آج : 2 August , 2019

حج کی فضیلت و اہمیت

حج کی فضیلت و اہمیت

حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: «وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ» (آل عمران:97) اُن لوگوں پر اللہ کے لیے خانہ کعبہ کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں جانے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ اور جو نہ مانے (اور باوجود قدرت کے حج کو نہ جائے) تو اللہ سارے جہاں سے بے نیاز ہے۔

فرض حج میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فریضہ حج ادا کرنے میں جلدی کرو کیوں کہ کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کیا عذر پیش آجائے۔“ (مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کسی ضروری حاجت یا ظالم بادشاہ یا شدید مرض نے حج سے نہیں روکا اور اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا تو وہ چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے۔ (یعنی یہ شخص یہود و نصاری کے مشابہ ہے)“ (الدارمی)

حج مبرور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان (گناہوں) کا کفارہ ہے، جو ان دونوں کے درمیان ہوئے ہوں، اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔“ (بخاری: 1773)
حج مبرور وہ حج ہے جس کے دوران گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو۔ جو حج اللہ کے یہاں مقبول ہو۔ حس میں ریا اور شہرت مقصود نہ ہو۔ جس سے لوٹنے کے بعد گناہ نہ ہو اور نیکی کا رجحان بڑھ جائے۔ وہ حج جس کے بعد آدمی دنیا سے بے رغبت ہوجائے اور آخرت کے سلسلہ میں دلچسپی دکھائے۔

غربت اور گناہوں کو مٹانے والا عمل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا کرو کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو مٹانے ہیں جیسا کہ بھٹی لوہا، سونا اور چاندی سے زنگ ختم کردیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔“ (ترمذی: 810)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور (اس دوران) فحش کلامی یا جماع اور گناہ نہیں کیا تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اپنے گھر اس طرح) لوٹا جیسا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جناہو۔“ (بخاری: 1521)

بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑی عمر والے شخص، کمزور شخص اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔“ (السنن الکبری للنسائی: 3592)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میں نے کہا اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزوہ میں شریک نہ ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر اور اچھا جہاد حج مبرور ہے۔“ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ”جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے اس کے بعد میں حج نہیں چھوڑتی۔“ (بخاری: 1861)

حج پر خرچ کرنے کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حج پر خرچ کرنا اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی طرح ہے، (جس کا ثواب) سات سو گنا تک ہے۔“ (مسند احمد: 23000)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے عمرے کا ثواب تیری خرچ کے بقدر ہے یعنی جتنا زیادہ اس پر خرچ کیا جائے گا اتنہا ہی ثواب ہوگا۔ (الحاکم)

حج کرنے پر نیکیوں کی تعداد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”جو حاجی سوار ہو کر حج کرتا ہے اس کی سواری کے ہر قدم پر ستر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو حج پیدل کرتا ہے اس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں سے لکھی جاتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ حرم کی نیکیاں کتنی ہوتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔“ (بزاز، کبیر، اوسط)

حج کی نیکی کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حج کی نیکی کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج کی نیکی لوگوں کو کھانا کھلانا اور نرم گفتگو کرنا ہے۔“ (رواہ احمد و الطبرانی فی الاوسط و ابن خزیمۃ فی صحیحہ)۔ مسند احمد اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کی نیکی، کھانا کھلانا اور لوگوں کو کثرت سے سلام کرنا ہے۔

حج کا ترانہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب حاجی لبیک کہتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دائیں اور بائیں جانب جو پتھر، درخت اور ڈھیلے و غیرہ ہوتے ہیں وہ بھی لبیک کہتے ہیں اور اسی طرح زمین کی انتہا تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے (یعنی ہر چیز ساتھ میں لبیک کہتی ہے)۔“ (ترمذی، ابن ماجہ)

بیت اللہ پر رحمتوں کا نزول
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ جل شانہ کی ایک سو بیس (120) رحمتیں روزانہ اس گھر (خانہ کعبہ) پر نازل ہوتی ہیں جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر، چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور بیس خانہ کعبہ کو دیکھنے والوں کو حاصل ہوتی ہیں۔“ (طبرانی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”جس نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور دو رکعات ادا کیں گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔“ (ابن ماجہ)

حجر اسود، مقام ابراہیم اور رکن یمانی
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حجر اسود اور مقام ابراہیم قیمتی پتھروں میں سے دو پتھر ہیں، اللہ تعالی نے دونوں پتھروں کی روشنی ختم کردی ہے، اگر اللہ تعالی ایسا نہ کرتا تو یہ دونوں پتھر مشرق اور مغرب کے درمیان ہر چیز کو روشن کردیتے۔“ (ابن خزیمہ)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حجر اسود جنت سے اترا ہوا پتھر ہے جو کہ دودھ سے زیادہ سفید تھا لیکن لوگوں کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا ہے۔“ (ترمذی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حجر اسود کو اللہ جل شانہ قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھائیں گے کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہوگی جن سے وہ بولے گا اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے اس کا حق کے ساتھ بوسہ لیا ہو۔“ (ترمذی، ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں پتھروں (حجر اسود اور رکن یمانی) کو چھونا گناہوں کو مٹاتا ہے۔“ (ترمذی)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رکن یمانی پر ستر فرشتے مقرر ہیں جو شخص وہاں جا کر یہ دعا پڑھے ”اللھم انی اسئلک العفو و العافیۃ فی الدنیا و الاخرۃ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار“ تو وہ سب فرشتے آمین کہتے ہیں۔“ (ابن ماجہ)

حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کعبہ شریف میں داخل ہو کر نماز پڑھنا چاہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر حطیم میں لے گئے اور فرمایا: ”جب تم بیت اللہ (کعبہ) کے اندر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں (حطیم میں) کھڑے ہو کر نماز پڑھ لو۔ یہ بھی بیت اللہ شریف کا حصہ ہے۔ تیری قوم نے بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر کے وقت (حلال کمائی میسر نہ ہونے کی وجہ سے) اسے (چھت کے بغیر) تھوڑا سا تعمیر کرادیا تھا۔“ (نسائی)

آب زمزم کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہی فائدہ اس سے حاصل ہوتا ہے۔“ (ابن ماجہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روئے زمین پر سب سے بہتر پانی زمزم ہے جو بھوکے کے لیے کھانا اور بیمار کے لیے شفا ہے۔“ (طبرانی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زمزم کا پانی (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ) لے جایا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لے جایا کرتے تھے۔ (ترمذی)

یوم عرفہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عرفہ کے دن کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالی کثرت سے بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں، اس دن اللہ تعالی (اپنے بندوں کے) بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے اُن (حاجیوں) کی وجہ سے فخر کرتے ہیں اور فرشتوں سے پوچھتے ہیں (ذرا بتاؤ تو) یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔“ (مسلم)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”غزوہئ بدر کا دن تو مستثنی ہے اس کو چھوڑ کر کوئی دن عرفہ کے دن کے علاوہ ایسا نہیں جس میں شیطان بہت ذلیل ہوتا ہو، بہت راندہ پھرتا ہو، بہت حقیر ہوتا ہو، بہت زیادہ غصہ میں ہو، یہ سب کچھ اس وجہ سے کہ وہ عرفہ کے دن اللہ تعالی کی رحمتوں کا کثرت سے نازل ہونا اور بندوں کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف ہونا دیکھتا ہے۔“ (مشکوۃ)

حج و عمرہ کے سفر میں انتقال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حج کو جائے اور راستہ میں انتقال کر جائے، اس کے لیے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جائے گا اور جو شخص عمرہ کے لیے جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے تو اس کو قیامت تک عمرہ کا ثواب ملتا رہے گا۔“ (ابن ماجہ)

حاجیوں کی دعائیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالی سے دعائیں کریں تو وہ قبول فرمائے، اگر وہ اس سے مغفرت طلب کریں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے۔“ (ابن ماجہ)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اس کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے اپنی مغفرت کی دعا کے لیے کہو کیوں کہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت ہوچکی ہے۔“(مسند احمد)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں