- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

سرزمین فقہاء و محدثین میں چند روز

الحمد للہ! سفر ازبکستان کا آغاز ہوا، گذشتہ کل ١٩ ستمبر ٢٠١٩ء کو PIA کی فلائٹ PK 304 سے لاہور پہنچ گئے، یہاں مفتی ہشام مغربی زید مجدہم کے ادارے مدرسہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا میں رات گزاری، آج بروز جمعہ ٢٠ ستمبر ٢٠١٩ء صبح نماز فجر سے متصل لاہور انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر پہنچ گئے۔
بندہ اپنے استاذ محترم حضرت مولانا مفتی عبد الحمید ربانی زید مجدہم کی معیت میں لاہور پہنچا، یہاں پہنچ کر قافلہ کے مندرجہ ذیل اکابر و علماء و رفقاء سے ملاقات ہوئی :
1- حضرت مولانا عبد الوحید مدنی زید مجدہم (مدینہ منورہ)
2 – حضرت مفتی عبد الحمید ربانی زید مجدہم (کراچی)
3- حضرت مولانا جاوید الرحمن زید مجدہم (کراچی)
4- حضرت مولانا محمد الیاس چنیوٹی زید مجدہم (چنیوٹ)
5- حضرت مولانا محمد صالح زید مجدہم (دیر بالا)
6- پروفیسر مولانا علی اصغر شاہد زید مجدہم (فیصل آباد)
7- جناب مولانا شمس الدین پیر زادہ زید مجدہم (کراچی)
8- حضرت مفتی منظور احمد (کراچی)
9- جناب مفتی محمد بلال (کراچی)
10- قاری مطیع الرحمن (کراچی)
11- خواجہ معین الدین انور (کراچی)
12- بھائی نور عالم بادشاہ (دیر بالا)
13- مولانا ڈاکٹر جمیل (پشاور)
14- مولانا اسد اللہ (پشاور)
15- مولانا اسماعیل (پشاور)
16- بھائی سلیمان (چنیوٹ)
17- مولانا محمد عاصم (کراچی)
نوٹ : آخر الذکر رفیق سفر گذشتہ کل فلائی دبئی سے رات تاشقند پہنچ چکے ہیں۔

بس کے ذریعہ ائیر لائن تک پہنچ کر اس وقت ہم سارے رفقاء ازبکستان ایئرویز میں اپنی اپنی سیٹوں پر براجمان ہیں اور سامان رکھنے کے بعد دعائے سفر اور اعمال سفر و گفتگو میں محو ہیں، تین گھنٹے کی مسافت کے بعد ان شاء اللہ ہم تاشقند ائیر پورٹ پہنچ کر باقی روداد کے ساتھ ملتے ہیں۔
تب تک کے لئے اجازت اور دعائے خیر و صحت کی درخواست ہے۔
ائیر لائن میں خاطر تواضع
ساڑھے دس بجے کے قریب استاذ محترم زید مجدہم کی آواز نے جگایا، بندہ تو نیند کا خواہاں تھا، جہاز کے اڑان بھرتے ہی لمبی تان کے سوگیا تھا، آدھے گھنٹے کی نیند کے بعد کچھ بھوک کا تقاضہ بھی فطری امر ہے، ائیر لائن نے ائیر بلیو انتظامیہ کے تعاون سے جو اکرام کیا وہ خوب لذیذ بھی تھا اور قابل دید بھی!
چائنیز بمعہ چاول، انہار کی دہی، رشین سلاد، کٹ فروٹ، نور پور مکھن اور ہیپی کاؤ پنیر کی ٹکیہ، دو سادے بن، کرنچ کافی پیسٹری !
اور پھر ازبکی جوسز اور ساتھ میں مونگ پھلی سے تواضع !

ازبکستان ائیر لائن HY 462 کا عملہ خوب مستعد اور چوکنا اور کام میں تیز ہے، اس وقت جہاز لاہور سے اڑتا ہوا افغانستان کے کوہساروں کو نیچے چھوڑتا ہوا، فضائی بادلوں میں تیرتا ہوا تاشقند کی رواں دواں ہے اور نیچے کے یہ بلند و بالا کوہسار اور عظیم پہاڑوں کی زبان حال سے خدائے بزرگ و برتر کی توحید کے ذکر سنائی دے رہے ہیں!

جہاز کی سیٹیں
یہ جہاز 26 قطار (Line) پر مشتمل ہے جس میں ہر قطار میں چھ سیٹ ہیں، اس طرح کل 156 سیٹ کا یہ جہاز ہے، کچھ سیٹیں خالی بھی نظر آرہی ہیں، سیٹ کسی قدر آرام دہ ہے، چنانچہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے، تاکہ کچھ آرام ہوجائے کہ اترتے ہی امیگریشن سے فارغ ہوکر نماز جمعہ کے لئے خستہ امام جامع مسجد جانا ہے!

