برطانوی دارالحکومت میں مسلمان خاتون نے نقاب پہننے سے منع کرنے پر بیٹی کے اسکول کی انتظامیہ پر مقدمہ کردیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق راشدہ سروغ نے اپنی بیٹی کے ’’ہولینڈ پارک اسکول لندن‘‘ کی انتظامیہ کے خلاف امتیازی سلوک کا کیس دائر کردیا ہے۔ اسکول میں نئے طلبہ کے والدین کے اعزاز میں تقریب ہوئی جس میں باحجاب خاتون راشدہ نے بھی شرکت کی لیکن اسکول انتظامیہ نے انہیں نقاب اتارنے کا حکم دیا۔ انتظامیہ کے لوگ انہیں ایک کمرے میں لے گئے اور کہا کہ اسکول میں نقاب پہننے کی اجازت نہیں بصورت دیگر وہ واپس چلی جائیں۔
راشدہ نے کہا کہ انہیں اس حکم سے شدید صدمہ پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ نقاب پہننے پر لندن کی گلیوں میں لوگوں نے انہیں برا بھلا بھی کہا ہے اور گالیاں بھی دی ہیں لیکن اسکول میں پڑھے لکھے اور خود کو مہذب کہنے والے افراد کے رویے پر انہیں زیادہ افسوس ہوا جس کی وجہ سے انہوں نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…