارچ کو کیے گئے حملے میں برینٹن ٹیرنٹ پر 51 افراد کے قتل اور 40 کے اقدام قتل کی فرد جرم عائد کی تھی۔