تاشقند شہر میں
ائیر لائن سے اترتے ہی امیگریشن سے پاسپورٹ پر اسٹمپ لگایا، سامان ساتھ لیا اور باہر نکلے، دو ساتھیوں کو کتب کی چھان بین کے بعد فارغ کیا، باہر ہمارے گائیڈ بھائی عارف بٹ از لاہور موجود تھے، یہ پچیس سال سے یہیں ہیں، بڑے خوش اخلاق اور خوش سیرت و خوب صورت ساتھی ہیں، ساتھ میں بھائی زیاد جو کہ تاشقند سے ١٣٠ کلومیٹر کے فاصلے پر سردریا کے علاقے کے ہیں، موجود تھے۔

باہر کا منظر دلربا، ہرا بھرا اور سرسبز چادروں سے ڈھکی ہوئی سڑکیں، موسم کا اعتدال اور صفائی ستھرائی میں خوب منظر آنکھوں کو بھلا لگا، رشین طرز کا ثقافتی لباس یہاں کا عام لباس ہے، کشادہ سڑکیں اور نئی نئی گاڑیاں یہاں کی ترقی کی نوید سنا رہے ہیں، مزاج میں نرمی اور لوگوں کے چہرے کا سکون یہاں کے امن کا پیغام دے رہا ہے، اللہ تعالی یہاں کے باشندوں کو خوشیاں عطا فرمائے آمین۔

ارینہ ریسٹورنٹ
مصافحہ و ملاقات کے بعد سامان بس میں رکھا اور کھانے کے لئے ہوٹل روانہ ہوئے، بس میں جب بیٹھے تو ایک دو تین چار بج رہے تھے یعنی 12:34
یہاں کا مقامی وقت پاکستان کے مطابق ہے اور موسم بھی، بس فراٹے بھرتی ہوئی ARINA ریسٹورنٹ پہنچی اور وہاں اس وقت کھانے سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔
خوب کھانے ہیں، پہلے سرکہ اور گوبھی کا بہترین اچار، پھر تربوز و خربوز کے پیس آئے، پھر لیموں قہوہ اور مقامی روٹی کا ثقافتی کھانا، پھر ٹماٹر، کھیرے اور پیاز کا سلاد اور ساتھ میں افغانی پلاؤ، کیا خوب ثقافتی کھانا تھا، ہمارے گائیڈ مختلف احوال سناتے رہے، ابھی کھانے سے فارغ ہوئے تو کرسیاں لوگوں کے اٹھنے سے چرچرانے لگیں، ریسٹورنٹ کی انتظامیہ نے ہمیں الوداع کیا، اپنی زبان میں “رحمت رحمت” (Thank you) کہنے لگے، اور ہمارے قدم بس کی طرف بڑھنے لگے!

بس کی سیر
آج تاشقند کی ٹورزم بس میں بیٹھ کر وہ ابتدائی دور کی کلاس کا منظر یاد آگیا جب چھٹیوں کے بعد ماسٹر صاحب پوچھتے تھے کہ اچھا بچو بتاؤ! چھٹیوں میں کیسے سیر کی، کہاں کہاں گھومنے گئے، طلبہ بڑی خوشی سے کہتے کہ ہم نے بس میں سیر کی اور سڑکوں اور راستوں کی پیمائی کی، مناظر قدرت بھی دیکھے اور بڑی بڑی عمارات بھی!
ہنستے مسکراتے بچوں کی باتیں آج یاد آرہی ہیں، خیر! واپس آجائیں، ابھی آگے جانا ہے کہ ماضی کے دریچے پھر کھولیں گے۔

آج کی زیارات
□ خستہ امام کی جامع مسجد نمازگاہ
□ حضرت عثمان رضی اللہ عنہا کے ہاتھ کا لکھا ہوا مصحف قرآنی
□ اطراف کے حجروں میں قدیم نسخے
□ تاشقند کے میئر حاکم خان کے بیٹے برکت خان کا تعلیمی مدرسہ اور وہاں کے حجرے
□ شیخ قفال الشاشی اور ان کے تین رفقاء کے مزارات
□ معھد الامام البخاری الاسلامی (امام بخاری انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز)
□ سینٹر آف اسلامک سویلیشن (مرکز علوم اسلامی)

خستہ امام کی جامع مسجد نمازگاہ
بس فراٹے بھرتی ہوئی خستہ امام کی جامع مسجد پہنچی اور پارکنگ میں اتر کر ہم سب سیدھے واش روم اور وضو خانے کی طرف ڈورے!
بہرحال نماز جمعہ تو ہوچکی تھی مگر ہم اپنی جماعت کرنی تھی، واش روم اور وضو خانہ قابل دید بھی تھا اور قابل داد بھی!
قابل دید اس لئے کہ بہت ہی خوبصورت انداز میں بنا ہوا اور ہر ضرورت کا ہینگر اور جوتے کا اسٹین لگا ہوا تھا، ساتھ میں خدام نظافت مستقل چاق و چوبند مستعد اور قابل داد اس لئے کہ واقعی صفائی اور نظافت کا اعلی معیار تھا، کسی کو بھی ان طہارت خانوں اور وضو خانوں کو دیکھتے ہوئے گھن نہیں آتی تھی، یہ سارا انتظام حکومت کی طرف تھا، ساتھ میں ہر فرد کو وضو کے بعد بڑا ٹشو پیپر دیا جاتا جس سے وہ ہاتھ منہ پونچھ لے۔

جامع مسجد کے اندر
مسجد اندر سے انتہائی شاندار اور نفیس تعمیر کا شاہکار ہے، مسجد کے دو بڑے مینار ہیں جن کی لمبائی 53 میٹر ہے، مسجد کی دیوار چھوٹی چھوٹی لال اینٹ سے بنی ہوئی بڑی خوشنما معلوم ہوئی، صحن میں عمدہ لکڑی کا کام ماہرین کی کارگردگی کا اعلی نمونہ ہے جو کہ فن تعمیر کے لئے مثال ہے، کشادہ صحن، وسیع اندرونی ہال، صفائی کا اعلی منظر، قالین بچھے ہوئے، شیلف، مصاحف قرآنی نسخوں سے مزین ہیں، بیک وقت سادگی اور حسن کا شاہکار دیکھ کر دل میں مسرت کی لہریں ڈور گئیں، ازبکستان کے اس ماحول میں نمازیوں کی تعداد دیکھ کر بھی خوشی ہوئی، ہم نے اپنی نماز ظہر استاذ محترم حضرت مولانا مفتی عبد الحمید ربانی زید مجدہم کی امامت میں ادا کی، نماز کے بعد باہر نکل کر اس جانب بڑھنے لگے جس کا ہمیں سالوں سے تھا انتظار! جی ہاں! آپ بھی آگے ساتھ چلیں!

مصحف عثمانی کی زیارت
مسجد سے متصل باہر کچھ فاصلہ پر کئی گنبد والی عمارتیں ہیں، مسجد کے قبلہ کی جانب مصحف عثمانی کی زیارت ہے، ہمارے قدم وہاں کی طرف اٹھنے لگے، دل میں فرط مسرت سے موجیں موجزن، جذبات و احساسات کی ملی جلی کیفیات، شہادت خلیفہ مظلوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا واقعہ ماضی کے دریچوں سے نکل کر سامنے آگیا، قدم اٹھ رہے تھے مگر ادب سے، جذبات تھے مگر محبت کے، احساسات تھے مگر شوق کے، جب ہم اس عمارت میں جوتے اتار کر داخل ہوئے تو سامنے بڑے سے شیشے کے بکس میں وہ مصحف قرآنی تھا جس کی تلاوت کرتے ہوئے سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے، وہی صفحہ کھلا ہوا تھا جس پر ان کے خون گر کر ہمیشہ کی تاریخ بن گیا۔
یہ چمڑے پر لکھا گیا مصحف ہے جس کو آپ رضی اللہ عنہ نے تیار کروایا تھا، یہ نسخہ پہلے کسی اور جگہ تھا مگر جب امیر تیمور نے مختلف ممالک کو فتح کیا تو اس نسخہ کو سمرقند لے آیا، روسی انقلاب کے دوران یہ نسخہ لینن گراڈ کے عجائب گھر بھیج دیا گیا تاہم جب ازبکستان ١٩٩١ء میں آزاد ہوا تو اس کو واپس تاشقند لے آئے اور اب اس کی مکمل نگہداشت کی جاتی ہے، یہاں تصویر سازی قطعا ممنوع ہے۔

اطراف کے حجرے
اس بڑے ہال کے ساتھ اطراف میں چند حجرے بنے ہوئے ہیں، ان حجروں میں مختلف مصاحف قرآنیہ اور تراجم موجود ہیں، ساتھ میں کچھ یہ مخطوطات بھی نگاہ کے سامنے آئے۔
تفسیر بحر المواج، تحقیق الاستیوراد، شرح المطالع، مشکوة المصابیح، روضة الشہادة، ربصة الصافی(فارسی)، مولوی عبد الحکیم ترمذی کا ایک مخطوطہ، شرح شمسیاہ، شرح مطول، تاریخ عجم اور روضة الاحباب۔

ان مخطوطات پر کچھ اشارات دی ہے کر اندازہ ہوا کہ آج کی جدید طباعت میں بھی ان اشارات کو اہمیت دی گئی ہے بلکہ جدید کتب میں اسی قدیم مخطوطے کا اثر ہے مثلا اگلے صفحہ کا پہلا لفظ پچھلے صفحے کے آخر میں!

دل میں اپنے ان اکابر کی محنت کا ایسا نقش بیٹھا کہ اگر یہ حضرات اتنی محنت نہ کرتے تو ہم تک یہ علوم کیسے پہنچتے، جدید دنیا کے روشن خیالوں کے لئے یہاں بڑا درس ہے کہ قرآن اور اس کے علوم کی حفاظت انہی بابرکت ہستیوں کی مرہون منت ہے۔