- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

علوم اسلامیہ کے سوتے ایمانیات سے ملتے ہیں بلکہ اصل سرچشمہ وہی ہیں

مہارت اور اختصاص ضروری ہے
حضرات! میں آپ کی اس عزت افزائی کا شکرگذار ہوں کہ آپ نے مجھے اس علمی مجلس کے افتتاح کے موقع پر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا، اب اس کے آخری نشست کے اختتام پر بھی مجھے تقریر کا موقع دیا ہے، آغاز و انجام میں خاص مناسبت ہے، میں آپ کے اس اعتماد و اعزاز کے لئے دل سے شکرگذار ہوں، مجھے بڑی مسرت ہے کہ علوم اسلامیہ اور دینی موضوعات سے کچھ عرصہ سے عصری دانش گاہوں کے فضلاء بھی دلچسپی لینے لگے ہیں، اور یہ سمینیار اس کی دلیل ہے، اب علوم اسلامیہ کے ایک خادم اور میدان تحقیق کے پرانے مسافر کو اقبال کے الفاظ کے میں یہ کہنے کا حق ہے کہ:
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
بہاں اب میرے راز داں اور بھی ہیں
دماغی صلاحیتوں کا خزانہ کسی ایک طبقہ میں مرکوز نہیں ہے، نہ کبھی مرکوز رہا ہے ، اور نہ کبھی مرکوز ہوسکتا ہے، اور ایسا ہونا کچھ اچھا بھی نہیں، اس طبقہ کے لئے خواہ یہ بات کتنی ہی نازش و افتخار کی ہو، لیکن انسانیت کے حق میں یہ کوئی بہتر بات نہیں ہے کہ انسانی ذہانتوں کا خزانہ اور محنتوں کا ذخیرہ کسی ایک طبقہ میں مرکوز ہو کر رہ جائے، جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، آپ جانتے ہیں کہ اسلام میں علمائے دین کا کوئی مخصوص موروثی طبقہ نہیں ہے، کلرجی ( CLERGY) اور پریسٹ ہڈ (PRIESTHOOD) کا تخیل مسیحی دنیا میں ملتا ہے، اس کا دنیائے اسلام میں کہیں وجود نہیں، اگر ہمارے بعض اہل قلم مصنفین کی تحریروں میں کچھ ایسی تعبیرات اور الفاظ آتے ہیں تو بے سوچے سمجھے یا مغرب کی تقلید میں، مثلاً اس وقت عرب مصنفین کے یہاں ’’رجال الدین‘‘ کا ایک لفظ استعمال ہوتا ہے، جو تقریباً اسی معنی میں ہے جو مسیحی دنیا میں پرسٹ ہوڈ کے لئے استعمال ہوتا تھا، اس لئے محتاط مصنفین جو اسلام کی صحیح روح اور صحیح فکر کی ترجمانی کرنا چاہتے ہیں، ان لفظوں سے ہمیشہ احتراز کیا ہے، لیکن علوم اسلامیہ کی طرف عصری دانش گاہوں کے فضلاء کی توجہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بھی میں یہ اضافہ کروں گا کہ کلرجی اور پریسٹ ہڈ اسلام میں نہیں ہے لیکن ایکسپرٹ (EXPERT)اسپیشلسٹ (SPECIALIST) ماہرین فن اور اصحاب اختصاص کا وجود ہمیشہ رہا ہے اور یہ ایک علمی حقیقت ہے، اس لئے کہ علوم اتنے پھیل گئے ہیں، اور ان میں اتنا تنوع اور وسعت پیدا ہوگئی ہے کہ ایک آدمی کے لئے ہمہ داں ہونا عملاً ناممکن ہے، یورپ میں بھی ترقی اس وقت سے شروع ہوئی جب وہاں تقسیم کار کے اصول پر عمل کیا گیا، اور علوم کے مختلف شعبے تقسیم ہوگئے، اور اس کی کوشش مغربی فضلاء نے چھوڑ دی کہ وہ تمام علوم میں اتھارٹی اور سند کا درجہ حاصل کریں، جہاں تک مجھے علم ہے یورپ میں اب بھی اس اصول کا احترام مشرق سے زیادہ کیا جاتا ہے، وہاں کسی علم کے فاضل بھی بعض اوقات اس علم کے بعید متعلقات کے متعلق بغیر کسی شرم و ندامت کے محسوس کئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارا موضوع نہیں، اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہمیں اس کو اصول کے تحت تسلیم کرلینا چاہئے کہ ہماری آئندہ دلچسپیاں اور ہماری علمی اور تصنیفی سرگرمیاں کسی خاص موضوع یا فن کے ساتھ مخصوص ہوں گی۔

معیار کی طرف توجہ کی ضرورت ہے
مجھے خوشی اور فخر ہے کہ میں آپ کا ہم سفر ہوں ہم سفری کے اس حق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کے سامنے چند باتیں عرض کردینا چاہتا ہوں، آپ اس کو کسی تعریض پر محمول نہ فرمائیں، پہلی بات جسے میں محسوس کررہا ہوں، اور آپ میں سے بہت سے لوگ محسوس کررہے ہوں گے، بہت سے سینئر اسکالرز یہاں موجود ہیں جن کے ۳۰۔۴۰ برس اس صحرانوردی میں گذرے ہوں گے کہ علم و تحقیق کا معیار روزبروز گھٹتا جارہا ہے، مجھے یورپ کے سفروں میں بھی اس کا احساس ہوا اور میں نے بعض فضلاء سے بھی سنا وہاں بھی اورینٹل ازم کا جہاں تک تعلق ہے، یعنی مشرقی مباحث پر لکھنے کا، اسکا معیار فروتر ہوگیا ہے، اور وہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ جتنی محنت اور جیسا عشق اور لگن گذشتہ نسل کے فضلاء میں تھی، اس میں کمی ہے، اس کے پیچھے بہت سے عوامل اور (FACTORS) کام کرتے ہیں کچھ سیاسی ہیں کچھ معاشی ہیں۔

استشراق کی ترقی کا راز
ہر علم کے پیچھے بعض بہت طاقتور محرکات ہوتے ہیں، ان عوامل و محرکات نے اورینٹل ازم کو ایک زمانہ میں چوٹی پر پہونچا دیا تھا، فزکس اور ٹکنالوجی یا اکنامکس کے چند دائروں کو چھوڑ کر جہاں تک عملی اور نظری مباحث کا تعلق ہے، اورینٹل ازم کو جو یورپ میں اعزاز حاصل تھا، مستشرقین اور ان کی کتابوں کی جس طرح قدر ہوتی تھی، وہ کم علوم کو حاصل تھی، یہاں تک کہ ادبیات اور لسانیات کے علوم کو بھی شاید وہ درجہ نہیں دیا جاتا تھا، اس کے پیچھے ایک بہت بڑا عامل یا (FACTIOR) کام کررہا تھا، ہم کو خوشی ہونی چاہئے کہ اب وہ باقی نہیں رہا، وہ تھا استعمار، مشرق کے سب سے زیادہ سرسبز و شاداب ممالک بدقسمتی یا خوش قسمتی سے مسلمانوں کے زیراثر تھے، ان پر مغرب کی للچائی ہوئی نگاہیں پڑ رہی تھیں۔
استعمار نئی نئی نوآبادیاں (COLONIES)قائم کرنا چاہتا تھا، اس لئے وہاں کے قومی مزاج اور خصوصیات اور ان کی خوبیوں سے زیادہ کمزوریوں سے واقف ہونے کی ضرورت تھی، اس کے لئے مستشرقین ایک ہر اول دستہ (PIONEER) کا کام کرتے تھے، ان کے پیچھے حکومتوں کی سرپرستی تھی، بڑے بڑے فنڈ اور بڑے بڑے ادارے تھے، اور ان کا اکرام بادشاہ اور صدر جمہوریہ کے دربار میں بھی ہوتا تھا، یہ (FACTOR) عرصہ ہوا کمزور پڑگیا ہے۔
دوسرا معاشی عامل (FACTOR) تھا، اس پر بھی کچھ اثر پڑا ہے، معاشی ڈھانچہ میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں ہیں کہ اب وہ انعام ملنا مشکل ہے جو پہلے ملتا تھا۔

علم کا عشق
تیسری چیز جو زیادہ توجہ کے قابل ہے، اور اس کو میں اصل سمجھتا ہوں وہ ہے، علم کا عشق جو ہماری پہلی نسل میں تھا، ایک لگن اور خود فراموشی کی کیفیت جو اس عہد میں تصنیفی اور تحقیقی کام کرنے والوں پر طاری رہتی تھی۔
