- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

مولانا سید محمدواضحٌ؛ تاثرات و خاطرات

دارالعلوم کراچی کا طالب علم تھا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی تصنیفات و مقالات سے شدید دلچسپی، عشق و محبت اور والہانہ تعلق پیدا ہوگیاتھا۔ اسی لیے دارالعلوم ندوة العلما سے آنے والے رسالوں اور مجلات کے انتظار میں رہتا تھا؛ ”تعمیرِ حیات“، ”الرائد“ اور ”البعث“ ہمیشہ زیرِ مطالعہ رہتے تھے۔ حضرت والا مفکرِ اسلام کے مضامین بڑے شوق سے پڑھتا ہی تھا، اسی اثنا میں مولانا سیدمحمد واضحؒ کے قلم اور مضامین سے بھی تعارف ہوگیا۔ جب یہ معلوم ہوا کہ موصوف حضرت مولانا سید ابوالحسن ؒ کے برخوردار بھانجے اور تربیت یافتہ ہیں، مزید دلچسپی پیدا ہوگئی اور ربط و تعلق کی رسی مضبوط ہوتی چلی گئی۔ خاص طورپر حالاتِ حاضرہ کے بارے میں مولانا سید محمدواضحؒ کے ”صور و اوضاع“ کے عنوان سے بے لاگ تجزیے اور تبصرے غورطلب اور قابلِ دید تھے۔
مولانا محمد واضحؒ یوں بہت ہی بڑے فضائل و کمالات سے آراستہ تھے، لیکن میرے ناقص خیال میں ان کی ایک اہم صفت یا کمال یہ تھا کہ وہ مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن رحمة اللہ علیہ کے مشن کو اچھی طرح سمجھ گئے تھے؛ ان کی تحریرات اس بات کی گواہ ہیں۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن رحمة اللہ علیہ نے جن مفاہیم اور نکات پر اپنی مشہور کتابیں ”انسانی دنیا پر مسلمانوں کی عروج و زوال کا اثر“ اور ”مسلم ممالک، اسلام اور مغربیت کی کشمکش“ میں جن حقیقتوں کی طرف اشارہ فرماکر جن نکات پر زور دیا ہے، مولانا سید واضحؒ نے اپنی کتاب ”الی نظام عالمی جدید“ میں اسی نہج پر مسلم داعیوں اور دانشوروں کو غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ آپؒ نے حالات حاضرہ کو سمجھنے کی دعوت دے کر مسلمانوں کی صحیح رہنمائی فرمائی کہ یورپ اور ترقی یافتہ قوموں سے کس طرح سبق لینا چاہیے؟ مسلمانوں کی ابتری اور پسماندگی کے کیا عوامل اور اسباب ہیں؟
۱) یورپ کی ترقی اور خوشحالی کی کیا وجوہات ہیں، مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے، عزت از دست رفتہ کو کس طرح واپس کردیا جائے، مولانا سید محمد واضحؒ نے ان ہی حقائق کو سمجھانے کے لیے کامیاب کوشش فرمائی ہے۔
۲) مولاناؒ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ افرادسازی کو بہت اہم اور ضروری سمجھتے تھے؛ کس طرح موثر افراد تیار ہوں، کن صفات کے حامل ہوں، حالات اور چیلنجوں کے مقابلہ کرنے کے لیے کیسے لوگوں کی ضرورت ہے؟
انہوں نے اپنی تحریرات میں اسی پہلو پر زور دیا ہے۔
مولاناؒ یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ گئے تھے کے جب تک رجالِ کار تیار نہ کئے جائیں اور گذشتہ اور حال کے تجربوں سے فائدہ مند سبق حاصل نہ کیا جائے، اس وقت تک بڑی تبدیلی لانا مشکل ہے۔
بہتر مستقبل بنانے کیلئے ان بنیادی نکات پر توجہ کی اشد ضرورت ہے۔
1407 ہجری میں جب پہلی بار حضرت مولانا سید ابوالحسن ؒ کی زیارت کے لیے ہندوستان کا سفر ہوا، حضرتؒ کی مجلسِ پرنور میں مولانا سید محمدرابع دامت برکاتہم اور مولانا سید محمدواضح رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی۔ اس سفر میں دونوں حضرات کی خصوصی توجہات سے سرفراز ہوا۔
راقم نے حضرت مولانا سید ابوالحسن سے عرض کیا کہ ہماری تعلیم قدیم نہج پر ہوتی ہے، جدید عربی میں مہارت پیدا کرنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ اس کے لیے عربی رسائل اور مجلات کا مطالعہ بہت ضروری اور کارگر ہے۔ پھر فرمایا یہاں الرائد کے دفتر میں کافی رسالے آتے ہیں، انہیں ضرور دیکھ لیں۔ بندہ الرائد کے دفتر میں حاضر ہوا جہاں مولانا سیدمحمد واضح سے ملاقات ہوئی۔ بہت ہی محبت و عنایت سے نوازا اور عربی مجلات و رسائل کا تعارف کرایا۔ آپؒ نے لکھنے، مطالعہ کرنے اور ذوق پیدا کرنے کے سلسلے میں بہت اہم ہدایات اور نکتے بیان فرمائے۔ ان کا یہ عجیب نکتہ آج بھی یاد آرہاہے: صرف مطالعہ اور لکھنا کافی نہیں؛ جب تک عشق اور تڑپ نہ ہو، سامنے اہم مقصد نہ ہو، لکھنے میں روح اور جان پیدا نہیں ہوتی۔ پھر حضرت مولانا سید ابوالحسن رحمہمااللہ کے سوز و گداز اور تڑپ سے بھری تحاریر کی مثال پیش کی۔
