برطانوی دارالحکومت میں مسلمان خاتون نے نقاب پہننے سے منع کرنے پر بیٹی کے اسکول کی انتظامیہ پر مقدمہ کردیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق راشدہ سروغ نے اپنی بیٹی کے ’’ہولینڈ پارک اسکول لندن‘‘ کی انتظامیہ کے خلاف امتیازی سلوک کا کیس دائر کردیا ہے۔ اسکول میں نئے طلبہ کے والدین کے اعزاز میں تقریب ہوئی جس میں باحجاب خاتون راشدہ نے بھی شرکت کی لیکن اسکول انتظامیہ نے انہیں نقاب اتارنے کا حکم دیا۔ انتظامیہ کے لوگ انہیں ایک کمرے میں لے گئے اور کہا کہ اسکول میں نقاب پہننے کی اجازت نہیں بصورت دیگر وہ واپس چلی جائیں۔
راشدہ نے کہا کہ انہیں اس حکم سے شدید صدمہ پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ نقاب پہننے پر لندن کی گلیوں میں لوگوں نے انہیں برا بھلا بھی کہا ہے اور گالیاں بھی دی ہیں لیکن اسکول میں پڑھے لکھے اور خود کو مہذب کہنے والے افراد کے رویے پر انہیں زیادہ افسوس ہوا جس کی وجہ سے انہوں نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید