ممتاز سنی عالم مولانا عبدالحمید نے ایرانی انقلاب کی 38ویں برسی کے موقع پر اہل سنت زاہدان کے مرکزی اجتماع برائے جمعہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فراخدلی اور نفاذ انصاف کو انقلاب کی حفاظت کے لیے ضروری قرار دیا۔
انہوں نے دس فروری کے خطبہ جمعہ میں کہا: بیداری و ہوشیاری ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ایرانی قوم نے معاصر تاریخ میں سب سے پہلے بیداری کا تجربہ کیا اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ایک آمر حکومت کو گرانے میں کامیاب ہوئی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: استقلال و حق خودارادیت، آزادی اور اسلامی جمہوریہ اللہ تعالی کی بڑی نعمتیں ہیں۔ اگرچہ ہم یہ دعوی نہیںکرسکتے کہ ہمارے تمام قوانین پوری طرح اسلامی ہیں، لیکن پھر بھی ملک میں ایک دینی فضا قائم ہے۔
انہوں نے مزید کہا: انقلاب اور اسلامی جمہوریہ اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں۔ انصاف کی فراہمی ایک دوسری نعمت ہے؛ نفاذ انصاف صرف اس وقت ممکن ہے جب دل بڑا ہو اور وژن بھی محدود نہ ہو۔ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرکے سب کو بازووں میں لینا چاہیے۔ انقلاب کا شکریہ اسی صورت میں ادا کیا جاسکتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: وہ قومیں جنہوں نے اللہ تعالی کی نعمتیں حاصل کیں، جب وہ تنگ نظری اور عدم برداشت کی جانب بڑھے، اللہ تعالی نے اپنی نعمتیں ان سے چھین لی۔ ہمیں اتحاد، یکجہتی اور فراخدلی سے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