اسرائیلی فوج کی مدد سے سیکڑوں یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوگئے جہاں مسلمان نماز پڑھ رہے تھے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض اسرائیلی فوج کے سائے میں 30 سال میں پہلی مرتبہ یہودی آبادکار مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئے اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی کوشش کی، جس پر وہاں موجود مسلمان نمازیوں نے احتجاج کیا تو اسرائیلی فوج نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
مسلمان نمازیوں کا کہنا تھا کہ ایک معاہدے کے تحت اس حصے میں صرف مسلمان عبادت کرسکتے ہیں اور یہودی آبادکاروں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں اور نا ہی گزشتہ 30 برسوں میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے تاہم اسرائیلی فوج نے کوئی بھی بات سننے کے بجائے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں برسائیں اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
دوسری جانب یہودی آباد کاروں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کا مقصد 1967 میں ہونے والی 6 روزہ عرب اتحاد اور اسرائیل جنگ کی یاد تازہ کرنا تھا، اس جنگ میں اسرائیل نے کامیابی حاصل کی تھی۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید