- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

جامع مسجد مکی میں ’سیرت و اتحاد‘ کانفرنس منعقد ہوگئی

زاہدان میں واقع ایرانی اہل سنت کی سب سے بڑی مسجد میں متعدد ملکی و صوبائی حکام کی موجودی میں ’سیرت اور اتحاد‘ کے عنوان سے ایک اہم کانفرنس سوموار بارہ دسمبر کو منعقد ہوگئی۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ (sunnionline.us) کی رپورٹ کے مطابق، مذکورہ کانفرنس میں وفاقی وزیر صحت، گورنر صوبہ سیستان بلوچستان، گورنر ضلع زاہدان، صوبے کے میڈیکل کالجز کے چانسلرز اور بعض ارکان پارلیمنٹ سمیت متعدد دینی شخصیات نے شرکت کی۔
انجینئر یارمحمدی نے اس مبارک جلسے میں سیستان بلوچستان کے عوام کے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے صوبے میں لوگ صحت کے متعلق سہولیات کے حوالے سے سخت مسائل سے دوچار ہیں اور علاج کے لیے یزد، کرمان اور خراسان جیسے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت ضروری کارروائی کرے، یقینا اس سے اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔

مولانا عبدالحمید: امن سے پہلے صحت کا تذکرہ قرآن پاک میں آیاہے
سیرت و اتحاد کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: مجھے چاپلوسی سے نفرت ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈاکٹر ہاشمی (وزیر صحت) موجودہ حکومت کے سب سے محنتی وزرا میں شامل ہیں۔ ان کی کوششیں صحت کے molana-vahdat [1]حوالے سے بہت اہم ہیں۔ قرآن پاک نے اہل جنت کو مخاطب کرکے امن سے پہلے صحت کا تذکرہ فرمایاہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: آپ ﷺ کی رسالت نے عربوں کو متحد کیا اور متعدد قومیتوں کے لوگوں سے امت واحدہ تشکیل ہوئی۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کے مسلمان اتحاد کے بجائے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں اور فرقہ واریت ہر سو پھیل چکی ہے۔ تفرق اور باہمی چپقلش عالم اسلام کے لیے نقصان دہ ہے اور دشمنوں کے مفادات کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان میں امن کی فضا قائم ہے اور ترقی کے لیے سب کچھ تیار ہے۔ امن کی فضا اس وقت محفوظ ہوگی جب ہم ایک دوسرے کا احترام کریں گے۔ جب تمام قومیتوں اور مسلکوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے تو کسی بھی دشمن کو ہماری صفوں میں گھسنے کا موقع نہیں ملے گا۔

گورنر سیستان بلوچستان: تنگ نظر لوگوں کو اپنی نگاہیں بدلنی پڑے گی
جامع مسجد مکی میں انجینئر علی اوسط ہاشمی نے اپنے خطاب میں نبی کریم ﷺ کے وجود مبارک کو مذکورہ کانفرنس کی اساس اور بنیاد یاد کرتے ہوئے کہا: نبی کریم ﷺ مسلمانوں کو جوڑنے کے ذریعہ ہیں۔ توڑ پیدا کرنا آپ ﷺ کی راہ سے انحراف و دوری ہے۔ hashemi-vahdat-makki-2 [2]
گورنر سیستان بلوچستان نے مزید کہا: اہل سنت ایران کی عقلمندی اور بصیرت جو قرآن و سنت سے ہمکنار ہے، سب سے بڑا قومی موقع ہے؛ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، لیکن صرف چند عہدوں کی تقسیم سے نہیں!
انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ رحمت للعالمین تھے صرف رحمت للمسلمین نہیں تھے۔ ہمیں اپنی نگاہوں میں وسعت لانی چاہیے۔ اتحاد بشریت کی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کو محور بناکر مسلم ممالک کو اکٹھے کرنا چاہیے۔ پرانی سوچوں کو تبدیل کرکے ہمیں اپنی افکار میں نظرثانی کرنی چاہیے۔

وزیر صحت: قومیتیں اور مسالک ملک کی عزت ہیں
سیرت و اتحاد کانفرنس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر سید حسن ہاشمی تھے جو صدر روحانی کی کابینہ میں وزیر صحت، علاج اور میڈیکل تعلیم ہیں۔ hashemi-vahdat-makki [3]

انہوں نے اپنے خطاب میں ایرانی قومیتوں اور مسلکوں کو اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت یاد کرتے ہوئے کہا: ہمارے وطن کے عوام سمجھدار، وفاشعار اور باشعور ہیں۔ اس ملک میں متعدد لسانی و مسلکی اور مذہبی اکائیوں کی موجودی باعث فخر ہے۔
ڈاکٹر ہاشمی نے نبی کریم ﷺ کو اتحاد کا محور یاد کرتے ہوئے کہا: اتحاد کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تمام قومیتیں اور مسالک ایک دوسرے میں مدغم ہوجائیں۔ ہمارا اتحاد دشمن کے خلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہونے میں ہے۔ جب ڈیڑھ ارب مسلمان متحد ہوجائیں کون ان کے خلاف آسکتاہے؟

بات آگے بڑھاتے ہوئے ایرانی وزیر صحت نے سیستان بلوچستان میں ’آلودہ نگاہوں‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان پر جو ایک بہت بڑا ظلم ہواہے، وہ آلودہ نگاہیں ہیں۔ ایران کی بنیاد اسی خطے میں رکھی گئی اور ایران پر اس صوبے کا احسان ہے۔ امید ہے سرکاری ٹی وی اس صوبے میں موجود اتحاد و یکدلی کی قائم فضا کو پوری دنیا تک پہنچائے گی۔
ڈاکٹر ہاشمی نے مزید کہا: صوبہ سیستان بلوچستان کے عوام ہرگز امتیازی رویے کو نہیں مانتے۔ یہ امتیازی سلوک گزشتہ حکومتوں میں موجود تھا۔ اعلی عہدوں کی تقسیم میں بھی شیعہ و سنی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔

سیرت و اتحاد کانفرنس کے آخر میں مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے وزیر صحت کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قرآن پاک کا ایک نسخہ تحفہ میں پیش کیا ۔