اسی ملاقات میں مولانا سید محمد واضح ؒ نے مجھے تجویز دی کہ اپنے یہاں عربی کا ماحول بنائیں، طلبہ میں ذوق پیدا کریں، خود بھی لکھیں اور اپنے مضامین کو روزنامچوں میں چھپواکر دیواروں پر چسپاں کردیں۔ مجھے یاد ہے کہ اسی سال ہندوستان سے واپس ہوتے ہی دارالعلوم زاہدان میں عربی لکھنے لکھانے کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں اور الحمدللہ یہ مبارک سلسلہ مزید قوت و ترقی کے ساتھ جاری ہے، بلکہ بہت سارے مدارس کے لیے ایک مثال قائم ہے۔
جب مولانا سید ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ کے وصال کا سانحہ جانکاہ پیش آیا، مولانا سید محمدرابع مدظلہ اور حضرت مولانا سیدمحمدواضح رحمةالله علیه کے زندہ اور جاندار مضامین اور تبصروں ہی سے پیاس بجھاتے رہے۔ حضرت رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد جب ہمارا لکھنو جانا ہوا،ہم لوگ بڑے پریشان تھے کہ پتہ نہیں حضرت ؒ کے بعد وہاں کیا صورت حال ہوگی۔ لیکن جب دونوں عظیم اور باہمت بھائیوں کی زیارت نصیب ہوئی، دو وجہ سے ہماری خوشی اور مسرت کی انتہا نہ رہی؛ ایک یہ کہ ہمارے حضرت ؒ کو اللہ تعالی نے صحیح اور قابل جانشین عطا فرمایاہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ماشاءاللہ سید برادران ایک ہی راہ، سوچ، مشن اور جہت پر چلتے ہیں اور بخوبی حضرتؒ کی خالی جگہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ آج کے مادیت زدہ ماحول اور گوناگوں مصروفیتوں کے زمانے میں اس طرح ساتھ ہونا، ساتھ رہنا، ساتھ سوچنا اور ساتھ کھانااگر عنقا نہیں، کمیاب تو ضرور ہے۔
جب حضرت واضح کے انتقال پرملال کی خبر ملی، بے اختیار متمم بن نویرہ یربوعی کے اشعار یاد آگئے جن کو ام المومنین عایشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی عبدالرحمن کے انتقال کے بعد پڑھی تھیں:
فلمَّا تَفَرَّقْنَا كأَنِّي ومَالِكاً ** لِطُولِ اجْتِماعِ لم نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا
وكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمةَ حِقْبَةً ** مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا
جب یہ اشعار پڑھ رہاہوں، بے ساختہ حضرت مولانا سید محمدرابع مد ظلہ کا چہرہ ذہن میں آتاہے؛ اللہ ہی بہتر جانتاہے اپنے پیارے بھائی کے فراق میں ان پر کیا گزررہا ہوگا۔ مگر اللہ تعالی کی ذات عالی سے یہی امید کرتے ہیں کہ ضرور حضرت والا کو رضا بالقضا کے عظیم مقام سے نوازا ہوگا۔
حضرت مولانا سیدمحمد واضح سے ہماری آخری ملاقات دو سال پہلے رائے بریلی میں ہوئی جب بندہ اور عزیزم مفتی عبدالقادر عارفی نے وہاں حاضری دی۔ دونوں بھائیوں کی مجالس سے اور ان کی بے پناہ محبتوں اور شفقتوں سے لطف اندوز اور محظوظ ہوتے رہے۔ اگرچہ مولانا سید محمدواضح کم گو تھے اور اکثر خاموش ہی رہتے تھے، لیکن جب بات کرتے توان کے مختصر جملے پراثر ہوتے اور دل پر نقش ہوتے تھے۔ رائے بریلی کی ملاقات میں فرمایا آئندہ آپ سے رابطہ رہے گا؛ کیا معلوم تھا کہ اس فانی دنیا میں یہ ہماری ان سے آخری ملاقات ہوگی۔
دل سے دعا ہے اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے آثار جلیلہ و جمیلہ سے امت کو زیادہ سے زیادہ نفع پہنچائے اور ان کی تمام نیک تمناوں کو جامہ عمل پہنائے۔ آمین و هو المستعان