یہ بات کسی خاص دانش گاہ یا جامعہ کو سامنے رکھ نہیں کہہ رہا ہوں، یہ میرا عام مطالعہ ہے، تقریبا سب جگہ یہ محسوس کیا جارہا ہے (اور یہ بدقسمتی کی بات ہے) کہ علم سے عشق جو ہمارے اسلاف میں پایا جاتا تھا، اسلاف سے مراد مسلمانوں ہی کے اسلاف نہیں بلکہ گذشتہ نسل میں پایا جاتا تھا، وہ اب بہت کم نظر آتا ہے۔
نواب صدریار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی کی کتاب ’’علمائے سلف‘‘ جو انہوں نے اسی علی گڑھ میں لکھی ہے اس کو پڑھنے سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ علم کا عشق اس وقت کے مصنفین اور محققین کے دلوں میں کیسا موجزن تھا، اور آج اس میں کس قدر نمایاں انحطاط ہوا ہے، یہ انحطاط کیوں ہوا؟ اس کا تعلق سیاسیات، معاشیات، ادبیات اور اخلاقیات سب سے ہے، اس کے پورے اسباب کا تجزیہ کرنا اس وقت نہ ضروری ہے، اور نہ اس کی گنجائش ہے، لیکن اتنی بات آپ تسلیم کریں گے اور ہمارے معزز شرکاء کار اور ہم سفر ضرور اس کو تسلیم کریں گے کہ علم سے عشق، شمع علم پر پروانگی کی کیفیت علم و تحقیق کا ایسا جنون کہ کھانے پینے، کپڑے کا ہوش نہ ہرے، آج مفقود بلکہ معدوم نظر آتا ہے، علماء سلف کے واقعات کو چھوڑ دیجئے اس علی گڑھ میں جو علماء پیدا ہوئے ، مولانا لطف اللہ علی گڑھی ان کے اس عشق کو دیکھئے اور اس کو بھی آپ چھوڑ دیجئے، اس وقت کے مغربی مصنفین کے یہاں ’’لین‘‘ (LANE) جس کا عربی لغت انگریزی دانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ عربی ادب کے ان فضلاء کے لئے بھی قابل استفادہ ہے، جو تفصیلات میں جانا چاہتے ہیں، اور وہ مواد یکجا دیکھنا چاہتے ہیں، جو بعض اوقات بہت سے عربی لغتوں میں بھی نہیں ملتا، میں نے سنا ہے کہ قاہرہ میں جب وہ اس لغت کا کچھ حصہ تیار کررہا تھا تو مہینوں گذر گئے وہ کہیں نہیں گیا اس کو پتہ نہیں تھا کہ بازار کہاں ہے، بازاروں میں جانے اور اہرام مصر جیسے عجائبات عالم کو دیکھنے کی فرصت نہ تھی، اس کو آپ بد مذاقی یا مردہ دلی پر محمول کرسکتے ہیں، لیکن یہ واقعہ ہے، بہت سی لازوال اور لافانی تصانیف کی تاریخ اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کے مصنفین پر خود فراموشی کا عالم طاری تھا، یہ وہ چیز تھی جس نے مغرب و مشرق کے مصنفین کے قلم سے وہ زندہ جاوید تصانیف اور ایسی تحقیقات نکلوائیں (جن سے اختلاف کے باوجود) ان کی علمی قدر و قیمت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔

ماضی قریب کی علمی شخصیتیں
میرا روئے سخن خالص اپنے ان دوستوں سے ہے، جو لکھنے پڑھنے کا کام کرتے ہیں، مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ مولانا شبلی نے کتب خانہ اسکندریہ پر قلم اٹھانے کی ضرورت محسوس کی، ایک زمانہ تھا، جب ہندوستان میں مشترک دانش گاہوں میں پڑھنے والے مسلمان طلباء کو چڑھانے کے لئے صرف یہ کہنا کافی تھا ’’اچھا آپ اس نسل اس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، جس کے خلیفہ نے اسکندریہ کا کتب خانہ جلوادیا تھا‘‘ ابھی وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے وہ زمانہ پایا ہے، وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ منہ چھپاتے تھے، بلکہ منہ چراتے تھے، اور آنکھیں نہیں ملاسکتے تھے کہ اس کا کیا جواب دیں، ایک چلی ہوئی کہانی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا کہ یہاں ایک کتب خانہ ہے، جو ظہور اسلام سے پہلے کا ہے، اس میں فلاسفہ کی اور منطقیوں کی کتابیں ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ قرآن کے مطابق ہیں تو اس کی ضرورت نہیں اگر خلاف ہیں تو اس کو آگ لگادینی چاہئے چنانچہ لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ قرآن کے خلاف ہیں، اور بغیر پڑھے کتب خانے کو آگ لگادی، یہ ایک کہانی تھی، جس کو ٹائن بی (TOYNBEE) جیسا مورخ تک دہراتا ہے، ٹائن بی نے جب رسم الخط کی تبدیلی اور کمال اتاترک کی اصلاح پر تبصرہ کیا تو اس نے کہا اب کتب خانہ اسکندریہ کو جلانے کی ضرورت نہیں، صرف رسم الخط بدل دینا کافی ہے، علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے اس پر قلم اٹھایا اور اس افسانہ کو آخری طور پر ختم کردیا اب کسی پڑھے لکھے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ یہ کہے کہ کتب خانۂ اسکندریہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے حکم سے جلادیا گیا، انہوں نے قدیم مؤرخین کی شہادتوں سے ثابت کر دیکھا کہ کتب خانہ اسکندریہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے پہلے ہی جل چکا تھا، اس کا کہیں وجود ہی باقی نہیں تھا، مثلاً انہوں نے جزیہ کے مسئلہ پر قلم اٹھایا تو اس بحث ہی کو ختم کردیا، یا انہوں نے ’’شعر العجم‘‘ لکھی تو اہل ذوق اور فارسی دانوں سے اپنا لوہا منوالیا، پروفیسر براؤن (PROF. BROWN) جن کی کتاب ’’لٹریری ہسٹری آف پرشیا‘‘ اپنے موضوع پر (GOSPEL) کا درجہ رکھتی ہے، اور دنیا کی اکثر یونیورسٹیوں کے کورس میں داخل تھی) نے کہا کہ مجھے اب اردو سیکھنے کی تمنا پیدا ہوتی ہے تو اس لئے کہ میں براہ راست ’’شعر العجم‘‘ کا مطالعہ کرسکوں، یہ سب اس علمی شغف اور علمی استغراق کا نتیجہ تھا جو ان لوگوں پر طاری تھا۔
مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ جن کا اصل موضوع قرآن مجید، سیرت نبوی اور تاریخ اسلام تھا انہوں نے ’’عمر خیام‘‘ پر ایک ایسی کتاب لکھی جس کی داد فضلائے ایران نے بھی دی، اسی طرح ان کی کتاب ’’عرب و ہند کے تعلقات‘‘ محنت و کاوش اور ریسرچ کا اعلی نمونہ ہے۔
میں اس موقع پر ’’نزہۃ الخواطر‘‘ کا بھی ذکر کروں گا، جو میرے والد ماجد مولانا حکیم سید عبدالحیؒ (سابق ناظم ندوۃ العلماء) کی تصنیف ہے، اور عربی میں آٹھ ضخیم جلدوں میں مکمل ہوئی، اس میں ہندوستان کے ساڑھے چار ہزار مشاہیر اور اہل کمال کے تذکرے ہیں، انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں اس کام کا بیڑہ اٹھایا، جب عربی مطابع کا رواج اور اشاعت کی سہولتیں نہیں تھیں، تقریبا ۲۵ سال وہ اس کام میں مشغول رہے، اس وقت یورپ میں بھی یہ کتاب ہندوستانی علماء و فضلاء کے حالات معلوم کرنے کا سب سے بڑا ماخذ ہے، اسی طرح ان کی دوسری کتاب ’’الثقافۃ الاسلامیۃ فی الھند‘‘ جو ہندوستان میں علوم اسلامیہ اور نصاب درس کی تاریخ اور ہندوستانی علماء کی تصانیف کی مکمل ڈائرکٹری ہے، اس کتاب کو دمشق کی رائل اکیڈمی ’’المجمع العلمی العربی‘‘ نے ۱۹۵۷ء میں شائع کیا، میں نے وہاں کی علمی مجلسوں میں بڑے بڑے فضلاء کو اس کی تعریف اور مصنف کی محنت کا اعتراف کرتے ہوئے پایا۔

علم محنت بھی ہے اور انعام بھی
ایک آدمی اس وقت وہ کام کرتا تھا جو ایک اکیڈمی اس وقت انجام نہیں دیتی، یہ سب ایک آدمی کی محنت کا نمود، ایک آدمی کی محنت کا کرشمہ اور ایک آدمی کے علم سے عشق کا نتیجہ ہے، آج اکیڈیمیاں، بڑے بڑے ادارے اور شعبے موجود ہیں، لیکن سالہا سال میں وہ کوئی ایسی پیش کش نہیں کر پاتے جس کو دیکھ کر اس علم کے ماہر یہ کہیں کہ ہاں یہ اوریجنل (ORIGINAL) چیز ہے، بعض کتابیں دیکھ کر غالب کا وہ مصرع پڑھنا پڑتا ہے
اب آبروئے شیوۂ اہلِ نظر گئی
محنت کے معیار کو بڑھانے کی ضرورت ہے، علم محنت بھی ہے، انعام بھی ہے، پیاس بھی ہے پانی بھی، بھوک بھی ہے، غذا بھی۔
جب تک اپنے فن سے اتنا تعلق نہ ہو کہ آدمی کو کتاب لکھنے پر اتنی خوشی ہو کہ وہ کہے اب مجھے اس ڈیپارٹمنٹ کا چیرمین بنایا جائے یا نہ بنایا جائے، میں نے اپنا کام کردیا، میری محنت وصول ہوگئی۔
آج کے فضلاء اپنی کتاب اور تحقیق کو مکمل نہیں کرچکتے کہ وہ اس کے انعام کے متوقع ہوجاتے ہیں، سب کی نگاہیں عہدے اور منصب کی ترقی، شہرت و ناموری اور تنخواہوں کی بیشی پر لگی ہوئی ہیں، اور ان کی ذہانت و توجہ کا بڑا حصہ اسی مقصد پر صرف ہوتا ہے، آپ بہت سے ISMS سے واقف ہیں، ایک نئے ISMکا اضافہ کرلیجئے جو ہماری دانش گاہوں اور تعلیمی مرکزوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، اور وہ ہے ’کیریرازم‘ (CAREERISM) یعنی CAREER کو بہتر بنانا اور تقریب اور علم کے ذریعے جاہ طلبی۔

دلچسپی اور شغف عارضی نہ ہو
دوسری چیز یہ کہ یہ دلچسپی اور شغف عارضی نہ ہو مثلا کسی سیمینار کے لئے ہم کسی موضوع کو اپنے اوپر تھوڑی دیر کے لئے طاری کرلیں پھر اس کے بعد جیسے جگالی کی جاتی ہے، پڑھ کر ہم اس کو اگل دیں اور نہ ہمیں اس موضوع سے محبت ہو اور نہ وفاداری ہو نہ فکر ہو کہ اس سلسلے میں کیا ہوا، نہ اس میں اضافہ کرنے کا شوق ہو، اس موقع پر اقبال سے مدد لیتا ہوں انہوں نے اس حقیقت کو خوب بیان کیا ہے:
مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا
علم اور تحقیق بھی ایک ہنر ہے، اور ہنر کو زندگی بھر کا ساتھ دینا چاہئے۔ اس میں مقصدیت پیدا ہونی چاہئے وہ مثل شرر نہیں کہ بھڑکا اور بجھ گیا۔

علوم اسلامیہ کے سوتے ایمانیات سے ملتے ہیں
جہاں تک علوم اسلامیہ کا تعلق ہے آپ بیشک اجتہاد کی ضرورت پر مقالے پڑھیں ہم سب اس کو تسلیم کرتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اس کا دروازہ بند ہوجانے کے اسباب کیا تھے، اور کہاں تک جائز تھے؟ لیکن میں ایک بات کہوں گا جہاں تک علوم اسلامیہ کا تعلق ہے، اس کے کچھ سوتے ایمانیات سے ملتے ہیں، بلکہ ان کا اصل سرچشمہ وہی ہے۔ اس لئے ہمارا طرز عمل ان کے بارے میں وہ نہ ہونا چاہئے جو ایک غیرمسلم مستشق (ORIENTALIST) کا ہوتا ہے ہم صرف بحث کریں اور ہمیں نہ اس سے کوئی دلچسپی ہو، نہ اس سے اتفاق ہو، ایک حد تک اتفاق بھی ہونا چاہئے اور اگر وہ ایمانیات سے تعلق رکھتا ہے تو اس پر ایمان بھی ہونا چاہئے اور کسی حد تک ہماری عملی زندگی میں اس کی نمود بھی ہونی چاہیے، میں اپنے بچپن میں ایک حکیمانہ مقولہ سنا کرتا تھا کہ ’’یک من علم را دہ من عقل باید‘‘ ایک من علم ہو تو دس من عقل ہونی چاہئے ورنہ آدمی اس کا صحیح استعمال نہ کرسکے گا، تو میں ترمیم کروں گا کہ تحقیق کی کسی بڑی سے بڑی مقدار کے ساتھ کسی تناب سے تقویٰ بھی ہونا چاہئے، اس لئے کہ یہ مسئلہ علوم اسلامیہ کا ہے جس کا تعلق ایمانیات سے ہے، اگر ہم اس پر اس طرح عمل جراحی کرتے ہیں، جیسا کسی مردہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے، تو یہ مناسب نہیں، تنقید میں کسی قسم کی توہین یا تضحیک کی شان نہیں ہونی چاہئے کہ طنزیات و تضحیک کو خالص علمی مزاج سے کوئی مناسبت نہیں، آپ کا اپروچ (APPROACH) خالص علمی (SCIENTIFIC) خالص اکیڈمیک ہو۔
جو لوگ علم کی ذمہ داریوں اور تحقیقات و نظریات کی تغیرپذیری سے واقف ہیں، وہ اپنے کسی علمی نظریے یا تحقیق کے پیش کرنے میں جزم و وثوق اور قطعیت کے الفاظ استعمال کرنے سے احتراز کرتے ہیں، وہ اپنے کسی نئے خیال کو اس طرح نہیں پیش کرتے کہ وہ گویا اس موضوع پر حرف آخر اور تمام پچھیلی تحقیقات پر خط نسخ پھردینے والا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے اس وقت کے مطالعہ اور تحقیق نے اس نتیجہ تک پہونچایا ہے، ممکن ہے کہ آئندہ اس میں تبدیلی کرنی پڑے یا کوئی نئی بات ثابت ہو، یا مجھے اندیشہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہو، مجھے بدرالدین طیب جی کا یہ جملہ پسند آیا جو انہوں نے کل ایک نشست کی صدارت کرتے ہوئے ایک مقالہ نگار سے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کا وقت ختم ہوگیا ہو، (I AM AFRAID YOUR TIME IS OVER وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ حضرت آپ کا وقت ختم ہوگیا ہے، لیکن انہوں نے اس کو بڑے لطیف انداز سے ادا کیا، ہم اس سے سبق لے سکتے ہیں، قلم پکڑیں تو آپ کو اول سے آخر تک علم کا احترام اور اس شخص کا احترام بھی ملحوظ رکھنا چاہئے جس نے اپنا وقت صرف کیا، جس نے اپنی آنکھیں خراب کیں، جس نے اتنا مواد فراہم کیا۔

عربی زبان کی اہمیت
عربی زبان کی اہمیت بنیادی چیز ہے، اگر آپ کو علوم اسلامیہ پر کوئی کام کرنا ہے تو یہ بڑے ڈس کلیفکشن (DISQUALIFICATION) کی بات ہوگی آپ عربی سے ناآشنا ہوں، قرآن، حدیث اور اسلامیات پر لکھنے والے بہت سے مشرقی اور مغربی فضلاء سے عربی نہ جاننے کی وجہ سے نادانستہ ایسی غلطی ہوجاتی ہے، جو بعض اوقات ان کے پوری علمی کارنامے پر پانی پھیردیتی ہے۔
مجھے ایک دوست نے بتایا کہ دہلی میں کوئی سیمنار ہو رہا تھا، اس میں ایک صاحب جنہوں نے انگریزی میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا تھا، تقریر کررہے تھے تو مشہور عرب ادیبہ اور مؤرخہ ’’عائشہ بنت الشاطء‘‘ نے جو اس سیمنار میں شریک تھیں، ان سے عربی میں خطاب کیا تو انہوں نے بے تکلفی سے کہا کہ میں عربی نہیں سمجھتا تو عائشہ نے کہا کہ قرآن مجید کا ترجمہ پھر آپ کیسے کرتے ہیں؟ اس کے بعد وطن جاکر انہوں مصر کے کثیرالاشاعت اخبر ’’الاہرام‘‘ میں اس پر کئی قسطوں میں مضمون لکھا کہ ’’میں نے عجائبات عالم میں سے ایک عجیب چیزیہ دیکھی کہ ایک فاضل نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا اور وہ عربی سے ناواقف تھا‘‘۔
آپ حضرات آسانی کے ساتھ اس پر قابو پاسکتے ہیں، اور عربی زبان میں وہ دسترس حاصل کرسکتے ہیں، جس سے آپ غلطیوں سے بچ سکیں، اس سلسلے میں عربی مدارس آپ سے بھرپور تعاون کریں گے۔

انتشار انگیزی سے احتراز کیجئے
بعض فضلاء اپنے نظریات و تحقیقات کے اظہار میں بہت عجلت سے کام لیتے ہیں، ان کی اشاعت ہوجاتی ہے، پھر وہ کچھ عرصہ بعد خود ہی ان سے رجوع کرلیتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنا اخلاقی فرض انجام دیتے ہیں، لیکن جو لوگ اس عرصہ میں ان نظریات و تحقیقات کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، ان کی ذمہ داری کس پر ہے؟ یہ مسئلہ اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے، جب اس کا تعلق ایمانیات اور عقائد سے ہو، اس لئے ہمیں اپنی تحقیقات کی اشاعت و تبلیغ کے بارے میں (خاص طور پر جب ان کا تعلق عقائد اور دینیات سے ہو) عجلت اور بے صبری سے کام نہیں لینا چاہئے، ان پر بار بار غور کرنا چاہے، ان کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے، ماہرین فن کے سامنے پیش کرنا چاہئے، اور ان کے رائے اور مشورہ کا انتظار کرنا چاہئے، پھر اس کے بعد اس کی اشاعت کی اجازت دینی چاہئے، یہ دور انتشار ہے، اس وقت طبیعتیں انتشار انگیزی کے لئے ہر وقت آمادہ ہیں، انسان ہمیشہ سے سہولت پسند اور حیلہ جو واقع ہوا ہے، جدید تمدن نے، سائنسی ترقی کی رفتار نے اور معیار زندگی کی بلندی نے اس کو زیادہ سہولت پسند اور انتشار پسند بنادیا ہے، اس لئے ہم ایسی بات کہنے سے احتراز کریں، جس سے لوگوں میں انتشار پیدا ہو۔
۱۹۶۷ء میں جب عربوں کو اسرائیل کے مقابلہ میں شکست فاش ہوئی تو میں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس میں بہت بڑی ذمہ داری ان تشکیک پسند ادباء اور مصنفین پر ہے، جنہوں نے ہماری جدید عرب نسل کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تمام قدیم اقدار کو انہوں نے متزلزل کردیا۔
میں شکرگذار ہوں وائس چانسلر صاحب پرو وائس چانسلر صاحب پروفیسر حقی صاحب اور ان سب حضرات کا جو اس سیمنار سے تعلق رکھتے ہیں کہ انہوں نے مجھے عزت بخشی اور بڑے اعتماد کا اظہار کیا، میں پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ اس سیمنار میں کہا، مخلصانہ کہا۔
خدا کرے کہ میں بھی اس سے فائدہ اٹھاؤں اور آپ بھی اپنے جوہر اور کمالات میں اضافہ کریں۔